تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

دعااوردوا

ہم نے زندگی میں کئی بار بلکہ بار بارسنا ہے ” شیرخواربچے رو تے ہیں توانہیں ماں سے دودھ ملتا ہے ”،اگر بچوں کوکھیلتے ہوئے چوٹ لگ جائے یاکوئی دوسراانہیں مارے تواس صورت میں بھی وہ اپنی ماں کی طرف دوڑتے اوراس کی آغوش میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ ہرمعاشرے میں ماں باپ کی محبت سودوزیاں سے بے نیازہوتی ہے اور لوگ اس والہانہ محبت کی مثال دیتے ہیں۔ہماراقادروکارسازاللہ رب العزت اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ پیارکرتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے ہمارے تعلق کی مضبوطی ہمارے فائدے میں ہے،زندگی بھرہرحال میں اسے پکارنا بندگی کاتقاضا ہے۔اللہ تعالیٰ کے قرب کاراستہ کرب سے ہوکر گزر تاہے۔ہرامتحان میں اللہ تعالیٰ سے امان طلب کریں،بیشک اس کے سواکوئی شافی اورقادروکارساز نہیں۔درود سے کروناکونابود کیاجاسکتا ہے۔معبودبرحق اپنے بندوں کوزندگی بھر نوازتااور آزماتا رہتا ہے،وہ ہمیں نہیں ہم اسے جوابدہ ہیں۔ہماراخالق ہمیں آزمائے یہ اس کاحق ہے،دعا ہے الرحمن کے رحم وکرم سے ہم ہرامتحان میں کامیاب وکامران رہیں۔یہ دنیاایک امتحان گاہ ہے اورمختلف امراض درحقیقت اہل اسلام کو آزمانے اوران کے درجات بلندکرنے کیلئے ہیں۔باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے سوال کیا،اے اللہ تعالیٰ کے شیرہمارے ساتھ جوواقعہ پیش آیا وہ امتحان ہے یایہ سزا،ہم یہ کس طرح طے کرسکتے ہیں توفاتح خیبر نے فرمایا جس حادثہ کے بعد انسان اللہ تعالیٰ کے مزید قریب ہوجائے وہ امتحان ہے اورجوسانحہ اللہ رب العزت سے دورکردے وہ سزا ہے،اس اعتبار سے کروناعذاب نہیں بلکہ قدرت کی طرف سے انسانیت کا امتحان ہے۔اللہ تعالیٰ کے محبوب اورانسانیت کے طبیب سرورکونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت دوسرے پیغمبراورصحابیٰ اکرام بھی علیل اوربعدازاں روبصحت ہوتے رہے۔ اللہ تعالیٰ کے کئی اولیا اگربیمارنہ ہوتے تویہ سوچ کرپریشان ہوجاتے شاید ان کامعبود ان سے ناراض ہوگیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافرمان ذیشان ہے،”بیماری مانگنا حرام لیکن اگر آجائے تو پھررحمت ہے، بیماری سے تندرست ہونیوالے انسان ایسے ہو تے ہیں جس طرح آج ہی پیدا ہوئے ہوں۔جس کاوبائی بیماری کے سبب انتقال ہو وہ شہید ہے”۔کروناوبا آنے سے دنیا بدل گئی ہے اور زیادہ تر لوگ اس کرب کے بعد معبودبرحق کا قرب تلاش کررہے ہیں۔امریکا کے ایک چرچ میں ڈونلڈٹرمپ اوروہاں کی سیاسی اشرافیہ کی موجودگی میں قرآن مجید فرقان حمید کی آیات ترجمہ کے ساتھ تلاوت کی گئی ہیں۔کرونانے زیادہ ترانسانوں کے اندر مردہ انسانیت کو کافی حدتک زندہ کردیا ہے۔جس روزانسانوں میں انسانیت پوری طرح زندہ ہوگئی اس دن فلسطینیوں اورکشمیریوں کی آزادی کاسورج طلوع ہوجائے گا۔
ہمارے ہاں زیادہ تر افرادکا اپنے بیمارہونیوالے عزیزواقارب سے ابتدائی سوال یہ ہوتا ہے،”ڈاکٹر سے رجوع کیا” کوئی یہ نہیں کہتا ”اللہ تعالیٰ سے رجوع کیا”۔ہمارادوسراسوال ہوتا ہے ڈاکٹر نے کیا” دوا”دی اور کیا پرہیزبتایا کوئی یہ نہیں کہتااپنے ماں باپ یا کسی بزرگ سے” دعا” لی۔ہم اپنے بیمار کی شفاء کیلئے دوردراز ڈاکٹرورطبیب کے پاس توبار بار جاتے ہیں مگرجوشہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے اس کے پاس ہرطرف سے مایوس ہونے کے بعدجاتے ہیں۔ہم اپنے قادروکارساز،قوی،توانااورداناوحکیم ربّ کوبائی پاس اوراس کی پاک بارگاہ میں ”دست دعا ” دراز کئے بغیر ڈاکٹرزاور”دوا”کے پیچھے بھاگتے ہیں۔”دوا”اثرکرے نہ کرے مگر” دعا” سے کایا ضرورپلٹ جاتی ہے۔جہاں ڈاکٹرزاورمیڈیکل سائنس کی بس ہوجاتی ہے وہاں وہ بھی ورثا کواپنا مریض واپس گھر لے جانے اور اس کیلئے دعاکرنے کا مشورہ دیتے ہیں توپھر کیوں نہ بیماری سے نجات اورشفاء کی شروعات” دعا” سے کی جائے اوراس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر یاطبیب کی بتائی ہوئی ”دوا” استعمال کرنے میں کوئی برائی نہیں۔راقم کاماننا ہے جواپنے پیاروں کی” دعا” میں شامل ہووہ ”دوا”کامحتاج نہیں رہتا۔انسان مانگے جانے پرجبکہ عظیم المرتبت اللہ رب العزت خود سے کچھ نہ مانگے جانے پرناراض ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ یعنی عبادت اوراس سے اپنی ہرضرورت طلب کرنا بھی سعادت ہے۔کروناکے ڈر سے ان دنوں صرف ہاتھ دھونے پرزور ہے جبکہ کلمہ طیبہ پڑھ کرہاتھ دھونازیادہ افضل ہے۔کروناکے بچاؤکیلئے گرم پانی پینا اہم ہے لیکن اگر پانی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ،بیٹھ اورٹھہر ٹھہرکرپیا جائے تووہ بیماراورتندرست انسانوں کیلئے دوابلکہ شفاء بن جاتاہے۔انسانیت کوجوعلم دین فطرت نے اپنے ظہور کے بعد دیاوہ معلومات آج ڈاکٹرزدوہرارہے ہیں لہٰذاء اسلامیت اورروحانیت کے بغیر انسانیت کاکوئی وجوداورمستقبل نہیں۔ کرونا کے ڈرسے ہاتھ بار باردھونا حفاظتی تدابیر کے زمرے میں آتا ہے لیکن پانچ وقت نمازکااہتمام صفائی کامفیداورموثرترین نظام ہے۔جولوگ نماز کیلئے پندرہ منٹ اپناکاروبار بند نہیں کیا کرتے تھے آج وہ پندرہ روزکیلئے بندکرکے بیٹھے ہیں۔کرونابھی ہماری طرح اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے،خالق سے ڈرنے والے کسی مخلوق سے نہیں ڈراکرتے تاہم اختیاطی تدابیر اختیارکرناازبس ضروری ہے۔اسلامیت،روحانیت اور انسانیت کاآپس میں بہت گہراتعلق ہے۔آج کفار بھی کرونا سے نجات کیلئے دعاؤں کی دوہائی دے رہے ہیں،جو نام نہاد عالمی ضمیرفلسطینی،روہنگیا،کشمیری،شامی اوربھارتی مسلمانوں کی چیخوں سے نہیں جاگااسے ایک معمولی کرونانے جھنجوڑ بلکہ بھنبھوڑدیا ہے۔یقینا ہرشر میں خیرہوتی ہے،کرونا کے شر سے یقینا خیربھی برآمدہوئی ہے لیکن ہرکسی کواس کی سوجھ بوجھ نہیں۔جس طرح ابابیل ہمارے قادروکارساز اورقوی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اس طرح کرونابھی معبود برحق کی تخلیق ہے،ابابیل نے بیت اللہ کی حفاظت کیلئے جوکیاوہ تاریخ کاروشن باب ہے،کرونا نے بھی انسانیت کوجھنجوڑتے ہوئے انسانوں کوبیدارکردیا ہے۔مغرورنمرودبہت” مچھر ”گیا تھا پھراسے ایک مچھر نے موت کے گھاٹ اتاردیا۔اپنے ہاتھوں سے ایٹم بم اورچندلمحات میں کئی ملین انسانوں کولقمہ اجل بنانیوالے انسان آج ایک حقیر کرونا کے مقابلے میں زچ ہوگئے ہیں،ہماری نگاہوں کے روبروہمارے پیاروں کاانجام قدرت کاایک خاموش پیغام ہے۔
عہدحاضر کے کئی مسلمان اپنے اللہ تعالیٰ اوراس کے محبوب سرورکونین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوٹوک احکامات پر” حرام” نہیں چھوڑتے مگر ڈاکٹرزکی نصیحت اوران کے نسخے پر”حلال” بھی چھوڑدیتے ہیں۔اگرعوام کو جنت نظیر وادی کشمیر کے معتوب کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی خاطر چند گھنٹوں کیلئے اپنی اپنی جنت سے باہر نکلنا پڑے تووہ نہیں نکلتے جبکہ آج ان کی صحت وسلامتی کیلئے انہیں گھروں تک محدود رہنے کیلئے زوردیاجارہا ہے مگر وہ مسلسل ہجوم کارخ کررہے ہیں۔اس سلسلہ میں ایک کہاوت عرض ہے،ایک باریش مسافر دوران سفرپیاس کی شدت سے نڈھال ہوگیا، اس کی پیاس،آس اورتلاش اسے ایک کنویں تک لے گئی مگراس کاپانی کافی گہرائی میں تھا۔مسافر نے اپنی سفیدچادرسے اپناجوتاباندھ کر کنویں میں لٹکاتے ہوئے پانی نکالنا چاہا مگرمتعدد بارکوشش کرنے کے باوجود ناکام رہااس اثناء میں ایک ہرن بھی اپنی پیاس بجھانے وہاں آگیا اس نے ایک پل کیلئے کنویں میں جھانکااوردوسرے لمحے اس نے اپناچہرہ عرش کی سمت بلندکرتے ہوئے اپنے اندازمیں اللہ تعالیٰ سے فریادکی اوردیکھتے دیکھتے کنویں کاپانی بلندہوتے ہوتے اس کی سطح تک آپہنچا جب ہرن سیراب ہوگیا توکنویں کاپانی دوبارہ نیچے اتر گیا،اس باریش مسافر نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا،میں انسان اوروہ ایک حیوان مگر تونے اسے سیراب کردیا جبکہ میں پیاسا رہا،غیب سے آواز آئی اس حیوان نے مجھ پرانحصار کیا اورمجھے مددکیلئے پکاراجبکہ تواپنے طورپرکوشش کرتارہا۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے،انسان میرے بارے میں جیساگمان رکھتا ہے میں اس کیلئے ویسا ہی ہوں۔یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاؤں اورایک دوسرے کے ساتھ وفاؤں کاوقت ہے۔اللہ تعالیٰ کے رحم کاراستہ صلہ رحمی سے ہوکرگزرتا ہے۔
کرونا”امتحان ” میں ہمارے شعبدہ بازحکمران اورسیاستدان بری طرح” فیل” ہوگئے۔ارباب اقتدار سمیت منتخب نمائندے سرکاری جبکہ اہل سیاست اپنے نجی محلات میں محصور ہیں جبکہ ا ن کے کرنیوالے کام بھی پاک فوج کے جانباز،رینجرز کے سرفروش اہلکار اورپولیس کے فرض شناس جوان کررہے ہیں۔کہاں ہے وہ مٹھی بھرطبقہ جوکہتا تھا فوج کاآئینی طورپر دفاع کے سوا کوئی کردارنہیں۔پاک فوج نے ہرزمینی وآسمانی آفات کے دوران اپنے ہم وطن مصیبت زدگان کی بحالی وآبادکاری کیلئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں،ہماری” موج” ہماری” فوج ”سے ہے۔پولیس کوگالیاں دینے والے بھی دیکھیں وہ کس طرح اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر شہریوں کو کروناسے بچانے کیلئے سرگرم ہیں۔پاکستان اورپاکستانیوں کیلئے پاک فوج،رینجرز اورپولیس سمیت دوسری سکیورٹی فورسز کادم غنیمت ہے۔عوام حکمرانوں اورسیاستدانوں کی آنیاں جانیاں ضروردیکھ رہے ہیں مگر صورتحال جوں کی توں ہے۔اہل سیاست کے درمیان جاری بلیم گیم اوران کے متعدد منفی اقدام کے سبب کروناوبا کے بارے میں مزید ابہام پیداہورہے ہیں۔سوشل میڈیا پرہر کسی نے کرونا کی آڑ میں اپنااپناچورن بیچناشروع کردیا،سوشل میڈیا پر”شعور” سے زیادہ ” شور”،” شر”اور”ڈر” ہے۔سوشل میڈیاوہ شتربے مہار ہے جوحکومت کی رِٹ اوراخلاقیا ت کو نہیں مانتا۔حکمرانوں نے شروع میں خودکروناکاڈر پیداکیا اوراب کہاجارہا ہے کروناسے ڈرنانہیں لڑنا ہے۔جس وقت ہمارے دوست اورہمسایہ ملک چین میں کروناکاڈراؤنا”ڈیتھ شو”شروع ہوا تھااوروہاں موت نے دستک دی تھی اسی وقت پاکستان میں ضروری حفاظتی انتظامات اوردوررس اقدامات شروع کردیے جاتے ہیں تویقینا آج صورتحال بہت مختلف ہوتی۔

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker