تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

ڈگڈگی

sheer awanاگرچہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کوئی ذات چھوٹی یا بڑی نہیں ہے کیونکہ انسان کی پہچان ذات پات نہیں اس کے کردار سے ہوتی ہے لیکن پھر بھی پاکستان کے جاگیردار کچھ لوگوں کو کم ذات گردانتے ہیں عرف عام میں اسے "کمی "کہتے ہیں۔کمی امیروں کے گھروں میں دن رات کام کر کے دال روٹی حاصل کرتے ہیں اور کوئی وڈیرہ جب چاہے انہیں ذلیل و رسوا کر دیتاہے۔اسے مار پیٹ ،گالی گلوچ کرنا اوراسکی عزت کٰی دھجیاں اکھاڑنا بڑے لوگوں کا وطیرہ رہا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کچھ تبدیلی ضرور آئی اور آج کل تو "کمی "کو گالی دیں تو وہ آگے سے دس سناتا ہے،اینٹ کا جواب پتھرسے دیتا ہے وہ جو غلامی در غلامی کے اندھیروں میں اپنی غیرت اور عزت نفس گنوا بیٹھے تھے انکو بھی احساس ہونا شروع ہو گیا ہے لیکن صد افسوس کہ وطن عزیز کے ٹکرے کرنے کی بات کی جاتی ہے ،سر زمین پاک کو جلانے کی دھمکی دی جاتی ہے تو کسی کی آواز بلند نہیں ہوتی۔ چیف جسٹس،آرمی چیف یا کوئی بھی بڑا سیاسی لیڈر آواز نہیں اٹھاتا ۔ کسی کی غیرت کا چراغ نہیں ٹمٹماتا۔کیا سرحدوں کی رکھوالی فوج کے عظیم سپہ سالار کی طرف سے یہ تنبیہ ضروری نہیں تھی کہ” وطن عزیز کی سالمیت کے خلاف بیان بازی سے باز رہا جائے”۔مٹھی بھر لوگوں کی مٹھیاں کھولنے اور تلوار اٹھانے ،ملک کی انیٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں تو ملک کے سپوت خواب خرگوش کیوں رہتے ہیں۔سرحدوں پر،بلوچستان میں،خیبر پختونخواہ ،اور ملک کے چپے چپے پر اپنا خون دے کر بغاوتوں کو کچلنے والی پاک فوج کو قوم سلام پیش کرتی ہے لیکن ساتھ یہ سوال بھی کرتی ہے کہ کیا پورے جسم کی حفاظت کرنے والے اپنی شہ رگ کی حفاظت کی سکت نہیں رکھتے؟اور اگر فوج مختلف مسائل میں گھری ہوئی ہے تو سول ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں ؟ کیا داخلی معاملات انکی ذمہ داری نہیں ہے ۔اگر سارے کام ISI اور فوج نے ہی کرنے ہیں تو پولیس اور سول ایجنسیوں کا بوجھ گراں یہ قوم ناتواں کیوں اٹھا رہی ہے؟
کون پوچھے گا کب پوچھے گا۔ کس کی آشیرباد پہ یہ ملک کی تقسیم کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھر بھیگی بلی بن کے اپنے الفاط سے مکر جاتے ہیں اور قوم کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو آپ نے سنا اور جو وڈیو میں دیکھا وہ کہا ہے اور جیسا سنا ویسا ہی کہا لیکن آپ ساری قوم اجڈ اور گنوار ہیں اس لیے آپکو سمجھ نہیں آئی۔کس لیے میٹرو پولیٹن کوئی کاروائی سے گریز کرتی ہے۔کیا ماجرہ ہے اب تو کسی حصے کو الگ کرنے کی بجائے بیان بدل گیا کہ جو ہم چاہتے ہیں مانو ورنہ پاکستان ہی نہیں رہے گا۔کیا یہ اعلان جنگ نہیں ہے کیا یہ ملک سے غداری اور بغاوت نہیں ہے ۔انہیں کیوں کاالعدم قرار نہیں دیا جا رہا ۔کوئی مذہبی جماعت ریاست کے اندرریاست کی بات کرے یا کوئی خلاف قانون بات کر دے تو فورا کاالعدم قرار دیا جاتا ہے لیکن سیاسی چھتری کے نیچے کھلی بغاوت کے لیے انکو کھلی چھٹ کیوں دے رکھی ہے؟۔
پچھلے پندرہ سال سے ڈکٹیتر اور جاگیرداروں کی گود میں بیٹھ کے جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام کے خاتمے کے عہدوپیماں باندھنے والے اور بااختیار عوام کا منشور پیش کرنے والے عوام کو ووٹ خود کاسٹ کرنے کا حق دینے کو تیار نہیں۔بے ایمانی اور دھاندلی کے ثبوت انکا منہ چڑھا رہے ہیں،خطبہ حجتہ الوداع کو اپنا منشور کہنے والے بین اقوامی میڈیا پر سب کو بتاتے ہیں کہ مجھے بہن کی گالی دینی آتی ہے،خود کو قائد کا جانشیں کہنے والے ہر آئے دن انکی ذات پر ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں،خود کو پاکستانی کہنے والے دشمن ملک میں جا کر قیام پاکستاں کو تاریخ کا سب سے بڑا بکواس کہتے ہیں،ملک سے محبت کے جھوٹے دعوے کرنے والے ملک کی تقسیم کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ملک کی ترقی کی خواہش ظاہر کرنے والے اسے آگ لگانے کی بات کرتے ہیں ،ملک کی انیٹ سے اینٹ بجانے کی بات کرتے ہیں ۔اور ان عظیم خوبیوں کے باوجود ہم ان مکروہ چہروں کو شرف نظر بخشتے ہیں انکو قومی لیڈر کہتے ہیں اور انکے نام کے ساتھ حسین جیسا پاک لفظ اور بھائی جیسا عظیم رشتہ بھی لکھتے ہیں ۔کیا کوئی بھی زندہ ضمیر نہیں ہے۔
ٹی وی اینکرز کو سرعام موت کی دھمکی اور اپنے جیالوں کو صحافیوں کے قتل کا اشارہ دینا اور الیکشن کمشن کو واضح دھمکی دینا کہ آپ کو ملک میں کہیں جگہ نہیں ملے گی،کیا اس پہ حکومت کوئی ایکشن لے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پارٹی کا کچھ مینڈیٹ ہے وہ گن پوائنٹ سے ہو یا جو بھی لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس بات کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیے کہ اپنے اعمال سے خوفزدہ باہر بیٹھے ہوئے بہادری کے دعوی دار ملک میں جب چاہیں ہڑتال کروا دیں جب چاہیں ہنگامے کرا دے۔اس سے پہلے کہ ہر محب وطن سر پر کفن باندھے ملک کے قدآور شخصیات کو اس کے خلاف ایکشن لینا چاہیے اور وہ بھی جلد۔کوئی حکومت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ دوہری شہریت والا کوئی شخص دوسرے ملک کو جلانے کے بیانات جاری کرے اس لیے اعلی سطح پر سخت اور حتمی تنبیہ بہت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت کو آئندہ بھی اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا، نوازشریف

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker