تازہ ترینکالم

دکھ بھری کرکٹ

تب بھی پاکستان اور آسٹریلیا ورلڈ کپ کے فائنل میں آمنے سامنے تھے ۔ آسٹریلیا میں تو کیا ہو رہاتھا مجھے نہیں معلوم۔ البتہ پاکستان میں خوشیو ں اور خدشات دونوں کا ہجوم تھا۔ سٹہ لگ جانے کا ڈر بھی جان لیوا تھا۔ کھلاڑیوں کے کردار کے بارے میں بھی کافی دل پریشان تھے جب ہم ملکی سطح پر ڈالر دیکھ کر پھسل جاتے ہیں تو کھیل کے میدان میں پھسل جانا توویسے بھی کھیل کا حصہ ہے ۔ میرے ایک دوست نے خاصا اہتمام کیا ۔ کھانے کا بندوبست کیا لیکن ابھی اس کے مرغے ذبح ہونے کے انتظار میں اذانیں دے رہے تھے کہ میچ ختم ہوگیا۔ پاکستانی ٹیم نے رنزوں کی ایک چھوٹی سی ڈھیری لگائی جسے کینگروز نے اپنے پنجوں تلے فلیٹ کردیا۔ بس اسی دن کے بعد میں نے کرکٹ کو جذبات کے ساتھ مذاق کا کھیل قرار دے کر خیر باد کہہ دیا۔ اس کے بعد سے لیکر آج تک میں نے کوئی میچ نہیں دیکھا ۔ یہ ویلے ملکوں کے ویلے پلیئرز اور عوام کا کھیل ہے ۔ ورلڈ کپ بھی جیسے ہم جیتے وہ خود ایک مذاق تھا ۔ وہ اس کو ہرائے اس کا اس کے ساتھ میچ ڈرا ہوجائے فلاں کے میچ میں بارش ہوجائے ۔ دعائیں کام کر جائیں فلاں کا رن ریٹ بڑھ جائے اور ہم کسی نہ کسی طرح فائنل میں پہنچ جائیں اور پھر فائنل میں بھی دعائیں کام کر جائیں اور ہم ورلڈ چیمپئن بن جائیں۔ یہ تو تھا احوال ہمارے ورلڈ فاتح بننے کا ۔ ابھی چند دن پہلے قوم کو پھر سے دو صدموں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اطلاعات کے مطابق ایک کپ کا فائنل میچ ہم ہارے اور دوسرے کے کوارٹر فائنل میں شکست نے استقبال کیا۔ عوامی موڈ اور درجہ حرارت کافی دن تک بگڑا رہا ۔ موجودہ چیئرمین صاحب نے کافی ردوبدل کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ کافی بڑھکیں بھی ماریں۔ ان کے تمام ایوبی اقدامات کا نتیجہ پھر سے مسٹر ٹک ٹک کو کپتان بنانے کے اعلان کی صورت میں نکلا۔ ویسے بھی ان کو اس بات سے کیا غرض ان کا تو وہ حال ہے کہ کوئی جیوے بھانویں مرے ساڈے سو کھرے۔ نہ کبھی وہ رنگ میں اترے بس اعزازی عہدہ اور کیمروں کے سامنے آنے کا موقع ہی کافی ہے ۔
آخر ہم نجانے کیوں ہر میچ کے آغاز میں یہ خواب دیکھتے ہیں کہ بس آج فاتح ہماری ہی ٹیم ہو۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ ہم جیت کے بارے میں کس قدر ہوس ناک ہیں ۔ہم بھلے ہی اور ہر زندگی کے میدان میں شکست خوردہ قوم ہیں لیکن جیت اور وہ بھی کرکٹ کے میدان میں ہر قیمت پر چاہیے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا امریکہ کی کرکٹ ٹیم ہے جرمنی والے اس کھیل سے کیوں دور ہیں ۔ فرانس ،سپین ، اٹلی،جاپان سب اس کھیل سے دور ہیں ۔ برطانیہ کی مجبوری کہ ان کا قومی کھیل اوپر سے ان کا مزاج شاہانہ ۔ آسٹریلوی لوگ ان کا بھی فاضل بے کار خون۔ یا ہم ایشیائی لوگ اس بے کار کے جنون میں مبتلا ہیں۔ جیت کی تمنا یہ تک سوچنے سے محروم کردیتی ہے کہ دوسری ٹیموں کے کھلاڑی بھی آخر اڑن کھٹولوں میں ہزاروں میل سفر طے کرکے جیتنے کا خواب ہی لے کر آئے ہیں ان کے بلے بھی لکڑی کے بنے ہیں۔ ان کے جسم میں بھی خون زندگی بن کر دوڑتا ہے ۔ وہ بھی بیٹ پیڈ ہیلمٹ اور اپنے عوام کی خواہشات اور دعاؤں کا بوجھ لے کر میدان میں جیتنے کے لئے اترتے ہیں ۔لیکن ہم جذباتی قوم یہ سب بھول جاتے ہیں اور اوپر سے ہمارے کھلاڑی۔ ایک وقت آنے والا ہے جب ان کی جیت کے لئے ضروری ہوگا کہ دوسری ٹیم روحانی طور پر ان کے ساتھ میچ کھیلے ۔ مطلب یہ کہ گراؤنڈ میں ہمارے شیر ہوں اور بس ۔لالا آفریدی کے بھلے ہی ہم جتنے مداح ہوں یہ ماننا پڑے گا کہ ان کی ٹیم میں آمد کے بعد سے قومی ٹیم دس کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترتی ہے کیونکہ ان کا اپنا وجود تو نہ ہونے کے برابر ہی ہوتا ہے ۔ ماسوائے چند اننگز کے اکثر اوقات وہ بس آنے اور پچ کو ٹھوکنے کا کام کرتے ہیں ۔کیا ایسے پلیئر کو کھلانے کی کوئی تک ہے کہ جس کو اپنے جذبات پر قابو نہ ہو ۔ سپورٹس مین اسپرٹ نہ قوم میں ہے نہ پلیئرز میں ۔ کیا دو چھکے اس کے بعد میچ ختم ہو جاتاہے ۔ کیا ایک تیز رفتار سنچری کے بعد بس اس کے آسرے پر پوری زندگی گزار دی جائے ۔ اگر یہی ٹھیک ہے تو ٹنڈولکر جیسا شخص کرکٹر کہلانے کا حقدار نہیں اور اگر ٹنڈولکر کرکٹر ہے سٹار ہے تو آفریدی نام کا بوجھ قومی ٹیم کو ان لوڈ کر دینا چاہیے ۔ نان پر فارمرز کے لئے خداحافظ کا بورڈ آویزاں کردینا چاہیے۔ نئے جوان بھی زیادہ سے زیادہ یہی گل کھلائیں گے کہ جو اب تجربہ کار بوڑھے دکھارہے ہیں ۔ کم از کم اتنا تو ہو کہ دل ناتواں نے مقابلہ تو خوب کیا کے فقرے پر ٹیم عمل درآمد کرتی اور کرکٹ ہوتی نظر آئے ۔ قومی ٹیم اور قوم دونوں کو اپنے رویے بدلنے کی ضرورت ہے ۔یہاں ایسے باؤلرز کو ہم نے کھلا کھلا کر اسٹاربنایا کہ جن کی لائن و لینتھ خراب ہوتی تھی تو پھر وائیڈ اور نو بالز کی قطار لگ جاتی تھی ۔ وائیڈ بالز بھی اتنی وائیڈ کہ بھلے دو وکٹ کیپرہوں اس کے باوجود بھی گیند قابو سے باہر ۔ ان پلیئرز کو ورلڈ کپ کی جیت کا سہرا باندھا گیا کہ جو بلے کو چھری سمجھ کر میدان میں اترتے تھے اور کثر اوقات بلا نماچھری ان کے پیڈز کے درمیان رہ گئی اور بال سیدھی وکٹوں میں ۔جو کرکٹ کھیلنا جانتا ہو اسے ہی قومی ٹیم کا حصہ بنایا جائے پریشر میچز کی بات الگ ہے ۔ کیونکہ انڈر پریشر تو ہمارے سیاستدان بھی جھک جاتے ہیں ۔ انڈر پریشر تو ہمارے سرکاری اہلکار بھی پرفارم نہیں کرپاتے ہیں ۔ تو یہ تو پھر امن کے سفیر کرکٹ پلیئرز ہیں ۔ لیکن یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ جس ملک میں جعلی ڈگری ہولڈرز ملکی باگ ڈور سنبھالے ہوں ۔ واجبی تعلیم کے حامی سیاست اور حکومت پر چھائے ہوں ۔ وہاں بھلا کرکٹ کی سوجھ بوجھ رکھنے والے پلیئرز اور کوچز کا کیا کام ۔ لے دے کر عوام کو ہی اپنی توقعات کم اور تسبیح مصلے کے ساتھ رجوع میں اضافہ کرنا چاہیے ۔ امید ہے کہ آئندہ کرکٹ بورڈ چند جیدقسم کے مولانا حضرات بھی ٹیم کے ہمراہ روانہ کرے تاکہ جو ٹیم کی کارکردگی کو اپنی دعاؤں کے اثر سے بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker