شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / دنیا میں بستے ہیں لوگ کیسے کیسے۔۔۔۔؟

دنیا میں بستے ہیں لوگ کیسے کیسے۔۔۔۔؟

اگراخبارات میں چھپنے والی خبروں میں کسی بھی محکمے یا شعبے کی اچھی کارکردگی کاذکر ہوتا ہے تو وہ ہمارے ملک میں سب سے ایماندار اور فرض شناس محکمہ ،محکمہ پولیس ہے ہمارے ملک میں ایسا اور کوئی محکمہ نہیں ہے جس کی ایمانداری اور بروقت کاروائی سے قارئین کے دل متاثر نہ ہوتے ہوں،ہر روز اخبارات میں چھپنے والی خبروں میں سب سے زیادہ خبریں پولیس کی ہوتی ہیں ۔کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ اخبارات کی خبروں میں پولیس کی رحم دلی اور بروقت کاروائی کی اس طرح تعریف کی جاتی ہے کہ پڑھنے والوں کو محکمہ پولیس سے نفرت مجبوراً اپنے دلوں سے نکالنا پڑتی ہے ۔معزض قارئین آپ کو ہر روز اخبارات میں اس طرح کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ SP S کے حکم پر فلاں SHO نے فحاشی اورجوئے کے اڈے پر چھاپہ کر کے اتنے لوگوں کو رنگے ہاتھوں پکڑلیا کہ اس میں SP S کا ہی قصور ہے اس نے شریف شہریوں کو پریشان کیا ۔ورنہ SHO تو اتنے فرض شناس ہیں کہ گزشتہ دنوں کی طرح آئندہ بھی چشم پوشی کرتے رہتے کیونکہ اسلام میں دوسروں کے عیب چھپانے کا حکم دیاگیا ہے نا۔ اس میں محکمہ پولیس کا کیا قصور ہے ۔اس محکمہ کی کارکردگی کا ایک اور ثبوت پیشِ خدمت ہے
جیسا کہ پچھلے دنوں اخبار میں پولیس کے حسن کارکردگی کے بارے میں کئی خبریں چھپی لیکن سب خبروں کا احاطہ کرنا ممکن نہیں اس لیے اس کالم میں صر ف ایک ،دو خبروں کا ہی ذکر کیا جائے گا۔صفحہ اول پر لاہور کے ایک تھانہ میں خاک روب کی زیرحراست موت اور قصور کے 2مختلف تھانوں میں 2 افراد کی زیرحراست اموات کی خبریں چھپی ہوئی تھیں۔خاک روب پولیس کے تشدد کی وجہ سے مر گیا ویسے ان میں فرق کچھ خاص نہیں ہے۔،خاک روپ سڑکوں کی صفائی کرتا ہے اور پولیس جسموں کی اس لحاظ سے دونوں شعبوں میں گہرا تعلق ہے
جیسا کہ آپ جانتے ہیں DIG ذوالفقار احمد چیمہ شیخوپورہ ریجن کی بار بار ہدایت کے باوجود تمام تھانوں میں غیر قانونی حراست اور تشدد آج بھی جاری ہے۔پچھلے دنوں ڈسٹرکٹ قصور کے تھانہ مصطفیٰ آباد کےSHO عبدالغنی نے خالد کو گرفتار کر کے 2دن غیر قانونی حراست میں رکھ کرشدید تشددکیا جس سے وہ حوالات میں ہی دم توڑ گیا۔بعد میں SHO کے خلاف قتل کا مقدمہ تو درج کر دیا گیا مگر آج تک سابقہ SHO عبدالغنی کو پیٹی بھایوں نے گرفتار کر کے حوالات میں بند تک نہیں کیابلکہ نئے SHO نیاز خان کی خاص مہربانیوں کی وجہ سے قتل کا ملزم عبدالغنی آزاد پھر رہا ہے۔ اسی دوران تھانہ صدر کی چوکی کھاراکے انچارج امجد نوکی ASI نے ایک نوجوان طالبعلم کو گرفتار کیا اور 3 دن تک غیرقانونی حراست میں رکھا اور شدید تشدد کانشانہ بنایا جس پر طالبعلم رضوان نے دم توڑ دیا۔چوکی انچارج کے خلاف مقدمہ درج ہے مگر وہ صاحب بھی آج بھی آزاد پھر رہے ہیں ۔ویسے ایک بات ہے ،تھانے میں جب کسی نئے مرغے کو لایا جاتا ہے توتھانے دار سب سے پہلے اپنے ماتحتوں کو اس کی صفائی کا حکم دیتا ہے گھڑی اور جیب کی صفائی کے بعداسے زمین پر لٹا کر چھتر پریڈشرو ع کر دی جاتی ہے جو اسکی جسمانی صفائی کا پہلا عمل ہوتا ہے۔اس عمل میں تو بعض اوقات ملزم صفحہ ہستی سے بھی صاف ہو جاتا ہے بہر حال موت بر حق ہے اور موت کا ایک وقت مقرر ہے ۔اگر کاتب تقدیر نے اس شخص کی موت تھانے جیسی پر شکوہ جگہ پر لکھی ہوئی ہے تو اس میں ناراضگی کس بات کی ہے۔ اس میں بھی قصور متوفی کا ہی ہے کہ اس نے پولیس سے مک مکا نہیں کیا ورنہ دوسرے ملزموں کی طرح تھانے تک نہ جاتا اگر کسی ملزم کو جان سے زیادہ پیسوں سے پیار ہے تو اس میں پولیس کا کیا قصور ہے ۔معزض قارئین مجھے محکمہ پولیس کے ا علیٰ افسران کی بے حسی پر بے حد شرم آرہی ہے۔ میرا ایک قیمتی مشورہ محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران تک پہنچا دیں کہ غیرملکی امداد پر چلنے والامحکمہ پاپولیشن پلاننگ بند کر دیں کیونکہ یہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول نہیں کر پایا۔اب آبادی کھٹانے کا فرض بھی محکمہ پولیس کو سونپ دیا جائے۔اگر محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران عوام کو پولیس کے ظلم و ستم سے نجات نہیں دلا سکتے توبہتریہ ہے کہ محکمہ پولیس کے ظلم و ستم کو قانونی شکل دے دی جائے

یہ بھی پڑھیں  فیصل آباد: تہرے قتل بیوی‘ کمسن بیٹی اور رشتہ دار کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتارنے کے الزام میں ملزم کو تین مرتبہ سزائے موت کا حکم