تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

دنیاپرحکمرانی کرنےوالی ایجاد’’کمپیوٹر‘‘اورشافع تھوبانی

صدیوں پہلے جب کمپیوٹرز کی شروعات گننے والے آلات (Abacus)سے ہوئی تھی تو اس وقت ہم تاروں پر روشنی کی گولیاں گننے کے بجائے الیکٹرانک پلس استعمال کرتے نہیں تھکتے تھے۔ پچھلے چند سالوں میں ٹیکنالوجی کی ترقی اس قدر تیزی سے ہوئی جس کہ باعث کمپیوٹر سائنس دانوں، انجینئروں، ڈاکٹروں، معماروں، اساتذہ اور طلبائ کے لیئے ایک بہت تیز اور طاقت والے آلے کے طور پر ابھرا ہے ۔ الیکٹرانک ٹیکنالوجی کی تیز تر ترقی نے ان کاموں کو بھی آسان بنا دیا جن کا کچھ سال پہلے کرنا اقتصادی طور پر ناگزیر تھا۔دنیا بھر میں اس ایجاد کو اچھے اور برے دونوں ہی قسم کے مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا ، کمپیوٹر کی طاقت بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کا برا استعمال بھی بڑھ گیا ہے ۔ بات دراصل یہ ہے کہ کمپیوٹر سے فائدہ حاصل کرنے کا انحصار اس کے استعمال کرنے والے پر ہی ہوتا ہے جناب! جیسا کہ نیچے کی سطروں میں تحریر شدہ مواد کالم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
شافع تھوبانی ۳۱ مارچ سن ۴۰۰۲ ئ کو کراچی میں پیدا ہوا ، اسی سال ارفع کریم نے دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنی تھی۔اپریل ۹۰، ۲۱۰۲ئ کے روز شافع نے Prometric Testمیں شامل ہوکر %۱۹ نمبر حاصل کیئے ۔ شافع روزآنہ صبح ۶ بجے تیار ہوکر اسکول کیلئے ریڈی ہو جاتا ہے ساڑھے سات بجے وہ اسکول کیلئے روانہ ہوتا ہے ، دیڑھ بجے تک اسکول سے واپس آتا ہے ، دو بجے وہ ہر صورت اپنے پاپا کے آفس میں جاتا ہے ، لنچ کے وقفے کے بعد وہ روزآنہ ڈھائی بجے سے لیکر ساڑھے آٹھ بجے تک کمپیوٹر کی کلاس لیتا ہے یعنی روزآنہ تقریباً پانچ گھنٹے ! شافع نے مائیکرو سافٹ ونڈوز سیون کنفیگراشن ، مائیکرو سافٹ ونڈوز سرور ۸۰۰۲ آر ۲، اور مائیکرو سافٹ ہائیپر پانچ ، کے امتحان پاس کر چکا ہے۔یہ ہے کراچی کا نو عمر ننھا منھا، نٹ کھٹ اور معصوم شافع تھوبانی جس نے صرف اور صرف آٹھ سال کی عمر میں دنیا کے سب سے چھوٹے مائیکرو سافٹ سرٹیفائد ہولڈر کا اعزاز حاصل کیا۔ آسمان پر کمند ڈالنے والا یہ ننھے بچے نے آئی ٹی کی دنیا میں نہ صرف پاکستان کے نام روشن کر دیا بلکہ دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ کون کہتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہے۔ یہ ننھا شافع نے ٹیلنٹ کی انتہا کو چھو لیا ہے۔ ٹی وی کے ایک پروگرام میں شافع نے کہا کہ جب کمپیوٹرکے ذریعے اپنے پاپا کو کام کرتے دیکھا تو مجھے بہت مشکل لگتا تھا کہ یہ کیسے ہوتا ہے لیکن اب آسان لگتا ہے۔ اور وہ بہت خوش ہے کہ اس نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام سنہرے حرفوں میں درج کر ا دیا ہے۔
شافع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کے غریب لوگوں کیلئے کام کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کے دیش کے لوگ اور بچے بھی اس کے نظریے اور اس کے کام کو محسوس کر سکیں۔ شافع بِل گیٹس سے ملاقات کا بھی خواہش مند ہے ۔ اور وہ مستقبل میں اپنی ٹیکنالوجی کمپنی لائونج کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی پاور ٹیکنالوجی کو شیئر کرنا چاہتا ہے۔
اس سے پہلے پاکستان کی ننھی ارفع کریم نے بھی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا تھا ،ارفع کریم پر نظر ڈالا جائے اور پھر اس ملک کی انیس کروڑ عوام پر نظر ڈالا جائے تو یقینا آپ کو حیرت ہوگی کہ ہم لوک بھی پیدا تو ہوتے ہیں ، خواب بھی دیکھتے ہیں مگر زندگی کے جھمیلوں میں اس طرح کھو جاتے ہیں کہ کچھ یاد ہی نہیں رہتا کہ ہم کس سفر پر نکلے تھے ، کیا کرنا چاہتے تھے ، اور ہم کہاں پہنچ چکے ہیں۔﴿اللہ تبارک و تعالیٰ اس ننھی عارفہ کریم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے﴾اگر عارفہ کریم زندہ ہوتی تو نہ جانے اور کتنے اعزازات پاکستان کیلئے حاصل کرتی مگر تنگیٔ عمر اور بیماری نے اسے موقع نہ دیا اور یوں وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔
شافع سمیت اس کے گھر والے بھی عارفہ سے بہت متاثر تھے۔ شافع کے والد نے کہا کہ کبھی بچے کو مایوس نہیں گیا کیونکہ بچے کو جس چیز کا شوق تھا اسے وہی کروایا۔ شافع نہ صرف کمپیوٹر اور cadgetsکا بھی شوقین ہے اور اسے فٹبال اور سوئمنگ بھی بہت پسند ہے۔بچپن سے اس کے کھلونے کمپیوٹر وغیرہ ہی رہے ہیں۔ شافع کے ٹرینرفیصل درانی کا کہنا ہے کہ شافع بہت شرارتی اور بلا کا ذہین تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ محنتی بھی بہت ہے۔ شافع کو اس کی عمر اور ذہن کے مطابق سمجھانے کیلئے آسان مثالیں دے کر سمجھاتا ہوں۔آٹھ سال کا چھوٹا سا یہ بچہ قوم کا ہیرو بن گیا ہے جس کی محنت اور ذہانت نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کر دیا ہے۔ اتنی کم عمری میں شافع نے پاکستان کا نام سنہرے حرفوں میں لکھوا دیا ہے اور یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ شافع تھوبانی کا یہ نعرہ ہے کہ ’’محنت ہے میرا جنوں۔‘‘ اور دوسرے ساتھیوں کو بھی اس کا مشورہ ہے کہ آئو مل کر پاکستان کی تعمیر کریں۔
اس ننھے ایک زمانہ تھا جب کمپیوٹر نیا نیا ایجاد ہوا تھا تو پہلی بار ایسا ہو اکہ ادب، سائنس تاریخ، ثقافت، فنون، جغرافیہ اور اسپورٹس جیسے شعبوں سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سپر کمپیوٹر نے انسانوں کو مات دے دی۔ یہ خبر اس وقت حیران کن بھی تھی کہ انسانوں کے بنائے ہوئے کمپیوٹر ہی انسانوں کو مات دیکر ان پر سبقت لے جا رہے ہیں۔ لازمی ہے کہ یہ سب ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی حیتر انگیز ترقی کا ہی نتیجہ ہے کمپیوٹر ٹیکنالوجی جس سرعت سے ترقی کر رہی ہے اس تناظر میں کہ کہنا بعید القیاس نہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آنے والے ہے جب انسان کی بجائے کمپیوٹر ہی تمام کام انجام دیا کریں گے۔ مگر یہاں تو ابھی تک ننھے شافع نے اپنی کارکردگی سے کمپیوٹر پر عبور حاصل کر رکھا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے اس ننھے منے سپاہی نے وہ کام کر دکھایا ہے جس سے پاکستان تو کیا دنیا بھر کے بچوں کو اس کے راستے پر چلنے کا شوق ضرور جاگا ہوگا۔ مجھے تو اپنے قوم کے بچوں سے یہی امید ہے کہ وہ بھی ارفع کریم اور شافع تھوبانی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے وطن کا نام دنیا بھر میں متعارف کروائیں گے۔ کراچی کے حالات کو دیکھ کر دوسرے شہروں اور ملکوں کے لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ اس نفسا نفسی جیسے ماحول میں اور جہاں خوف کے بادل ہر وقت منڈلاتے رہتے ہیں ، اسی شہر کا یہ ننھے بچے نے کیا کر دکھا یا ہے۔ ویلڈن شافع !
ہماری دعا ہے کہ یہ ننھا شافع آئی ٹی کی دنیا کا پودا بھرپور نشو و نما اختیار کرے اور اتنے برگ و بار لائے کہ اس کے سایے میں مزید ماہر افراد کی ایک نئی دنیا آباد ہو جائے اور آگے چل کر لوگ خود بازدید کی باز دید پر مجبور ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker