تازہ ترینکالممحمد علی رانا

دشمن اناج کے۔۔۔!

ایک دوست نے دوسرے سے کہا ’’ یار جب بھی دیکھوں تمہاری جیب میں دو تین سگریٹ کے پیکٹ ہمیشہ رکھے ہوتے ہیں ،میرے دوست سگریٹ نوشی صحت کیلئے اچھی نہیں یہ مضرِ صحت ہے ‘‘ دوسرا دوست ’’ ہاں جانتا ہوں کہ یہ مضرِ صحت اور باعثِ کینسر بھی ہے مگر شائد تم یہ نہیں جانتے کہ میں ایک محبِ وطن شہری ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ اِس بیماری کو خود ہی پی پی کر جڑ سے ختم کر دوں‘‘ بات ختم کرنے کی ہو رہی ہے اور بھوک بھی کھانے سے ہی ختم ہوتی ہے مگر آج مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اب ہماری بھوک ضرورت سے بڑھ کر ہوس میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ غذائی اجناس کی پیداوار ہماری ضرورت سے کئی گناہ زیادہ ہے پھر بھی ہر ایک منٹ میں 17سے 18افراد بھوک سے کیوں مر جاتے ہیں؟ دنیا بھر میں کِسی نہ کِسی صورت غذا کا ضیاع ہوتا رہتا ہے اور اِس سے بچاؤ کیلئے کوئی حکمتِ عملی نہیں اپنائی جا رہی ۔ کھاتے پیتے گھر کا ہر فرد تقریبا 60سے 80کِلو سالانہ غذائی اجناس ضائع کرنے کے بعد پھینک کر غریبوں کے منہ میں ہاتھ ڈال کہ نوالہ نکال پھنکنے کا مجرم ہے۔ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ جہاں اسراف ہوگا وہاں خیرو برکت ہر گز نہ ہوگی اوربلاشبہ قلت و ذلت اسراف ہی کی بدولت ہے۔شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے فنگشنوںں میں غذا کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اور مہمانوں کی پلیٹوں میں ہوس ناچ رہی ہوتی ہے۔ حکومتِ وقت چاہیے تو ہر قسم کے فنگشنوں میں ٹیبل سروس لاگو کر وا کے منوں کے حساب سے ضائع ہونے والی غذا کو اسراف سے بچایا جا سکتا ہے۔ہم آئے دِن سوشل میڈیا اور اخبارات میں ایسی فوٹیج دیکھتے رہتے ہیں جِن میں کچرے کے ڈھیر سے بھوکے ننگے بچے غذائی اجناس ڈھونڈھ کر کھا اور جمع کر رہے ہوتے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ غذائی اجناس یہ رزق یہاں کچرے کے ڈھیر تک پہنچا کیسے ؟ کیا یہ رزق اپنے غریب بہن بھائیوں کیلئے یہاں کچرے کے ڈھیر پر اُن صاحبِ حیثیت کھاتے پیتے لوگوں نے باحفاظت رکھا ہے جنہوں کو اللہ پاک نے ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے؟دنیا بھر کی غذائی اجناس کی پیداوار کا تخمینہ3.8سے 4ارب ٹن سالانہ ہے ۔برطانوی ذرائع کے مطابق ضائع ہونے والی غذائی اجناس کا تخمینہ تقریباً 1.9ارب ٹن ہے یعنی تقریبا نصف فیصد غذا ہماری غفلت سے کوڑے کا ڈھیر بن جاتی ہے۔
کبھی انا کے خول سے نکل کر ہسپتالوں ،اسٹیشنوں ،لاری اڈوں ،فوڈ سٹریٹس،ہوٹل ،ریستوران اور بڑی بڑی مارکیٹوں کا سروے کیا جائے تواِرد گرد کونے کھانچوں اور کوڑا دان میں بچی کچی خوراک کے ڈھیر نظر آئیں گے جنہیں کتے ،بلیوں اور دیگر جانوروں کے چکھ لینے کے بعد غریب اور بھوکے ننگے لوگوں کیلئے کچرے کے وسعی و عریض دسترخوان پر با حفاظت پھینک دیا جاتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال ٹنوں کے حساب سے کھانے پینے کی اشیا ء زائد المیعاد ہونے کے بعد کوڑا دان میں پھینک دی جاتی ہے۔میرا نہیں خیال کہ محکمہ فوڈ انسپیکشن اور حکومت کے علم میں یہ بات نہ ہو ۔اب یہاں بھی ایک سوال اُٹھتا ہے ! کیا فوڈ کی انسپیکشن صرف امیر اور کھاتے پیتے لوگوں کیلئے کی جاتی ہے اور غریب چاہیے جیسا مرضی جہاں سے مرضی نوش فرمائیں ؟زنگ آلود،بوسیدہ اور جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی پینے کے پانی کی پائپ لائینیں ان گنت امراض کو گود میں لے کرساتھ لاتی ہیں۔ حکومت کو انسانی وسائل کی حفاظت کے بارے سوچنا ہوگا مسندِ اقتدار انسانی وسائل کے ضیاع کے بڑے ذمہ دار ہیں۔کِسی بھی ملک و قوم کی ترقی یہی ہے کہ اُس کے ملک کے انسانی وسائل میں کِسی صورت کمی پیدا نہ ہو ۔ذرا سوچیئے جو غذا ئی اجناس پڑی پڑی گل سڑ جاتی ہیں استعمال کیے بنا کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دی جاتی ہیں یا جو جان بوجھ کر ضائع کی جاتی ہیں اِنہیں اُگانے پر سینکڑوں بلین کیوبک میٹر پانی کا اخراج بھی ہوتا ہے اور یوں ہم صرف نوالہ ہی نہیں غریبوں کے حلق سے پانی تک نکال پھینکتے ہیں۔ ایسی کوئی حکمتِ عملی کیوں نہیں اپنائی جاتی کہ جِس کے ذریعے غذائی اجناس کے بڑھتے ہوئے ضیاع کو روکا جاسکے ۔اگر ہمارے حکمراں غذائی اجناس کے 75%اسراف پر بھی قابو پا لیتے ہیں تو ہمارے ملک سے بھوک ننگ جڑ سے ختم ہو سکتی ہے۔
حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کا فرض بھی بنتا ہے کہ وہ رزق کی بے حرمتی سے خود کو بچائیں ،ہماری درینہ خواہش ہوتی ہے کہ ہماری پلیٹ سالن سے اوپر تک بھری ہو یہ بھوک نہیں ہوس ہے اور یہ ہوس پیٹ بھر جانے کے بعد پلیٹ میں با خوبی دیکھا جاسکتا ہے ۔ایک جانب بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑوں کا سوکھ کر گھر کے کونے میں ڈھیر لگ جاتا ہے اور دوسری جانب ایک ایک نوالے کیلئے کئی گھر انے ترس رہے ہوتے ہیں ۔یہ حوس اور لالچ ہی تو ہے کہ ضرورت صرف دو کلو پیاز کی ہے اور پانچ کلو پر خصوصی ڈسکاؤنٹ دیکھ کر ہم پورے پانچ کلو پیاز ہی خرید لیتے ہیں اور بقیہ گل سڑ جانے کے بعد کچرادان کی زینت بنتے ہیں اب بھلا پانچ کلو پیاز پر جوبچت مِلی تھی وہ کہاں گئی؟ ظاہر سی بات ہے وہ کچرے کے ڈبے میں گئی(کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنہ)۔ فرج میں رکھے فروٹ میں سے 80%بھی بڑی مشکل سے استعمال ہوتا ہے اور باقی کا گل سڑ کر اپنا نقشہ ہی بدل لیتا ہے کہ اُسے انسان تو کیاحیوان بھی نہ قبولیں۔اگر ہماری ضرورت ایک درجن کیلوں کی ہے تو سستے دیکھ کر تین تا پانچ درجن بھی لے لیے جاتے ہیں یوں نہ صرف غذائی اجناس کا ضیاع ہوا بلکہ فضول خرچی بھی ہوئی ۔
بچوں کی پلیٹوں میں ضرورت سے زائد خوراک ڈال دی جاتی ہے۔اکثر گھروں میں ضرورت سے زائد چائے بنتی ہے جِسے بعد میں پھینک دیا جاتا ہے یوں نہ صرف چائے کی پتی اور چینی بلکہ دودھ جیسی انمول نعمت کا بھی بے دریغ ضیاع کیا جاتا ہے۔ آج بھی بیشمار انسان دوست قسم کے لوگ موجود ہیں جنہیں رزق کی بہت قدر ہے ایسے خوراک فروش لوگ آپ کو ریلوے اسٹیشنوں کے پلیٹ فارموں پر کثرت سے ملیں گے یہ انسان دوست قسم کے لوگ بچے ہوئے سالن کو ہر گز نہیں پھنکتے انہیں رزق کی قدر ہے ۔یہ لوگ دو ،چار چھ دِن اور ہفتہ پُرانے سالن کو بار بار گرم کر کے یا پھر اُسی میں مزید سبزی ،گوشت وغیرہ ڈال کر دوبارہ ترو تازہ کر لیتے ہیںیہاں تک کہ روٹی اور نان کو بھی ضائع نہیں ہونے دیتے ۔یہ لوگ سائنسدان نہیں مگر پھر بھی انسانی زندگیوں پر تجربات کرنا اِن کا پیشہ ہے اب اتنی محنت کرنے کے بعد اتنا سا حق تو بنتا ہی ہے کہ سادہ لوح انسانوں سے قیمت ڈبل وصول کریں۔ایسے انسان دوست قسم کے لوگ لاری اڈوں پر موجود چھوٹے موٹے موبائل ریستوران پر بھی باآسانی مِل جاتے ہیںیہ سب ٹھکانے پوش نہیں مگر مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب فوڈ انسپکٹروں کی نظر سے اوجھل ہیں ۔مزید اگر آپ غذائی اجناس کے اسراف سے بچنے کے گُر سیکھنا چاہتے ہیں تو مزارات کے لنگر خانوں سے بھی رجوع کر سکتے ہیںیہاں تو غذائی اجناس کے ساتھ ساتھ کبوتروں کے باجروں کی بوریوں کی بوریاں تک بچا لی جاتی ہیں۔facebook.com/muhammadalir1 :۔ نگہت پروین کے اِس خوبصورت شعر کے ساتھ اجازت چاہونگا ۔
غریب لوگوں کی عمر بھر کی غریبی مٹ جائے گی اے امیرو!
بس اِک دن کے لیے ذرا سا جو خود کو تم سب غریب کر لو

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button