بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

روشن مستقبل کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟

وطن عزیز میں وسائل اور قابلیت و صلاحیت میں کمی نہیں۔اگر کہیں کجی ہے تو وہ ہمارے نظام کے اندر پوشیدہ نااہلیت اور خود پرستی نے ہمارا مستقبل سوالیہ بنا رکھا ہے۔گیس کی کہیں کمی نہیں ،بجلی کی پیداوار ضرورت پوری کر سکتی ہے ،زرعی اجناس بد نظمی سے گل سڑ جاتی ہے مگر عوام تک یہ نعمت فراہم کرنے میں بد دیانتی عیاں ہے،قدرت کے بے شمار انعامات ہمارے ملک میں موجود ہیں مگر مافیا کا منظم گروہ ہماری معاشی ،اقتصادی اور ثقافتی وجود کو کمزور کرتا جارہا ہے۔گزشتہ6دہائیوں پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں عیاش حکمرانوں ،سازشی نوکر شاہی اور نا اہل انتظامیہ سے واسطہ رہا۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ملک کے منافع بخش ادارے for saleکی پوزیشن پر پہنچ چکے ہیں ۔دنیا بھر میں ریلولے ،ایئر لائیز،انڈسٹریل اور پیداوری ادارے روز بروز معاشی ترقی کا نشان بن چکے ہیں مگر ہماری بے بسی اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ خسارے پر خسارہ ہمارا مقدر بنتا جارہا ہے۔کبھی ہم آمریت اور کبھی نیم جمہوریت کے نام پر اصلاحات کی ناکام کوشش کی گی مگر ہر دور کے بعد خزانہ خالی ہونے کے سوائے کوئی خبر نہیں سنی جا سکی۔ہر آنے والے حکمران نے جانے والے کی درگت بنائی اور خود بھی اسی سازش کے نتیجے میں ملک سدھار گے۔
کسی بھی منصوبہ عمل کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ بہتر ٹیم ہو جو مطلوبہ تمام تر صلاحیتوں کی حامل ہو اور ان کے اقدامات سے مثبت اثرات مرتب ہوں۔امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن کے بارے بتایا جاتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے ساٹھ برس انتہائی ناکام گذارے،مگر جب اس نے بہتر ٹیم کا انتخاب کیا تو وہ سب سے زیادہ کامیاب حکمران ثابت ہوا۔یہی نہیں بلکہ اس نے دو بار صدارتی دور گذارہ۔دراصل ہمارے سیاسی لوگوں کی بد قسمتی رہی ہے کہ وہ اچھی ٹیم بنانے میں پوری طرح کامیاب ہونے کے باوجود جب اختیا ر و اقتدار پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر یکدم پروٹوکول کی بیماری لاحق ہونے کے باعث انہیں آگے بڑھنے کے بجائے ناکامی سے واسطہ پڑ جاتا ہے۔خیر یہ بحث ایک طویل مباحثہ چاہتی ہے ۔مختصراً آنے والے حالات کی شوریدہ دھمک پر کچھ سطور قارئین کی نذر کرنا ضروری ہیں۔
اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی مالیاتی پالیسی رپورٹ کے مطابق گذشتہ چار برسوں کے دوران حکومت کو قرضوں اور واجبات میں 6691ارب کے مقابلے میں 14561ارب روپے تک بوجھ پڑ چکا ہے جو آئندہ برس تک 16000ارب سے تجاویز کر سکتا ہے۔پی پی پی کے رواں دور حکومت میں 7870ارب روپے کے قرضوں کا اضافہ ہو چکا ہے 2008ء میں ہر شہری 37170روپے کا مقرو تھا جو اب بڑھ کر 80894روپے فی کس تک پہنچ چکا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 58%شہری غربت کی لکیر کو چھو رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق حکومت کا مقامی قرضہ 7638ارب روپے،بیرونی قرضہ 4365ارب روپے ہو چکا ہے۔آئی ایم ایف سے قرضہ 694ارب روپے،بیرونی واجبات 227ارب،نجی شعبہ میں بیرونی واجبات 575ارب،پبلک سیکٹر انٹر پرائز بیرونی قرضہ 144ارب،مقامی 281ارب،کموڈوتی آپریشنز 438ارب روپے ہیں۔ماہرین کے مطابق کرپشن،بد انتظامی،ٹیکس چوری اور ناقض منصوبہ بندی کے سبب ملک بھاری قرضوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے اقتصادی ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ مجموعی قرضے اور واجبات بڑھنے کی تین وجوہات ہیں نمبر1آئی ایم ایف سے لیا جانے والا قرض 7.4ارب ڈالر،نمبر 2ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی جو2008ء میں 60.1سے بڑھ کر اب 96.1ہو چکی ہے۔تیسری وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ پبلک سیکٹر انٹرپرائز کے قرضوں اور واجبات سے متعلق بجٹ کے علاوہ آئٹم بھی بجٹ ائٹم میں تبدیل ہوئے جس سے 390ارب اضافی بوجھ پڑا۔البتہ مجموعی قومی پیداوار کی شرح سے موازنہ کیا جائے تو قرضوں اور واجبات میں اضافہ نہیں ہو ا ہے۔
بہرحال اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں پڑنے کے بجائے دیکھنا یہ ہے کہ عوام کو کیا ملا ہے۔۔۔؟ عوام جانتی ہے کہ معاشی بحران عالمی سطح تک پہنچ گیا ہے مگر عوام یہ بھی سمجھتی ہے کہ اشیاء خورد و نوش کے نرخوں میں جس تناسب سے وطن عزیز میں اضافہ ہوا ہے ایسا کسی ملک میں نہیں کیا گیا ۔آج بھی دودھ اور ڈبل روٹی کے نرخ یورپی ممالک میں وہی ہیں جو 20برس قبل تھے ۔ بنیادی ضروریات زندگی جن میں تعلیم ،صحت ،پانی،بجلی اب بھی کئی ممالک میں فری ہے۔کسی بھی ملک میں کوئی شہری فٹ پاتھوں یا سڑکوں کے کنارے رات کو سو یا نہیں دکھائی دے گا۔ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے جبکہ اس کے برعکس ہمارے ہاں آوئے کا آوہ بگڑا ہوا ہے ۔لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے کبھی آمریت اور کبھی جمہوریت کے نام پر اسلامی انقلاب،سوشلسٹ انقلاب،سونامی اوردسمبر میں سیاست نہیں ریاست بچاؤ کے نام پر دلکش اور پُر فریب نعروں سے آئندہ انتخابات کی میچ فیکسنگ کی جا رہی ہے ۔عوام کو گدھوں کی طرح ہانکنے اور مویشیوں کا ریوڑ سمجھ کر ان کا خون چوسنے کی باری آچکی ہے۔ہمارے ایک سابق وزیر اعظم آذادکشمیر تو ملٹری ڈیمو کریسی کی رٹ لگائے جا رہے ہیں کہ ملک بچانے کے لئے فوج کو آگے آنا چاہئے۔کیونکہ اب ان کی رسی ہر طرف سے ٹوٹ چکی ہے اور وہ پھر ملک میں ڈنڈے کی حکمرانی کے سائے میں اپنے اقتدار کی راہ دیکھ رہے ہیں ۔یہ ہمارے سیاست کار اگر آج اپنی سوچ و فکر درست کر لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا ملک ترقی و خوشحالی کی دہلیز پر نہ پہنچ پائے ۔
ترقی یافتہ ممالک میں جمہوری نظام کی بنیاد پر عوام کو جو سہولیات میسر ہیں ایسا ہمارے ہاں نہ ہونا ہمارے سیاسی رہنماؤں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے ۔اگر مسلسل انتخابی عمل جاری رکھا گیا ہوتا تو عوام شعوری بیداری کا مظاہرہ کر کے بہتر انتخاب کر نے کی صلاحیت کا اظہار کرتے ۔یہاں تو عوام سے ایسا ایسا مذاق کیا گیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ جنرل ایوب نے لوکل باڈیز کے الیکشن متعارف کر وا کر بے تاج حکمرانی کی ،جنرل ضیاء نے اسلام کے نام پر بوگس ریفرنڈم کر وایا کر قومی سوچ کا بیڑہ غرق کیا ۔ماضی کے حادثات اور تجربات کو دیکھا جائے تو معصوم عوام کو جو رگڑا دیا گیا اس کے منہوس اثرات اب بھی ہماری سیاسیات،معاشیات اور اقتصادیات پر موجود ہیں ۔فوج کو بد نام کرنے کے لئے اقتدار کی ہوس پیدا کی گئی اور عدلیہ کو یرغمال بناکر من پسند فیصلے کرواکر عدالتی قتل کئے گے۔
اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں بے شمار قدرتی وسائل موجود ہیں اور بے شمار دیانت دار،با صلاحیت اور با کردارشخصیات ہر شعبہ میں سرگرم عمل ہیں۔ان ہی کی شبانہ روز کاوشوں سے آج ملک میں جمہوری نظام پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنی آئینی مدت پوری کر رہا ہے ۔تین چار ماہ کے بعد انتخابات ہونے والے ہیں ۔اب عوام کو بیداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے کہ ان کا انتخاب درست ہو ۔اگر جمہوریت کا نظام مستحکم ہوجائے تو ایک اندازے کے مطابق آئندہ دس برس کے اندر ملک ناصرف مستحکم ہو جائے گا بلکہ اس کی معیشت بھی بہتر ہو جائیگی۔یہ اسی صورت ممکن ہے کہ عوام کا فیصلہ درست ہو۔آج جو ہم مہنگائی،بے روز گاری اور افراط زر کا رونا رو رہے ہیں اس کا واحد حل یہی ہے کہ عوام بہتر فیصلہ کی صلاحیت پیدا کرئے۔غیر جمہوری سوچ اور آمریت کے سائے میں اقتدار کے بھوکوں سے گریز کیا جائے۔جرات مند،دیانت دار،اچھی ٹیم کے حامل قیادت کا انتخاب کر کے قوم کو آگے لایا جائے۔ہمارے سیاسی رہنماؤں کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں جب عوام کئی مسائل سے دوچار ہے انہیں ریلیف مہیا کرنے کے لئے خوشنما نعروں اور دلکش و دل فریب مصالحہ دار تقاریر و منشور کے بجائے مسائل کے حل بارے عملی اقدامات سے آگاہی کی جائے تاکہ عوام ملک کی بقاء کے لئے بہتر فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں آ سکیں۔ہمیں ہر ادارے میں انقلابی تبدیلی لانا ہو گی ،بد دیانت اور سازشی عناصر سے دور رھنا پڑے گا۔سیاسی جماعت کے نظم کو مثالی بنا کر پیش کرنا ہوگا ۔ہر شعبہ کا ماہرین کو یکسو کر کے اصلاحات لانا پڑیں گی۔گاؤں سے لیکر مرکز تک جماعتی نظم و ضبط با کردار اور با صلاحیت افراد سے جوڑنا پڑے گا ۔مفاداتی اور وارداتی ٹولے سے پر ہیز کرنا ہو گی ۔فتح و شکست سے دور رہ کر مثبت پیش رفت کرنے کا وقت ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر 20کروڑ شہریوں کو خوشحال مستقبل دیا جائے جس کے لئے اہل وطن فکری جستجو کو تعصبات سے بالا تر ہو کر یکسو کریں ۔یقیناًکامیابی ہمارا دامن چومے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker