بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

انوکھا طرز تعلیم اور تعلیمی انقلاب کے دعوئے

bashir ahmad mirآج کا کالم ایک محسن کی فرمائش پر لکھ رہا ہوں جنہوں نے انتہائی حساس اور قومی نوعیت کے حامل مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لئے میرے ضمیر کو جھنجوڑا ،یوں تو ہمارے معاشرے اور ملک میں ان گنت مسائل موجود ہیں تاہم آج ایسے مسئلہ پر ’’کریک ڈاؤن ‘‘ کر رہا ہوں جو خالصتاً ہمارے مستقبل سے وابستہ ہے۔ہماری آذاد کشمیر کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ پورے خطے کو’’ ایجوکیشن سٹی ‘‘بنا ئیں گے اس ضمن میں حکومت میڈیکل کالجز ،یونیورسٹیز اور دیگر تعلیمی فروغ بارے بہت سے منصوبوں کا ذکر بھی کر رہی ہے ،الغرض آج کل تعلیمی انقلاب برپا کئے جانے کا ہر وزیر اور حکومت کا حامی بڑھ چڑھ کر یہی تاثر دے رہے ہیں کہ آنے والی نسل کا مستقبل سنوارنا انہی کا عزم مصمم ہے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت مستقبل کے معماروں کی بہتر تربیت ،حصول تعلیم میں سہولیات اور بے شمار اقدامات کا بار بار اعادہ کر کے عوام کی حمایت میں اضافہ چاہ رہی ہے ۔یہ بات بھی اچھی ہے کہ وزیرعظم چوہدری عبدالمجید نے کئی بار کہا کہ وہ ہوائی اعلانات نہیں کر رہے ہیں بلکہ عملی اقدامات پر ان کا یقین ہے ،یقینی طور پر ماضی کے یاد گار وزیر اعظم سردار عتیق خان بارے مشہور ہے کہ انہوں نے کئی اعلانات واقعی ’’ہوائی ‘‘ کئے تھے مثلاً مقبوضہ کشمیر کے بے روزگاروں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا،سرینگر گیس پائپ لائن بچھانا( قابل ذکر بات یہ ہے یہ سہولت ابھی تک آذادکشمیر کی عوام کو بھی حاصل نہیں)،زیتون کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے کاشت ،مظفرآباد سرینگر ریلولے سروس( واضح رہے کہ ریلولے کا نظام آذادکشمیر میں کہیں بھی نہیں )،دوردراز علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر ایمبولنس سروس اور سب سے حیر ت انگیز ان کا دعویٰ یہ تھا کہ کشمیر کے ہر بچے بچے کے پیشاب سے بجلی پیدا کریں گے ‘‘ خیر سردار عتیق صاحب تو سیاست کو سدھار گے شاہد یہی سن کر ہمارے وزیر اعظم چوہدری عبد المجید اکثر فرماتے ہیں کہ وہ ہوائی اعلانات نہیں کریں گے ،بہرحال ان کے تعلیمی انقلاب کی جانب ان کی توجہ مبذول کرتے ہوئے ایک ایسے ٹیکنیکل ادارہ کے بارے چند انکشافات پر مبنی شواہد پیش کرتا ہوں ۔
دارالحکومت مظفرآباد کے سنگم میں ایک ایسا ٹیکنیکل ادارہ قائم ہے جو مختصر عرصہ میں اپنے کاغذی کارکردگی کی بنیاد پر شہرت کا حامل ہے۔اس ادارے کا نام ’’کشمیر پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ ‘‘ہے اس ادارے میں قریباً 600سے زائد طلباء ریکارڈ پر ہیں ،ہر طالب علم سے 1800تا 3200روپے فیس لی جاتی ہے جبکہ 2000ہزار روپے سنٹر تبدیلی کے نام پر وصول کیا جاتے ہیں ۔جن طلباء کو داخل کیا جاتا ہے انکے یونیفارم و کتب مخصوص سٹور جو اس ادارے کے سربراہ کی ملکیت ہے اس سے ہی خریداری کی جانی لازم قرار دی گی ہے اتنے بڑے نام اور کام کے ادارے میں صرف 4ٹیچرز اور ایک قاری سمیت 10افراد پر عملہ محیط ہے۔یہ بھی بعض ذرائع سے علم ہوا ہے کہ ڈپلومے اند اندر سے 25سے 50ہزار روپے تک فروخت کئے جاتے ہیں ۔حیران کن امر یہ ہے کہ آذادکشمیر کے تمام سرکاری و نجی اداروں کا پنجاب بورڈ سے الحاق ہوتا ہے جبکہ مذکورہ ادارے کا الحاق پشاور خیبر پختونخواہ سے کیا گیا ہے جس کی منطق سمجھ سے بالا تر ہے ،یہ بھی علم میں آیا ہے کہ
گذشتہ برس ناقص انتظامیہ کی بنیاد پر پشاور بورڈ نے 1960000لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا جو سارے کا سارا طلباء سے وصول کیا گیا ہے۔ ایک عجیب انکشاف یہ ہوا ہے کہ اس ادارے کو چلانے والے صاحب بذات خود کسی ٹیکنکل ادارے سے نہ ہی فارغ ہیں اور نہ ہی اس ادارہ میں کوئی ٹیکنیکل پروفیسر تعینات کیا گیا ہے ،بلکہ جو اس ادارہ کو چلا رہے ہیں وہ حیوانات کے شعبہ سے سٹاک اسسٹنٹ کے حامل تعلیم رکھتے ہیں دنیا بھر میں یہ انوکھا تعلیمی ادارہ کہلا سکتا ہے جو ’’ڈنگروں کے ماہر انسانوں کی تربیت گاہ چلا رہے ہیں ‘‘
اس حوالے سے بہت سے سربستہ راز بھی ہیں بتا یا جاتا ہے کہ اس ادارے کا سربراہ کسی این جی اووز میں بھی کام کر رہا ہے جس کا مرکز پشاور سے ہے۔چار سال کے مختصر عرصہ میں اس ادارے کے سربراہ نے بہت مال کمایا ،اب ان کا کاروبار پھیلتے پھیلتے پورے ملک میں ہے ،بے شمار پولٹری فارمز چل رہے ہیں ،اسلام آباد اور ٹیکسلا میں کروڑوں روپے کی اراضی ،اپنے آبائی گاؤں میں 50کنال سے زائد اراضی ،18کمروں پر مشتمل محل نما مکان ،زیر استعمال 40لاکھ سے زائد مالیتی TZ گاڑی ،دو پک اپ اور اسی کاروبار سے ہونے والی آمدن کی انوسٹمنٹ ’’میزان بینک ‘‘ میں کی جا رہی ہے ، جس میں اپنے بھائی کو اسی بنیاد پر تعینات بھی کیا گیامظفر آباد میں کئی جگہوں پر قیمتی پلاٹس بھی خریدے گئے ہیں ۔یہ تعارف اس لئے ضروری تھا کہ اصل شکل و صورت واضح ہو سکے ۔
اس سے ہمیں کوئی حسد نہیں کہ موصوف کیوں مختصر عرصہ میں کروڑ پتی بنے ،ایک قلمکار کی حیثیت سے قومی فرض ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔
تاکہ نئی نسل ناقص تربیت سے عضو معطل نہ بن جائے ،اتنا اہم ادارہ اگر قانونی صورت میں قائم ہو تو اس کے لئے کم از کم ایک ہزار کنال رقبہ کی ضرورت ہوتی ہے اور درجنوں ماہر تعلیم اساتذہ کا ہونا از بس ضروری ہے مگر یہ ’’بنیا‘‘ کی دکان دارالحکومت میں چار سال سے چل رہی ہے اسے کوئی دیکھنے اور پوچھنے والا نہیں ،یہ بھی علم ہوا ہے کہ جب اس بارے کہیں سے آواز اٹھی یا کوئی جانچ پڑتال کی گئی تو ’’سکہ رائج الوقت‘‘ نے کام دکھا دیا ۔کیا ہماری وزارت تعلیم اس ادارے سے لاعلم ہے ،ہاں ضرور لاعلم ہو گی کیونکہ جہاں روپے پیسے کی ریل پیل ہو وہاں’’ سب ٹھیک ‘‘ ہوتا ہے۔
ان سطور میں انقلاب پسند وزیر حکومت چوہدری مطلوب انقلابی کی توجہ اس جانب مبذول کرانا ضروری ہے شاہد ان کی سمجھ میں کچھ آ جائے ، ہمارے حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ آنے والی نسلوں کی بہتر تربیت کے لئے مثالی ادارے قائم کریں تاکہ جدید علمیت اور پیشہ ورانہ قابلیت کے حامل معمار قوم باگ ڈور سنبھالنے کے قابل ہو سکیں ،کیونکہ بنیادی تربیت بہتر ہونے سے ہی نسل محفوظ مستقبل میں داخل ہو سکتی ہے ،ایسے ادارے جو مادیت پسندی اور عوام کو لوٹنے کا سبب ہوں انہیں ناصرف بند کیا جائے بلکہ ان کے ذمہ داران کو کم از کم 25سال کی قید با مشقت سزا کا مستحق قرار دیا جائے ،جملہ اثاثہ جات ضبط کئے جائیں تاکہ کوئی بھی آئندہ ایسی نسل کشی کی جسارت نہ کر سکے ۔آج اتنا ہی کافی ہے اس حوالے سے انشاء اللہ آئندہ مزید انکشافات اور دیگر ایسے اداروں کے بارے تفصیلات حکام بالا کی نذر کروں گا ۔

یہ بھی پڑھیں  تھانہ کلچر اورسیاسی کچرا

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker