تازہ ترینصابرمغلکالم

ہائیر ایجوکیشن کمیشن امتحانی پالیسی بنائے

موجودہ جاری موذی اور عالمی وباء کے خطرناک خدشات پرپاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیگر تمام نظام زندگی بند ہونے کی طرح ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے بھی مکمل بند کر دیئے گئے،تعلیمی اداروں کی اس بندش سے قبل پنجاب سمیت کئی صوبوں میں دسویں کے امتحانات مکمل اور نویں کے امتحان کے دو پیپرز بھی ہو چکے تھے کہ وباء کے پاکستان میں پنجے گاڑنے پر تمام تعلیمی ادارے بند،امتحانات ملتوی اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں تضاد سے لبریز بیانات اور پالیسی کی بنا پر سیکنڈری،ہائیر سیکنڈری اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات میں تشویش کی لہر معمولی سے غیر معمولی ہوتی گئی،سکولز کھلنے ہیں نہیں کھلنے عجب تماشہ جاری رہاوفاق کچھ اور صوبے کچھ کہتے،پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے احتجاج،تحفظات اس بنا پر نہ سنا گیا کہ اپنے بچوں کو ہر صورت وباء سے بچانا ہے،اس میں کوئی دو رائے نہیں اور نہ ہی کسی نوعیت کا اختلاف ہے بلکہ کسی بھی وباء سے بچاناحکومت کا اولین فرض ہے مگر اس کے لئے جامد اور مفلوج صورتحال روا نہیں رکھی جاتی،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمودنے بتایا کہ ایلیمنٹری لیوی تک تمام ادارے اپنے سٹوڈنٹس کو پاس کر دیں بلکہ تمام تعلیمی بورڈز کو ہدایت کی کہ وہ میٹرک اور ایف اے تک تمام سٹوڈنٹس کو سابق کاکردگی کی بنا پر پر موشن دے دی جائے،اس دوران پاکستان کی واحدسرکاری فاصلاتی تعلیم کی حامل اور انٹر نیشنل لیول کی یونیورسٹی AIOUنے سمسٹر خزاں 2019کے تمام طلباء و طالبات کو Assignments نمبرز کی بنیاد پر بغیر امتحان کے پاس کر دیا،گریجویشن او رپوسٹ گریجویشن کے اسٹوڈنٹس کی اگلے سمسٹر تک پرموشن بارے HECسے مشاورت جاری ہے،ممکن ہے تحریر کی اشاعت تک کوئی فیصلہ سامنے بھی آ جائے،تاہم دیگر یونیورسٹیوں سے تاحال کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں سکی،اطلاعات ہیں کچھ یونیورسٹیاں آن لائن یا کسی اور طرح امتحانات لینے جا رہی ہیں تا کہ وقت کا ضیاع نہ ہو،دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے بھی ہر شعبہ میں ملازمت کے لئے Age Limit ہے،کچھ ایسے محکمے جیسے فورسز،قانون نافذ کرنے والے ادارے،فیڈرل اور صوبائی پبلک سروس کے اداروں میں معین کردہ عمر سے ایک دن بھی زائد ہونے والا Over Age تصور کیا اجتا ہے یہی بنیادی وجہ ہے کہ کسی بھی نوجوان کے لئے ایک ایک دن انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے،اس نقطہ نظر سے سوچا جائے توہزاروں نوجوان اپنے مستقبل کے لئے سجے ارمانوں میں کوشش کرنے سے ہی محروم ہو جائیں گے،میٹرک اور ایف اے پاس کئے جانے والے بچوں کے حوالے سے بات کی جائے توکئی ایسے بچے ہوتے ہیں جو نویں اور گیاریوں سے ٹارگٹ ایڈجسٹ کر لیتے ہیں اور کسی وجہ سے ان کے نمبرز کم آئیں تو وہ اور ان کے والدین بہتر گریڈ کے حصول پر ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ایسے افراد کی پریشانی بھی اس دوران دیکھنے میں آئی ہے،پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کیا گیا مگر صوبائی حکومتوں اور مقامی ضلعی انتظامیہ کے عدم تعاون اور عوام کی جانب سے داری کا مظاہرہ نہ کرنے پر وہ کسی مذاق سے کم ثابت نہ ہوا،حکومت کی جانب سے بہت برا ریلیف پیکیج 12ہزار روپے فی خاندان دیا گیا،اس پیکج کے باوجود سفید پوش طبقہ ہر سہولت سے محروم رہا،اب حکومت نے لاک ڈاؤن میں ناکامی کے بعدکئی اداروں کو کھول دیا ہے،اس لاک داؤن کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بھی صوبائی خود مختاری کے حوالے سے کی گئی آئینی ترمیم ہے،بچوں کی صحت،انہیں محفوظ رکھنے جیسے اقدامات سے کسی کو نہ انکار ہے نہ اختلاف،مگر جس طرح ایس او پیز کے ذریعے بازار،مارکیٹیں،شاپنگ مال اور پبلک ٹرانسپورٹ کھول دی گئی،اسی طرح تعلیمی اداروں کی بندش مگر بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں مخصوص طلباء و طالبات سے امتحان تو لیا جاسکتا تھا، زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا کہ جہاں امتحانی عملہ10افراد پر مشتمل ہوتا وہیں 7.8اور کی ڈیوٹی لگ جاتی ویسے بھی امتحان کے دوران فاصلہ بڑھنے پر نقل وغیرہ کے خدشات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں،پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کی کثیر تعداد کا تعلق دور دراز سے ہوتا ہے، ان سب کا مقصد بہتر سے بہتر تعلیم کا حصول ہے،اسی طرح آزاد جموں کشمیر کے ہزاروں نوجوان پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں اسی طرح ملک کے ہر علاقہ سے سے بھی لوگ آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے منسلک ہیں،آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کا شمار ملک کی بہترین اور انتہائی میعاری یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے وہاں حکومتی اقدامات اور سخت ہیں،تعلیمی دفاتر تک بند ہونے پر بورڈز یا یونیورسٹی میں تاحال داخلہ فارم تک کی وصولی کا آغاز نہیں ہوا،اگر لاک ڈاؤن طوالت اختیارکرتا ہے تو اگلے گریڈ میں پروموشن بھی تبھی ممکن ہے جب داخلہ فارم جمع ہوں گے،اس لئے یہاں کے طلباء و طالبات میں تشویش کی لہر مزید بڑھ گئی ہے،پاکستان کی تمام یونیورسٹیاں HECکی تابع ہیں،کوئی بھی یونیورسٹی ہائیر یجوکیشن کمیشن کی اجازت کے بغیر نہ تو کوئی پروگرام لانچ کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئی اور پالیسی لاگو یا منطقی انجام تک پہنچا سکتی ہے،مگر بدقسمتی سے HECکوئی بھی پالیسی دینے میں یکسر ناکام نظر آتی ہے،ایسے ادارے جن کا سالانہ بجٹ اربوں کے حساب سے ہو ان کا ہی بنیادی کام ہے کہ وہ نا مساعد اور تشویشناک حالات میں ملک کی یوتھ بارے ایسی پالیسی مرتب کریں جس سے ان کا ناقابل تلافی نقصان نہ ہو مگر یہاں تولگتا ہے جیسے ان کے ذہن اور زبان پر ایک ہی بات ہے کہ بچوں کو بچانا ہے یہ نہیں بچاتے بچاتے ساتھ ان کا کباڑہ بھی کرتے جائیں،پالیسی ساز ادارے ہمیشہ پالیسی بناتے ہیں لکیر کے فقیرنہیں ہوتے، SOPsکے تحت دیگر کام ہو سکتے ہیں تو امتحانات کیوں نہیں؟تعلیمی اداروں کا مکمل طور پر کھلنا اور امتحانات کے انعقاد میں واضح ترین فرق ہے،اس فرق کو سمجھنے یا ذمہ داری اٹھانے کی بجائے ذمہ داری سے انحراف اور پلوتہی کی جا رہی ہے،اس موذی وباء سے اللہ پاک بچائے گامگر جو نقصان اداروں کے ہاتھوں Young Genereation کا ہو رہا ہے اس کا ازالہ ممکن نہیں ہو گا،کورونا کے نام پر جان نہ چھڑائیں بلکہ بہتر،جامع اور مستقبل روشن کرنے کی واضح پالیسی بنانا بھی وقت کی اہم ترین ضروت ہے،

یہ بھی پڑھیں  سیالکوٹ: سول ہسپتال ڈسکہ میں قائم شعبہ امراض دل میں ڈاکٹر مریضوں کو چیک کرتے ہوئے

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker