پاکستانتازہ ترین

محکمہ تعلیم پنجاب میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور غبن کا انکشاف

لاہور(نمائندہ خصوصی) حکومت پنجاب کی آڈٹ رپورٹ 2014-15ء میں انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے اور اخراجات کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آڈٹ میں پنجاب ایگز ا منیشن کمیشن لاہور کے تیس کروڑ روپے اخراجات کا کوئی ریکارڈ نہیں اس طرح گورنمنٹ کالج آف ایلیمنٹری ٹیچرز ایچ نائن اسلام آباد کے سال 2007-13ء کے کروڑوں روپے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ ریکارڈ کی عدم فراہمی کے باعث اکاؤنٹس کی تصدیق نہ ہوسکی ۔ آڈٹ میں دسمبر 2013ء سے نومبر 2014ء تک کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی تاہم تمام مذکورہ تعلیمی اداروں نے ریکارڈ کی فراہمی میں حیل و حجت کا اظہار کیا معاملے کو انتظامیہ کو رپورٹ کیا گیا اور ذمہ د اروں کیخلاف انضباطی کارروائی کی سفارش کی گئی ۔ محکمہ تعلیم میں بے ضابطہ سرمایہ کاری کے ذریعے بھی کروڑوں روپے کی بے ضابطگی اور غبن کیا گیا آڈٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گورنمنٹ سنٹرل ماڈل سکول لوئر مال لاہور کے جانچ پڑتال ریکارڈ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سکول انتظامیہ نے بغیر مسابقتی بولیوں اور محکمہ خزانہ کی مشاورت و اجازت کے بغیر تیس ملین روپے کی سرمایہ کاری کی آڈٹ میں کمزور مالیاتی کنٹرول کو اس کی وجہ بتایا گیا ۔ دسمبر 2014ء میں بھی انتظامی سیکرٹری کو معاملہ رپورٹ کیا گیا سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس کے آڈٹ کے دوران انکشاف ہوا کہ پی پی آر اے ویب سائیٹ پر اشتہارات کے بغیر خریداری کی گئی اور بے جا اخراجات کی مد میں ڈیڑھ کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں آڈٹ میں اس بات کی نشاندہی فروری اور مئی 2014ء کے دوران کی گئی پنجاب ایجوکیشن اسسمنٹ ادارے میں رقوم کی عدم منتقلی کی مد میں بھی کروڑوں روپے کا غبن سامنے آیا ہے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ 2014ء کے نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب ایجوکیشن سسٹم (پیز) کو متروک کردیا گیا اور اسے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن میں ضم کردیا گیا پنجاب ایجوکیشن سسٹم کے تمام اثاثہ جات کو مناسب چینل کے ذریعے کمیشن میں منتقل کرنا ضروری تھا ۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس کے آڈٹ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ پنجاب ایگزمیشن کمیشن لاہور نے غیر استعمال شدہ رقوم حاصل نہیں کیں اور نہ ہی متروک پیز کے فنڈز پاکستان ایجوکیشن کمیشن کو ٹرانسفر کئے گئے آڈٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ غیر استعمال شدہ رقم کو فوری طور پر وصول کیا جائے اور اسے پنجاب ایجوکیشن کمیشن کے اصل اکاؤنٹ میں جمع کی جائے ۔ آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم میں انکم ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس کی عدم کٹوتی کی مد میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ آڈٹ میں کہا گیا ہے کہ ادائیگی کے وقت یا تو انکم ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی گئی یا کم کٹوتی کی گئی ہے سامان کی خریداری کے دوران نہ تو ایڈوانس ٹیکس جمع کیا گیا اور نہ ہی ڈیپازٹ کیا گیا اور یہ مالی بے ضابطگی پنجاب ایگزمینشن کمیشن لاہور اورگورنمنٹ کالج فار ایلمنٹری ٹیچرز پسرور کے آڈٹ میں سامنے آئی ہے ۔ محکمہ تعلیم پنجاب میں پروجیکٹ الاؤنس کی مد میں بے ضابطہ ادائیگی کی مد میں بھی غیر ضروری الاؤنس دیا گیا اور کروڑوں روپے کا غبن کیا گیا پنجاب ایگزامیشن کمیشن کے آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ چیف ایگزیکٹو افسران نے اپنی تنخواہ کی بحالی پر پرکشش مراعات اور پیکج حاصل کئے جو کہ بے ضابطگی کے زمرے میں آتی ہے آڈٹ میں کہا گیا کہ کمزور انتظامی اور مالیاتی کنٹرول کے باعث کروڑوں روپے کی یہ بے ضابطگی سامنے آئی ہے آڈٹ میں ذمہ دار افراد اور اداروں کیخلاف انضباطی کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے اور ان سے ادائیگی کی وصولی کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔ بجلی بلوں کی مد میں بھی لاکھوں روپے کا خورد برد سامنے آیا ہے آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیڈٹ کالج پسرور کے آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی کے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کو بجلی بلوں کی مد میں دو کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی اور یہ ادائیگی عارضی کنکشن کی بناء پر کی گئی ہے آڈٹ میں کہا گیا ہے کہ کمزور نگرانی اور مالیاتی کنٹرول کی وجہ سے یہ بے ضابطگی سامنے آئی ہے

یہ بھی پڑھیں  کورونا وائرس کا دنیا سے ختم ہونے کا امکان نہیں، عالمی ادارہ صحت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker