بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

تعلیمی آبیاری کیونکر ممکن ہے۔۔؟

یہ غلط نہ ہوگا کہ جہالت کی شرح میں اضافہ کا ذمہ دار ہمارا نظام تعلیم ہے۔یہ اتنا سخت الزام ہے جس پر ماہرین تعلیم کو دعوت فکر دی جانی ضروری ہے۔۔پاکستان سمیت آذادکشمیر میں نظام تعلیم کی حالت زار ایک جیسی ہے تمام ذمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے آج کالم کا آغارملک کے ایسے خطے سے کر رہا ہوں جہاں ہر 5کلو میٹر پر تعلیمی اداروں کی بہات ہے۔خطہ کشمیر مردم خیز ہونے کے ساتھ ساتھ نمایاں ایجوکیشن سٹی بھی کہلاتا ہے ۔ آذادکشمیر میں 1369ہائی سکول ہیں جن سے ہر سال 30سے 40لاکھ طلباء تعلیمی زیور سے مستفید ہوتے ہیں
امسال میٹرک کے مجموعی نتائج کے مطابق 59086امیدواران شامل امتحان ہوئے جن سے 35383کامیاب ہوئے یوں 61.01 فی صد نتیجہ آیا۔قریباً 300امیدواران غیر حاضر رہے۔1443نے A+ِِِِ،2878 A بی6364،11993سی،11594ڈی،1001ای پوزیشن حاصل کی۔
گذشتہ دس سالہ ریکارڈ کے مطابق بہتر تنائج رہے ضلعی تناسب مظفرآباد 55.30%،میرپور61.48%،بھمبر 69.21%،کوٹلی58.34%،باغ64.59%،پونچھ63.30%،سدھنوتی56.15%نیلم46.17%،ہٹیاں بالا59.37%،حویلی74.63%رہا۔ 20حیران کن امر یہ ہے کہ ٹاپ امیدواروں میں سے 16کاتعلق پرائیویٹ ادارہ ’’کشمیر ماڈل کالج ‘‘میرپور سے ہے جبکہ 4دوسرے اداروں سے ہیں۔1369تعلیمی اداروں میں سے کم ازکم 125ادارے ایسے ہیں جن کے کل امیدوار 5سے کم ہیں جبکہ 10سے کم اداروں کی تعداد 300سے زائد ہے ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک ہائی سکول کا ماہانہ بجٹ کم از کم 50لاکھ روپے سے 85لاکھ روپے تک ہوتا ہے۔اتنی خطیر رقم سرکاری خزانے سے آبِ رواں کی طرح بہائی جاتی ہے مگر ادارہ صرف 5طالب علم ہی تیار کر تا ہے جو جمع و تقسیم سے لاکھوں روپے میں ایک طالب علم پڑتا ہے۔دراصل ہر ادارہ اپنی کارگردگی ظاہر کرنے کے لئے بورڈز میں داخلے سے قبل ان طالب علموں کے داخلے بھجوانے سے گریزاں ہے کہ جن کی کامیابی متوقع نہیں ہوتی۔اس کے باوجود ہر سال 40سے 50فی صد طلباء ناکام ہونا لمحہ فکریہ ہیں۔اس طرح ہزاروں طلباء تعلیمی اداروں کی منفی پالیسی سے مایوس ہو کر تعلیم چھوڑنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔چندبرس قبل یہ پالیسی میٹرک کے امتحان میں لاگو تھی مگر اب پانچویں ،آٹھویں ،نویں اور حسبِ سابق دسویں جماعتوں کے امیدواران پر لاگو ہے۔اگر کسی بھی ثانوی ادارے کا ریکارڈ دیکھا جائے
تو پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک جو تعداد ہوتی ہے اس میں 50فی صد پرائمری سے چھانٹی کر دی جاتی ہے پھر ایسے ہی دیگر کلاسز میں یہی پریکٹس کر کے میٹرک تک چند طلباء کو بورڈز میں داخلے کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔یہ سب کچھ ہمارے قابلِ احترام اساتذہ کی مہربانیوں کا صلہ ہے جو ذیادہ تر سیاسی بیساکھیوں کے بل بوتے پر اپنا غمِ روزگار جاری رکھے ہوئے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ نجی اداروں میں تربیت یافتہ اساتذہ نہ ہونے کے باوجود ان اداروں کے نتائج قابلِ ستائش ہوتے ہیں جبکہ سرکاری اداروں میں ماہر مضامین ہونے کے باوجود اس قدر مایوس کن صورت حال دکھائی دینا باعث تشویش ہے۔
حالیہ نتائج کے مطابق سب سے زیادہ طلباء ضلع کوٹلی 11,128،مظفرآباد 8700،پونچھ 7793،میرپور6929،بھمبر 6178،باغ 5989،سدھنوتی5019 جبکہ سب سے کم شامل امتحان امیدواران ضلع ہٹیاں بالا 2303،نیلم 2272،حویلی 1656سے رہے۔اگرچہ ضلعی تناسب سے سب سے اچھا رزلٹ ضلع حویلی کا 74.03%رہا مگر وہاں بھی’’ چھانٹی فارمولا ‘‘حاوی دکھائی دیتا ہے۔اس ’’بہتر‘‘ کارگردگی کو قابل ستائش نہیں کہا جا سکتا۔ضلع کوٹلی میں تعلیمی فروغ قابل قدر ہے۔گیارہ ہزار طلباء و طالبات کی امتحان میں شرکت سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں چھانٹی پروگرام پر عمل نہیں ہوتا۔
نرسری سے باقاعدہ ریکارڈ کی روشنی میں ادارے کی کارکردگی ترتیب دی جانی چاہئے۔چھانٹی فارمولا کو جرم قرار دیکر ہر طالب علم کو بورڈ میں داخلہ کا مستحق قرار دیا جائے۔سکول چھوڑنے والے طلباء کی وجوہات کا ازالہ کیا جائے ۔اساتذہ کرام کو پیشہ ورانہ طور پر تعلیم دینی چاہئے ،ڈنڈا ازم کو جرم سمجھا جائے ،روزانہ کی بنیاد پر طلباء کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کی جائے ۔بعض اساتذہ سیاسی آشیرباد سے اپنے فرائض منصبی فراموش کر جاتے ہیں۔’’بخلاف اسامی‘‘ کے رجحان سے بھی تعلیمی اداروں کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔خواتین اساتذہ کو محض سیاسی بنیاد پر جائے رہائش سے دور تعینات کیا جاتا ہے جس سے تعلیمی سرگرمی متاثر ہونا یقینی ہے۔ملک بھر میں ہر گاؤں سے لیکر قریبی شہروں تک تعلیمی ادارے قائم ہیں ۔بے روزگاری اور جہالت کے خاتمے کے لئے فروغ تعلیم کا شعور اجاگر کیا جائے۔اس وقت چائلڈ لیبر کا بڑھتا ہوا تناسب انتہائی خطرناک ہے۔جس کی بڑی وجہ علمی فکر سے دوری ہے ۔تعلیمی اداروں میں ماحول دوست طرز فکر اس بحران سے نکلنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔جن تعلیمی اداروں سے دس سے کم طلباء بورڈ کے امتحانات میں شامل ہوتے ہیں ان کا بغور جائزہ لیا جائے کہ اتنی کم تعداد کی کیا وجہ ہے؟ایسے اداروں کو ڈی گریڈ کر دیا جانا چاہئے جو مایوس کن تعداد رکھتے ہیں۔تعلیمی ادارے مستقبل کے آئینہ دار ہوتے ہیں اس لحاظ سے اساتذہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پوری ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائیگی یقینی بنائیں۔با اثر شخصیات کی بے جا مداخلت اور انتقامی تبادلہ جات کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔یہ بھی علم میں آیا ہے کہ انٹرنل امتحانات میں امتحانی فیس بہت زیادہ لی جاتی ہے ۔خاص کر پرائمری کلاسز سے اخراجات کے تناسب سے بہت زیادہ امتحانی فیس لینا زیادتی ہے۔یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس اضافی امتحانی فیس سے جو رقم بچتی ہے وہ ہڑپ کر دی جاتی ہے اس ضمن میں تحقیقات کی جانی ضروری ہے۔سب سے بنیادی مسئلہ تعلیمی نصاب کی ہر سال تبدیلی کا با عث تشوئش ہے۔تعلیمی بورڈز میں ایسا ’’مافیا‘‘ ہے جو منافع خوری کی ذلت میں ملوث ہے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے۔نصاب تعلیم کو مستقل اور مفید بنایا جانا ضروری ہے۔فیسوں کی شرح میں مناسب حد رکھی جائے تاکہ ہر شہری اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا نہ کر سکے۔تمام ترقی یافتہ ممالک میں طلباء و طالبات کو مفت کتب دی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی شرح خواندگی انتہائی بہتر ہے ۔ ہمارے ہاں سیاسی اثر و رسوخ اور مافیا کا نفوزبہت زیادہ ہے ۔اے ای اووز ،ڈی ڈی ای اووز ،ڈی ڈی اووز،ڈی اووز کی تعیناتی سو فی صد سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے تقرریوں اور تبادلوں میں میرٹ و اہلیت کا ذرا بھی دھیان نہ ہونا تعلیمی نظام میں بگاڑ کا سبب بن چکا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی کمزوریوں کا مشاہدہ کر کے اصلاحات کی جائیں۔تاکہ نسل نو کی بہتر آبیاری ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: پڑھا لکھا پنجاب کا خوا ب ادھورا، خادم اعلی پنجاب فوری نوٹس لیں ، اہل علاقہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker