تازہ ترینڈاکٹر بی اے خرمکالم

عید الفطر تقاضے اور خوشیاں ۔

عیدکا لفظ عودسے ما خوذ ہے اس کے لغوی معنی بار بار آنا مسلمانوں کے جشن کا روز اورنہایت خوشی کے ہیں اللہ بزرگ و برترکی حکمت دیکھئے پہلے شعبان پھر رمضان اور پھر شوال کا مہینہ آتا ہے سبھی خوشیوں مسرتوں رحمتوں بھرے مہینے ہیں شعبان میں شب برات اور رمضان میں شب قدربڑی فضیلت اور رحمتوں والی راتیں ہیں ۔ عید الفطر شوال کی یکم تاریخ کو ہوتی ہے۔اس روز دنیا بھر کے مسلمان انتہائی جوش و خروش سے عید کی خوشیوں میں مشغول ہوتے ہیں حضور ö نے پہلی مرتبہ 2 ہجری میں عید الفطرکی نماز ادا کی ، یہ نماز دو رکعت نفل سنت موکدہ ہے حضرت محمد ö نے فرمایا جب عید الفطر کی رات آتی ہے تو فرشتے آپس میں خوشی کااظہار کرتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے خاص انواروتجلیات کا ظہور فرما کر فرشتوں سے پوچھتا ہے فرشتو اب اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جس نے پورا پورا کام کیا فرشتے عرض کرتے ہیں
اے اللہ اس کو پورا پورا ثواب دینا چاہئے، اس پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے تم گواہ بن جائو میں نے ان سب کو بخشش دیا جن لوگوں نے رمضان کا احترام کیا دن کو روزے رکھے اور رات کو قیا م کیا ۔
حضرت وہب (رض)روایت کرتے ہیں کہ۔
ہر عید کے روز ابلیس ﴿شیطان ﴾ چیخ چیخ کر روتا ہے تو دوسرے شیاطین اس کے گرد اکٹھے ہو کر پوچھتے ہیں اے ہمارے آقا کیوں روتے ہو تو وہ کہتا ہے اس روز حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اللہ تعالی معاف کر دیتا ہے لہذا اب تم پہ لازم ہے کہ انہیں شہوات و لذت میں ڈال کر غافل کردو
حضرت انس (رض) سے رویت ہے
عید الفطر کے دن جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چند کھجور نہ کھا لیتے عید گاہ تشریف نہ لے جاتے آپ ö طاق کھجوریں تناول کرنا پسند کرتے تھے
حضرت وہب (رض) کہتے ہیں کہ
اللہ تعالی نے جنت کو عید الفطر کے روز پیدا کیا اور طوبی کا درخت بھی عید ہی کے دن بہشت میں لگایا گیا حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی عید کے دن وحی پہچانے کے لئے منتخب کیا گیا
حضرت انس (رض) سے روایت ہے آقا جی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
جن لوگو ں نے روزے رکھے ہوتے ہیں انہیں اللہ تعالی تمام نعمتیں بخشتا ہے اور پورا پورا اجر دیتا ہے اور عید کے دن صبح کے وقت اللہ تعالی فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ تم زمین پر جائو فرشتے حکم کے موافق زمین پہ اترتے ہیں اور راستوں ،عام مجمعوں ،چوراہوں اور بازاروں میں اونچی آواز سے پکارتے ہیں اس کو تمام مخلوق سوائے جن و بشر کے سن لیتے ہیں اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تم اپنے پروردگار کی طرف سے نکلو کہ وہ تمہاری کم قیمت متاع کے عوض میں تمہیں بہت بڑی عطا فرمانے کو ہے اور کبیرہ گناہوں کو بخشنے ولا ہے
پس جب آدمی نماز عید کے لئے نکلتے ہیں نماز پڑھتے اور دعا مانگتے ہیں تو اس وقت اللہ تعالی بندوں کی تمام حاجت اور مراد پوری کرتا ہے جو سوال کرتے ہیں ہر ایک قبول ہوجاتا ہے کوئی گناہ باقی نہیں رہتا سب معاف کر دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ بخشے ہوئے لوٹ جاتے ہیں ۔حوالہ غنیۃ الطالبین۔
حضرت سید نا فاروق اعظم (رض) اپنے دور خلافت میں عید کے دن اپنے گھر تشریف فرما تھے کچھ صحابہ کرام (رض) آپ (رض) کو مبارک باد دینے کے لئے گھر گئے تو دیکھا کہ سیدنا عمر فاروق(رض) زارو قطار رو رہے تھے تو صحابہ کرام(رض) نے تعجب سے آپ (رض) سے رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ (رض) نے یوں جواب دیا
آج کے روز عید بھی ہے اور وعید بھی آج جس کی نمازیں اور روزے قبول و منظور کر لئے گئے اس کے لئے تو عید ہے جبکہ میں رو اس لئے رہا ہوں کیا خبر کہ میرے روزے اور نمازیں قبول ہوئیں یا نہیں
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں
عیدالفطر کے دن روزہ نہ رکھو بلکہ خوب کھائو پیو
عیدالفطر کے روز ہمیں چاہئے کہ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹیں نفرتیں اور عداوتیںبھلائیں مہنگائی کے عفریت نے غریب لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اگر ایسے حالات میں ہم عیدالفطر جیسے خوشی کے موقع پہ نادار اور مفلس لوگوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شال کر لیں تو اس طرح نہ صرف غریب لوگوں کے چہروں پہ خوشی تمتما اٹھے گی بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوش ہو ں گے اور انہیں کی خوشی میں ہماری اصل کامیابی و کامرانی پنہاں ہے

یہ بھی پڑھیں  بلوچستان میں دہشت گردی بھارت کروارہا ہے،ثبوت موجود ہیں، شہاز شریف

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker