ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

عیدآئی اور پختون بھائی

عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے اور سارے سال میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ انتظار صرف دو مہینوں کا ہوتا ہے ایک شوال جس میں عیدالفطر منائی جاتی ہے اور دوسرا ذوالحج کا جس میں عیدالضحٰی منائی جاتی ہے۔ان ماہ کا انتطار کیوں نہ ہو کیوںکہ اللہ کے رسول ا نے ان کو مسلمانوں کے لیے خوشی کا موقع قرار دیا ہے ۔ خوشی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو اچھے اچھے کپڑے، جوتے اور پھر کھانے کو لذیز ڈشیں جوملتی ہیں۔
رمضان اور شوال کے چاند دیکھنے میں پاکستان کے مسلمانوں میں ہر سال پھوٹ پڑجاتی ہے ۔ رمضان کے مہینے میں مسلمان عبادت کرتے ہیں کیونکہ اس ماہ میں شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں ۔مگر رمضان کے شروع اور آخر میں جب چاند نظر آنے کا وقت ہوتا ہے تو اللہ جانتا ہے کہ شیطان کے چیلے کہاں سے آجاتے ہیں جو لوگ سارا ماہ عبادت کرتے ہیں ، مساجد کو آباد کرتے ہیں مگر ایک روزے کی خاطر آپس میں لڑپڑتے ہیں ۔ رمضان کے بارے میں ارشاد ہے کہ جب رمضان کے ماہ میں اور روزے کی حالت میں تم سے کوئی لڑے تو اس کو بتا دو کہ میں روزے سے ہوں مگر ہمارے علما کرام جو رمضان میں بھائی چارے کا درس دیتے نہیں تھکتے وہ اس دن سب کچھ بھول بھال کر اپنی انا کی بھینٹ ان مسلمانوں کو چڑھا دیتے ہیں۔
ہمارے ملک کے پانچ صوبے ہیں مگر ایک صوبے کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس اہمیت کی وجہ عید ہے کیونکہ جب پورے ملک میں چاند نظر نہیں آرہا ہو تو اس صوبے میں چاند ضرور نظر آجاتا ہے اور ہٹ دھرمی کی بات دیکھیں کہ وہ اپنی ضد کی خاطر اسلامی تقاضوں کو بھول کر اپنے مسلمانوں بھائیوں کے روزے کو عید میںتبدیل کرادیتے ہیں۔
اِس بارتو شوال کے چاند کے معاملے میںاس صوبے کے علما کرام نے سعودی عرب کو بھی پیچھے چھوڑدیااور اِس سے بھی ایک روز پہلے عیدمناکرایک نئی روایت قائم کرڈالی ۔ہمیںنہیں معلوم کہ اِس سال ہمارے پختون بھائیوں کو واقعی عیدکا حقیقی چاند نظرآگیاتھا ؟مگر یہ چاندصرف ان پٹھان بھائیوں کو ہی کیوں نظرآیا؟ جب کہ جدیدسائنسی آلات سے آراستہ محکمہ موسمیات اور ماہرین فلکیات اِس چاند کو دیکھنے سے قاصر رہے اور یہ کیسا چاندتھاجو اپنی پیدائش سے پہلے ہی ان لوگوںکو نظر آگیا؟ یقینا 18اگست کو عید منانے والوں نے عیدکے چاند کا الٹراساونڈ دیکھاہوگا اور اُسی کو دیکھ کر ہی عید منانے کا اعلان کرڈالایاپھر کسی ماں نے اپنے بیٹے کا نام چاندخان رکھا ہوگا جس کو دیکھ ماں نے اپنے بچے کو پکارا ہوگا کہ وہ میرا چاند آیا بس یہ آواز سن وہاں کے لوگوں نے بھی شور مچا دیا ہوگا کہ عید کا چاند نظر آگیا۔عید کا چاند نظر آگیا۔
اسلام بتاتا ہے کہ رمضان کی وجہ سے جنت سارا سال سجائی جاتی ہے لیکن خیبر پختون خواہ میں شاید پچھلے کئی سال سے چند لوگ رمضان اور عیدالفطرکامزا کرکراکرنے کے لئے ِ سارا سال رمضان کا چانددیکھنے کے لیے ہی اپنی تیاریاں شروع کردیتے ہیں اورجب پاکستان کے مسلمان اپنے روزوں کی گنتی پوری کررہے ہوتے ہیں تو ہمارے اِس صوبے کے لوگ اِن دنوں عیدمنانے میں مصروف ہوتے ہیں۔خدا جانتا ہے کہ اس صوبے کے لوگ اورصوبائی حکومت رمضان اور عیدکے علاوہ باقی اسلامی مہینوں پر تنازعہ کیوں نہیں کرتے ۔ خصوصاً محرم الحرام پر کبھی اختلاف سامنے نہیں آیا ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ علما کرام کے ساتھ ساتھ ان کی صوبائی حکومت بھی شامل ہوجاتی ہے اور پھر جب ان سے پہلے عید منانے کا سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایسامحض اِس لئے کرتے ہیں کہ یہ لوگ رمضان اور عیدسعودی عرب کے ساتھ کرنے میںاپنے لئے فخرِ عظیم تصورکرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ عید پر یہ میسج ملک بھر میں گردش کرتا رہا کہ جو عید کے دن روزہ رکھے اس کو شیطان کہتے ہیں لیکن جو روزے کے دن عید کر لے اس کو پٹھان کہتے ہیں ۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جب محکمہ موسمیات اور ماہرین فلکیات یہ بات واضح کرچکے تھے کہ پاکستان میں19اگست سے قبل چاند نظر نہیں آئے گا تو پھر اس صوبے کے علمائ نے 18اور19اگست کوکیسے عیدمناڈالی؟ اس واقعہ کے بعدذی شعورلوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کیامرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے ملک میں فرقہ ورایت یاصوبائیت جیسی کسی گھناؤنی سازش کا توشکارنہیں ہورہے ؟ یاپھر اِس صوبے کے علمائ کرام کے نزدیک رمضان المبارک اور عیدکا اہتمام سعودی عرب کے ساتھ کرناباعث ثواب ہے تو پھر اِنہیں یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ یہ سال کے باقی دس مہینے بھی سعودی عرب کے ساتھ منایاکریں اور اِس بڑھ کر اگر یہ لوگ اپنا وقت بھی سعودی گھڑیوں کے ساتھ سیٹ کرلیں تو سحر و افطار اور نمازیں بھی مکہ مدینہ کے ساتھ ادا کرسکتے ہیں۔
یہ بات تو حکومت پاکستان کوسوچنی چاہیے کہ اس ملک میں ایسا نظام کیوں چل رہاہے؟ اس صوبے کے عوام پر قانون تو پاکستان کے لاگو ہوں مگر اسلام کو بدنام کرنے کے لیے یہ اپنی مرضی کریںاور ان کی ایسی حرکت سے نہ صرف پاکستان کی بدنامی ہے بلکہ اس سے زیادہ اسلام پر دھبہ لگتا ہے ۔ ملک میں ایسادوبارہ ہونے سے بچنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ اِنہیںپابندکیاجائے کہ وہ ہر حال میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ حتمی تسلیم کریںاور اُسی روز رمضان المبارک کے روزے رکھیں اور اُسی دن عید منائیںجب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اعلان کریں لیکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی بھی حتمی اعلان کرنے سے پہلے تمام زونل کمیٹیوں سے رابطہ کرے اور مکمل تصدیق کے بعد اعلان کرے ۔

یہ بھی پڑھیں  ہم مسلمان یا لبرل مسلمان

 

یہ بھی پڑھیے :

2 Comments

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker