بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

عید کا دوسرا دن۔۔۔انسانیت شرما رہی ہے؟؟

زندگی کے بارے ایک مفکر نے کہا ’’60برس ورکنگ لائف ہوتی ہے جس میں سے 20برس جوانی کی مستی کی نذر ہوجاتے ہیں20برس سو کر گذرجاتے ہیں،10برس شادی کی خوشی اور بہتر زندگی کی تلاش میں صرف ہوتے ہیں ،5برس معمول کی مصرفیات کی نذر ہوجاتے ہیں اور صرف ہر انسان 5برس کی زندگی کے لئے اتنے لمبے چوڑے منصوبے بناتا ہے جو اس کی سمجھ میں نہیں آتے ہیں اور داعی اجل ہو جاتا ہے‘‘۔ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں صرف ڈیڑھ منٹ دنیا میں ہے انسان زندہ رہتا ہے۔عام کہاوت ہے کہ زندگی پانی کے بلبلے کی مانند ہے۔اس مختصر اور فانی زندگی کے لئے ہم کیا کیا پاپڑ بیلتے جا رہے ہیں۔انسانی جانوں کے قتل ،انسانیت سوز مظالم اور روفرسا واقعات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ انسان اس قدر غفلت اور بے راہ روی کا کیسے شکار ہو رہا ہے۔
عید الفطر کے دوسرے روز امریکہ کی جانب سے وطن عزیز پر ڈرون حملوں سے چار شہری شہید کئے گئے،کئی دیگر افراد جن میں بچے اور بزرگ حضرات شدید زخمی ہوئے۔امریکی بدبختوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ وہ ہمارے مقدس تہوار کا ہی احساس کر لیتے اور اپنے بے پنا ہ مظالم کو روکے رکھتے ،انسانیت کا نام نہاد درس دینے والے بے دریغ انسانی جانوں کو گاجر مولی سمجھ کرکاٹ رہے ہیں اور ہمارے مسند ِ اقتدار والے
روایتی بیانات تک اکتفا کئے جاتے ہیں۔
اوکاڑہ میں ایک قانون شکن واقعہ سننے میں آیا کہ وہاں ایک حجام کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اسکی آنکھیں نکالیں گئیں اور زبان و ہونٹ بھی کاٹے گئے۔حجام کا جرم جس نوعیت کا بھی ہو وہ قابل دست اندازی پولیس ہے مگر کسی بھی شہری کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں،ایسا گزشتہ برس سیالکوٹ میں دو بھائیوں کے وحشیانہ قتل عام کی مثل دردناک واقعہ کی یاد دلاتا ہے۔جن کو وحشی لوگوں نے پولیس کی معیت میں قتل کیا گیا اور انصاف نہ ملنے کی وجہ سے آج تک لوگ خوف و ڈر سے زندگی گذار رہے ہیں ۔حالانکہ اس وقت حکومت سمیت تمام سیاسی شخصیات نے پسماندگان کو یقین دلایا تھا کہ ملوث لوگوں کو سرِ عام پھانسی پر لٹکایا جائے گا مگر چند دنوں بعد اس وقت کے ڈی ایس پی کو قانونی رعایت مل جانا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوا۔وارداتی جرائم پیشہ افراد یا گروپس سے پولیس ہمیشہ ملی بھگت کرتی ہے جس کی بنا پر جرائم روز بروز بڑھتے جا رئے ہیں ۔ایسا ہی ایک واقعہ ملتان میں پیش ہوا جہاں ایک درزی کو عید کے کپڑے نہ سلنے کی پاداش میں گھر بلا کر تشدد کیا گیا اور اس کے سر ،بھوئیں کے بال کاٹ دئے گئے۔ضلع سر گودھا کے علاقہ بھلوال میں وزیر آباد سے آئے ہوئے قاتلوں نے زمین کے تنازعہ پے 8افراد کو قتل کیا اور فرار ہو گئے ۔مذکورہ چاروں واقعات عید کے دوسرے دن رونما ہوئے۔اگرچہ وزیر ِ اعلیٰ شہباز شریف نے مذکورہ واقعات پر فوری کارروائی کا حکم صادر کیا ہے لیکن ماضی میں سیالکوٹ کے سانحہ کی طرح روایاتی حکم کی دلیل ہے۔ہمارا معاشرہ اب بھی وڈیرہ شاہی میں جھکڑا ہوا ہے۔گزشتہ روز ہارون آباد میں ایک با اثر زمیندار نے پُرانی رنجش کی بنیاد پر مسجد میں بوٹوں سمیت داخل ہو کر غریب محنت کش کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور مضروب کو مسجد میں ننگی گالیاں بھی دیں۔اگرچہ مقامی لوگوں نے اس پر احتجاج بھی کیا ہے مگر ابھی تک قانون حرکت میں نہ آنا اس امر کی دلیل ہے کہ قانون کی عمل داری بڑے لوگوں پر نہیںبلکہ غریب ہی ہر طرف سے مارا جا رہا ہے ۔
امریکہ مریخ پر کمند ڈال چکا ہے ،چین ٹیکنالوجی میں دنیا کا مقابلہ کر رہا ہے جو ہم سے دو سال بعد آذاد ہوا تھامگر ہم ابو جہل کے دور سے بد تر سماجی حالات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ۔اسی عید سے ایک دن قبل عید کی خوشیاں اپنے گھروں میں منانے کے لئے گلگت جانے والے 25 افراد کو مسلح دہشت گردوں نے انہیں بسوں سے اتار کر گولیوں سے چھلنی کر دیا اور دہشت گرد پُرسکون انداز سے فرار ہو گئے۔ان مظالم کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ قانون کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے۔پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے باوجود کارکردگی نہ ہونا باعث ِ تشویش امر ہے۔
آذاد کشمیر میں بھی عید سے دو دن قبل وزیرِ ٹرانسپورت طاہر کھوکھر کی کاوشوں سے موٹر وے کی طرح تشکیل پانے والی پولیس فورس نے قانون کی عمل داری کے لئے یک دم چالان کرنے کی کارکردگی ظاہر کی جس سے عوام مسائل کا شکار ہوئے۔قانون کی عمل داری اچھی بات ہے لیکن 60سال سے رشوت اور سفارش پر قائم ہونے والے معاشرے کو ایک دم بدلنا محال ہے۔موٹر وے یا اسلام آباد پولیس کو بھی شروعات میں عوامی شعور بیدار کرنے میں وقت لگا اب وہ کامیاب پولیس ادارہ بن چکا ہے۔طاہر کھوکھر نے بلا شبہ مثالی اقدام کیا ہے مگر عوام میں شعوری بیداری پیدا کرنے کے لئے ابھی تک کوئی مشق نہیں کی گئی۔ایک دم پکڑوں اور چالان کرو کی پالیسی سود مند نہیں ہے۔ایسے ادارے اپنی ساکھ کھو جاتے ہیں۔
قانون وہی ہوتا ہے جو عوام کے مفاد میں ہو اور قانون کی عمل داری عوامی تعاون سے ممکن ہو تی ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ پولیس کی اصلاح کے لئے باقاعدہ ورکشاپس کا اہتمام کرئے ،عوام میں بیداری مہم چلائی جائے،جرائم پیشہ اور دہشت گرد گروہوں کے اردگرد گھیرا تنگ کیا جائے۔قانون میں پائی جانے والی ایسی خامیوں کا ازالہ کیا جائے جن سے ملزمان کو تحفظ میسر آتا ہو۔اکثر بے گناہ لوگ قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں ان اسباب و کمزوریوں کو دور کیا جانا از بس ضروری ہے ۔زمین کے تنازعات پٹواریوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں ایسے پٹواریوں کو کڑی سزا دی جائے جو عوام کو الجھائو کا شکار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔زیادہ تر واقعات میں پولیس کی با اثر لوگوں کے ساتھ ملی بھگت ظاہر ہوتی ہے جس سے غریب شہری مظلومیت کا شکار ہے ۔پولیس کو انسان دوست بنایا جائے تاکہ عوام میں ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو۔انگریز کا کالا قانون اب بھی موجود ہے جن میں اصلاحات درکار ہیں ۔عوامی نمائندے اپنی مراعات اور تحفظ کے لئے تو 24گھنٹوں میں قانون بنا لیتے ہیں کیا عوام کی بھلائی کے لئے ان کے پاس وقت نہیں۔جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ جمہوری قوتیں عوام کے مفادات کو مقدم رکھیںتاکہ عوام جمہوریت کے ثمرات سے استفادہ حاصل کر کے قومی ترقی اور خوشحالی کا دور دیکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : اوکاڑہ میں'' امن رنگ'' پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب

یہ بھی پڑھیے :

7 Comments

  1. very nice informatic column……i like to read it…..and thnx to bashir sb like he contribute
    hin views wid awll of uss!!!
    Qaiser mir
    London!!

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker