بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

عیدکی خوشیاں ۔۔۔۔آذادی کے ثمرات اور کچھ کرنے کا مرحلہ!!!!

عید الفطر سب قارئین کو مبارک ہو،اللہ عید کی رحمتوں اور برکتوں سے کل جہاں پر فضل و کرم فرمائے۔اس مبارک دن پر قومی ترقی و خوشحالی کے لئے سب مل کر اللہ سے دعائیں کریں کہ ربِ کائنات ہمیں اور ہماری نسلوں کوآذادی کے حقیقی انعامات سے نوازے اس اہم موقعہ پر ارباب اختیار سے بھی امید ہے کہ وہ رعایا کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے نئے جذبے سے ملک کو درست سمت کی جانب گامزن کریں گے ،اسی نسبت سے ایک اہم معاملہ پر صاحبِ اقتدار سے ایک اہم مسئلہ کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا کہ وہ اس ضمن میں تاریخی اقدام اٹھائیں گے۔چونکہ خوشی کے ساتھ ساتھ مسائل کے حل کا ذکر ان دو چھٹیوں میں سوچنے کے لئے بہتر ماحول دستیاب ہونے سے مثبت پیش رفت کا زریعہ بن سکے گا۔
ہر فرد سے لیکر معاشرے تک آذادی کے ثمرات اسی صورت نکھرتے ہیں جب آذادی کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کی جا رہی ہو۔وطنِ عزیز کے قیام کا اولین مقصد بھی یہی تھا کہ ہر شہری آذادی کے حقیقی ثمرات سے استفادہ حاصل کر کے ترقی کے منازل طے کر سکے۔لیکن بد قسمتی سے قائد اعظم (رح) کی رحلت کے بعدپے در پے آمریت پسندوں نے آذادی کے معنی و مفہوم تک بدل کر رکھ دیئے۔بہر حال اس تفصیل میں پھر کبھی بحث کروں گا۔آج کشمیر کے اس خطے کا ذکر کرتے ہیں جو غازیِ ملت سردار محمد ابراہیم خان ،قائدِ حریت راجہ حیدر خان،مجاہدِ اول سردار عبدالقیوم خان سمیت ان گنت مجاہدین کی سیاسی و عسکری جد و جہد کے نتیجے سے ’’آذاد جموں کشمیر‘‘ کے نام سے منسوب ہوا۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی مرضی اور منشائ سے اس کے مستقبل کا تعین کرنا قرار پایا گیا جبکہ آذادکشمیر کو لوکل اتھارٹی کا درجہ دیا گیا۔ آذاد کشمیر کی حکومت بیس کیمپ کے طور متعارف ہوئی جس کا انتظام’’ وار کونسل ‘‘بعد ازاں رولز آف بزنس کی بنیاد اور مختلف ایکٹ کے نفاذ سے نظام کار چلتا رہا۔ آذاد جموں کشمیر کے پہلے صدر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان نا مزد کئے گئے ۔1949ئ میں وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کا قیام عمل میں لایا گیا جو بد ستورآب و تا ب سے اب بھی قائم ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ 1952ئ تک صدر کو کابینہ بنانے کا اختیار نہ تھا۔1964ئ،1968ئ،1970ئ،1971اور پھر 1974ئ کا ایکٹ آذاد کشمیر کا آئین قرار دیا گیا۔واضح رہے کہ 1970ئ کے ایکٹ میں دفاع،خارجہ ،تجارت،کرنسی اور اقوام متحدہ کے مشن کے علاوہ تمام معاملات حکومت آذاد کشمیر کو دیئے گے۔1973ئ کے آئین میں آرٹیکل 257کے تحت ریاست جموں کشمیر کے الحاق کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات کا تعین ریاستی عوام کی خواہشات کے مطابق قرار دیا گیا۔
یہ بات طے ہے کہ رائے شماری سے قبل اس خطہ کی متنازعہ حیثیت ہے۔بھارت نے اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں سے مسلسل انحراف کرتے ہوئے ریاست کے بڑے حصے کو بھارت کی 8لاکھ فوج نے یرغمال بنا رکھا ہے۔1947ئ اور بالخصوص 1988ئ کے بعد شروع ہونے والی تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زائد بے گناہ شہریوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا،لاکھوں بھارتی مظالم سے معذور ہوئے ،قیمتی املاک کو آگ لگا کر خاکستر کیا گیا،مساجد،مزارات اور تاریخی مقامات نذرِ آتش کئے گئے۔ہنوز بھارتی استبداد کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔اس کے بر عکس آزاد خطہ میں ایک نیم خود مختار حکومت قائم ہے جس کا اپنا وزیر ِ اعظم،صدر ،سپریم کورٹ سمیت ما تحت عدالتیں اور ذیلی نظامِ کار ہے تاہم آئینی ابہام ایکٹ 1974ئ نے داخلی خود مختاری متا ثر کر رکھی ہے۔اس بارے لیڈر آف دی اپوزیشن و صدر پاکستان مسلم لیگ ن راجہ فاروق حیدر خان نے مبنی بر حقیقت موقف اختیار کیا ہے کہ ایکٹ 1974ئ مکمل داخلی خود مختاری نہیں دیتا لہذا اسے ختم کر کے آئینی حیثیت دی جائے۔ان کا یہ موقف اس وقت عوامی پذیرائی اختیار کر گیا جب گزشتہ دنوں کشمیر کونسل میں کرپشن کے حوالے سے حکومت نے احتساب بیورو کے چئرمین کو بر طرف کرنا پڑا۔اس عمل کے بعد حکمران جماعت کے سواسب سے بڑی اپوزیشن پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر و لیڈر آف دی اپوزیشن راجہ فاروق حیدر خان کے موقف پر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان اور جموں کشمیر پی پی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم خان نے زور دار انداز سے کشمیر کونسل کے دائرہ کار کے تعین کے لئے آئینی ترمیم کا مطالبہ کر دیا۔
بلاشبہ ایکٹ 1974ئ بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں قابلِ ترمیم ہے۔پاکستان کی جمہوری حکومت نے جہاں کئی آئینی تر میمات کے ذریعے صوبوں کو ’’صوبائی خود مختاری ‘‘دی ہے ۔جس سے صوبوں میں موجود احساسِ محرومی کا کافی حد تک ازالہ ہوا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ آذاد کشمیر میں بھی پائے جانے والے خلائ کو پُر کیا جائے تاکہ کشمیر کے آرپار مفید تر پیغام گردش کرئے ا ور اس کا تحریک آذادی کشمیر پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ از سرِ نیا آئین اتفاق سے تشکیل دیا جائے جس میں جملہ موجودہ ایکٹ کی خامیوں کو پیشِ نظر رکھ کر مثالی آئین مرتب کر کے قانون ساز اسمبلی کے ذریعے لاگو کیا جائے۔ہمیں اس پہ پڑے بغیر قومی اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا کہ ماضی میں کون کون سی شخصیات سے غفلت ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب تک بے آئین ریاست چل رہی ہے۔ممکن ہے کہ اس وقت حالات ہی ایسے ہوئے ہوں جن کی روشنی میں مختلف ایکٹ کا سہارا لیا گیا ہو۔اب اس غلطی پر اکڑنا اچھا نہیں بلکہ وضع داری اور آمدہ حالات کا مشاہدہ کرتے ہوئے سنجیدہ فکر سے آئین سازی کر کے تاریخ میں نام رقم کیا جائے۔یہ امر خوش آئند ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تحریک پر حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل کی ہے جس کے سربراہ وزیر حکومت چوہدری لطیف اکبر نامزد کئے گئے ہیںجن کی علالت اور بیرون ملک علاج معالجہ کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے ان سطور میں جناب چوہدری لطیف اکبر کی سحت یابی کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت انہیں جلد صحت مند فرمائے اور اس تاریخی موڑپر انہیں نیا آئین مرتب کرنے کا اعزاز نصیب ہو آمین۔یقینی طور پر آذادی کے ثمرات اسی صورت میں سامنے آسکتے ہیں اور کشمیری قوم کا تشخص دنیا میں ابھر سکتا ہے۔وزارت امور کشمیر کو بھی کھلے دل سے کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ کشمیریوں میں پائے جانے والے خدشات کا ازالہ ہو اور تکمیل ِ پاکستان کا خواب پورا ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں  رینالہ خورد:صدرانجمن تاجران بھائی سمیت بجلی چوری کرتے پکڑے گئے

 

یہ بھی پڑھیے :

3 Comments

  1. Mir sahib you drawn a complete map of the situation which prevails under that and then circumstances. We the poeple of Pakistan and Kashmir who lives in Barcelona like your valuable article and hope you will continue your struggle to shake the concious of the Nation.

  2. its a great one line n u always mentioned the super article we are very thankfull to you for your accurate and  strong arguments now this is the nyc struggle plz continue  your struggle like dis.this website is very interactive and i hope  in that future looking bright.
    Waseem Mir
    Australia 

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker