شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / عید ! کسی گھر صف ماتم نہ ہو

عید ! کسی گھر صف ماتم نہ ہو

کامیاب حکومت کی پہلی ترجیات میں جو چیز شامل ہوتیں ہیں۔ ان میں بنیادی انسانی روز مرہ کی اشیا کی بلا روک ٹوک ا اور سستے نرخروں، میں ہر جگہ فراہمی ہوتی ہیں، نیز تعلیم اور صحت کو اولین فوقیت حاسل ہوتی ہے۔پاکستان کے معر ض وجود میں آنے کے ساتھ ساتھ ہماری بدنصیبی بھی شروع ہوگئی تھی جو تا حال جاری و ساری ہے۔ مرحوم و مغفور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اور شیہد ملت لیاقت علی خان جیسے محب وطن اور دانشور بھی ہم سے روٹھ کر اللہ رب العزت کے حضور پیش ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کروٹ کروٹ ان کو جنت نصیب
کرے، قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور آپ کے تمام ساتھیوں کو جنہوں نعمت خداوندی اسلامی جموریہ پاکستان جیسا ملک ہمیں دیا۔حکومت کوئی بھی ہو بحثیت انسان اچھائی اور برائی کا پہلونظر اداز نہیں کیا جا سکتا،تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلی حکومتوں کی طرح سستے رمضان کا انعقاد کر کے محب وطن حکومت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کڑوڑوں روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔ نیت کا حال صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ مگر جس چیز کی اُمید کی جارہی تھی وہ کسی بھی رمضان بازار میں پوری نہیں ہوئی۔صرف جمع و تفریق کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہر با شعور انسان جانتا ہے۔ کہ جو کوالٹی عام بازار کی ہے وہ رمضان بازار میں نظر نہیں آتی۔ رمضان میں جو آٹا سست داموں رخت ہو تا ہے۔ اس کا معیار حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق نہیں کیونکہ جو گندم گوداموں میں خراب ہو رہی ہوتی ہے مل ملکان ذاتی اثروسوخ استعمال کر کے حکومتی منشاء اور آشیرباد کے تحت کوڈیوں کے بہاؤ خرید کر منافع جمع منافع کے تحت رمضان بازار میں سستے داموں پہنچا کر غریبوں کی غربت کا مزاق اُڑایا جاتا ہے۔ اور ہر سال حکومت نام و نمود کی نمائیش کے لئے ایسے ڈرامے رچائے اور بسائے جاتے ہیں۔ یہ سستے رمضان بازار ہوتے ہیں جو ہوتے تو سستے ہیں مگر وزرا کے دورے انتہائی مہنگے ہوتے ہیں۔صرف مہنگے ہی نہیں بلکہ پوری انتظامیہ کو دفتروں سے نکل کر سستے رمضان بازار کی دیکھ بحال اور معیار و مقدار کے لئے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ رمضان بازار بھی دیگر بازاروں کی طرح عوام کو ریلیف دیتا ہے جیسا کہ جمہ بازار،منگل بازار، اتوار بازار اور لنڈا بازار وغیرہ میں عوام کو روز مرہ کی اشیاء سستے داموں مل جاتی ہے مگر رمضان بازار کی طرح ہر نتھو پتھو سمیت حکومتی عوامی سیاسی انتظامیہ کے افسران کے دوروں پر دورے ہو رہے ہیں۔ جنکا فوٹو سیشن کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ رمضان بازار میں معیاراور مقدار کا معقول انتظام ہیں، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں۔ پھر بھی غریب عوام کو رمضان بازار کا وہ فائدہ نہیں جو ہر باشعور اور محب وطن کا خواب اور تمنا تھی۔ سوال پیدا ہوتا ہے؟کیا غریب عوام کو رمضان میں روز مرہ کے کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کے علاوہ اورکوئی کام نہیں! پوری انتظامیہ رمضان بازار میں مصروف کر دی جاتی ہے۔ ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی او، اسسٹنٹ کمشنرز۔ تحصیلدار گرداور پٹواری اور پولیس سب کے سب یا تو رمضان بازار میں ڈیوٹی دے رہے ہیں یا رمضان بازار کے دورے کر رہے ہیں انتظامیہ کو رمضان بازار میں فرا ئض کی ادائیگی کی وجہ سے دیگر تمام شعبہ زندگی کی طرح ٹرانسپورٹروں نے اپنی دنیا اپنی سلطنت اور اپنی حکومت بنائی ہوتی ہے۔ نہ کرائی نامہ اور نہ ہی کرائے کا کوئی شڈول وجہ رمضان بازار،رمضان بازار وں کے علاوہ کسی جگہ صفائی ستھرائی نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی وجہ پوری انتظامیہ رمضان بازار کی سجاوٹ اور دوروں کو حتمی شکل دینے میں مصروف نظر آتی ہے ایک منٹ کے لئے فرض کر تے ہیں۔۔ انتظایہ اپنے اپنے فرائض ادا کر رہی ہے اور عام بازار سے سستی اشیا رمضان بازار میں فرخت ہو رہی ہے، پاکستان کی ستر فیصد آبادی دور دراز دیہاتوں میں آباد ہے۔ جنکا وقت
مزدوری کر کے گزرتا ہے۔ اگر ایسا آدمی بازار آئے تو کم از کم کرایہ جو ایک سو سے دو سو روپیہ ہے۔ کیا وہ غریب مزدور رمضان بازار سے کتنے پیسے کی خریداری کر لے گا؟؟یہ بھی سچ ہے اگر وہ مقامی دکاندار(اپنے گاؤں) سے التماس کرے تو وہ بھی کوئی ڈسکاؤنٹ کر دے اور کرایہ وغیرہ نکال کر رمضان بازار کے حساب سے اسکو مقامی طور پر وہ اشیاء سستی مل جائیں جہاں تک سیاسی قد کاٹھ بڑھانے کی بات ہے تو رمضان بازار اور رمضان بازار کے دورے اور پھر دوروں کی کوریج کاغزی کاروائی تک ٹھیک ہے مگر حقیقت میں عوام کے ساتھ ایک سنگین مزاق ہے۔سفیدپوش آدمی جس کے چار پانج بچے ہیں اس کو پہلے رمضان سے ہی بچوں کی عید پر کپڑے اور جوتوں کی فکر کھائے جارہی ہوتی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی متوسط طبقہ میں اگر کسی بچی کی پیدائیش ہو جائے تو روز پیدائیش سے لیکر بچی کی رخصتی تک ہر روز کچھ نہ کچھ جمع کرتے رہتے ہیں اور پھر شادی کے دن جہیز کی صورت میں اپنی لخت جگر کو فارغ کرتے ہیں۔ اعلیٰ احباب سے گزارش ہے افطاری کے دستر خوان دیہاتوں اور شہروں میں حکومتی اور سماجی شخصیات کی سرپرسی میں لگائے جاتے ہیں۔ لوگ زکواۃ اور صدقہ اور فطرانہ رمضان میں دیتے ہیں۔سفید پوش طبقہ اپنے لخت جگروں کی خواہشات، آرزو، اور خوشیاں پوری کرنے کی خاطر سحری و افطاری میں کنجوسی برتتے ہیں تا کہ بچوں کی عید پرچیخ و پکار یا رونا دھونا نہ ہو اور بچے خوشی سے عید گزار سکیں۔۔۔ کیونکہ بچے تو بچے ہیں اگر آپ سفید پوش طبقے کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو رمضان بازار میں کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کی بجائے پٹرول ڈیزل اور ٹیکس میں چھوٹ دیکر تاجروں کو پابند کر دیں کہ یہود و نصریٰ کی طرح ہر چیز کے ریٹ میں رمضان میں کمی کردیں اس طرح عوام کوحقیقی ریلیف بھی ملے گا اور حکومتی خزانے پر بوجھ بھی نہیں ہوگا۔ اور خاص بات یہود و نصریٰ کی طرح جیسے وہ اپنی عوام کو مزہبی تہواروں پر خصوصی ریلیف دیتے ہیں آپ بھی اس سلسلہ میں بسم ا للہ کریں اللہ برکت دے گا۔ کسی بھی ا عیسائی ملک کو دیکھ لو غریب ہے یا امیر وہ اپنی کرسمس (عید) پر ہر چیز آدھی قیمت پر فروخت کرتے ہیں حتیٰ کہ موبائل کمپنیاں لوڈ کرنے پر ڈبل واپس کرتی ہیں۔ کیا یہ ریلیف حکومت پاکستان اپنے شہریوں کو عید پر تحفہ کی صورت دے گئی؟غریبوں اور سفید پوش طبقے کے لوگوں کو رمضان میں کوئی پرشانی نہیں ہوتی کیونکہ اسلامی جموریہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور یہاں کے لوگ ثواب کی خاطر رمضان میں صدقہ خیرات اور زکواۃ کے علاوہ بھی مالی مدد کرتے ہیں، اور ویسے بھی رمضان برکتوں والہ ماہ ہوتا ہے، اس لئے ماہ رمضان میں جگہ جگہ روزے رکھوانے اور روزے کھلوانے کے غیر معمولی انتظامات ہوتے ہیں، حکومت رمضان بازار کی بجائے عید بازاروں کا انعقاد کروائے تا کہ غریبوں یتیموں بیوؤں اور سفید پوشوں کے بچے بچیاں بھی عید کی خوشیاں منا سکیں، علمائے کرام سے بھی گزارش ہیں کہ فطرانہ کی ادائیگی نماز عید سے پہلے کی
بجائے آخری عشرہ شروع ہوتے ہی ادا کرنے کی تلقین کیا کریں تا کہ غریبوں کا بھرم بھی رہ جائے اور خوشی کے دن کسی گھر میں صفِ ماتم نہ بچھے۔ دعا ہے اللہ پاک عید کے دن کسی گھر میں صف ماتم نہ ہو بلکہ ہر امیر غریب کے گھر خوشیاں نصیب ہوں

یہ بھی پڑھیں  پتوکی شوگرمل انتظامیہ اپنے مڈل مینوں کے ذریعے کین ایکٹ کی دھجیاں اڑادی