تازہ ترینخان فہد خانکالم

عید مگر کس کی؟

fahadماہ رمضان اپنی رحمتیں ،برکتیں بانٹتا ہوا گزر تا جا رہا ہے اور اب عید کی آمد آمد ہے۔دنیا میں عید کے معنی خوشی کے دن کے لیے جاتے ہیں لیکن آسمان(عرش) پر عید سے مراد انعام کے دن کے ہیں ۔یہ خوشی اور انعام اُن کے لیے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو پایا ہے۔اس کا احترام کرتے ہوئے اپنے نفس پر قابو رکھابُرے کاموں سے بچا رکھا ۔رمضان کے تمام روزے رکھے عبادات کیں اورعید کی رات(چاند رات) جب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے اپنے بندوں کہ اعمال نامے مانگے گا پھر اُن کی عبادات ،روزے قبول ہوجائیں یہ عید کا دن اُن کے لیے باعث مسرت اورانعام کا دن ہے کیونکہ وہ پہلے عشرے میں رحمت ،دوسرے میں مغفرت اور تیسرے عشرے میں دوزخ سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اب وہ واقعی ہی خوشی منانے کے لائق ہیں ۔ایک واقعہ اسی حوالے سے نقل کرتا جاوں کہ حضرت وہب بن منبہ کو عید کے دن روتے ہو ئے دیکھ کر کسی نے پوچھایہ تو خوشی اور زینت کا دن ہے حضرت وہب بن منبہ نے فرمایا بے شک یہ خوشی کا دن ہے لیکن اُن کیلئے جنہوں نے روزے رکھے عبادات کی اور ان کے روزے عبادات اللہ نے قبول کر لی ہوں۔اس واقعہ سے مزید اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ عید کادن بے شک خوشی کا دن ہے لیکن صرف اُن کے لیے جو اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔لیکن ہمارے ہاں سب عید کی خوشیاں خوب مناتے ہیں چاہے روزے رکھیں یا نہیں دیگر عبادات کریں یا نہیں رمضان المبارک مہینے کا احترام کریں یا نہیں۔رمضان شروع ہو تا جائے اور عید کی تیاریاں شروع ہو جا تی ہیں جو چاند رات تک مکمل نہیں ہو تیں۔ہر شخص عید پر خوشی میں نئے کپڑے ،نئے جوتے اوراچھے اچھے کھانے بناتے اور کھاتے ہیں۔ جو ان کی خوشی کا سب سے بڑا حصہ ہو تا ہے اس کے علاوہ پکنک کے لیے جانا یا دیگر رشتہ داروں عزیزوں ،دوست احباب سے ملاقاتوں اوررنگین محفلیں ان کی خوشی کا پا رٹ ٹو ہو تا ہے ۔خوشی کا ہرگز اب یہ مطلب نہیں بنتا کہ جو دل چاہے وہ کریں خدا کو بھول جائیں اور ساتھ ہی ساتھ ان غریبوں ،مفلسوں کو بھی بھول جائیں جو عید کی خوشیوں میں شامل نہیں ہو سکتے ۔عیدالفطر کا یہ تہوار وسیع پیمانے پر اخوت ،بھائی چارے کا درس بھی دیتا ہے ۔خیر خواہی کا یہ عالم ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ عید کی نماز پڑھنے سے پہلے گھر کے سبھی افراد کی طرف سے صدقتہ الفطر ادا کرے تاکہ غریب بھی اپنی ضروریات پوری کرے اور عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکے ۔اگر عید کی مسرتوں میں ہمسایہ ،غریب نادار افراد ،یتیم بچوں کی فریادیں ہمارے دل ودماغ کو اگر متاثر نہ کرسکیں تو یہ ہماری خوشیاں درحقیقت ہمارے ضمیر پر بوجھ ہوں گی ۔ایک دفعہ حضرت علیؓ کو لوگ خلافت کے زمانے میں عید کی مبارک دینے گئے تو دیکھا کے سوکھے ٹکڑے کھا رہے ہیں ۔آنے والے شخص نے کہا حضرت!آج تو عید کا دن ہے یہ سن کر خضرت علی نے سرد آہ بھری اور فرمایا ؛جب دنیا میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جن کو یہ ٹکڑے بھی میسر نہیں تو ہمیں عید منانے کا کیوں حق حاصل ہے ۔پھر فرمایا عید تو ان کی ہے جو عذاب آخرت اور مرنے کے بعد کی سزا سے چھٹکارا پاچکے ہیں۔اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی خوشی میں غریب ،مسکین لوگوں کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے اپنی خوشیوں میں ان کو شریک کرنا سعادت ہے ۔بیواؤں اور یتیم بچوں کو خوشیاں بانٹنا عبادت ہے۔ ہمارے پاکستان غریبوں ،مسکینوں،یتیموں اور بیواؤں کی خدمت کی بات دور کی سب کو بس اپنی پڑ جاتی ہے ۔ جہاں عید کی خوشی رمضان کے شروع میں ہی محسوس ہوتی ہے تو ہر شخص کو اپنے کپڑے ،جوتے ،اچھے اچھے کھانے پکانے کے اخراجات کی اور پھر بچوں کو عیدی دینے کی بھی پر یشانی لگ جاتی ہے کہ یہ اخراجات کب کیسے پورے ہو ں گے ۔اس کے لیے ہر شخص آمد رمضان سے ہاتھ پاؤں مارنے جستجو کرنی شروع کر دیتا ہے ۔ایک مزدور شخص مزید کام کر کے محنت کر کے اور اپنے اخراجات کو محدود کر کے عید کے لیے اپنی آمدن بڑھتا ہے ۔لیکن ہمارے ملک میں ایک طبقہ ایسا بھی جو بغیر کسی محنت کے اپنی آمدن بہت آسانی سے بڑھا لیتا ہے جیسا کہ پولیس والے اپنے مورچے میرا مطلب ناکے سنبھال لیتے ہیں جہاں ہر آنے جا نے والے آدمیوں سے ناجائز پیسے ہتھیائے جاتے ہیں اور بعض اوقات واضح الفاظ میں عیدی مانگی جاتی ۔اس کے علاوہ ائیر پورٹ پر بھی بیرون ملک سے پا کستان آنے والے افراد سے بھی بہت سے طریقوں سے ا ن کی جیب ہلکی کروالی جاتی ہیں ۔ چیکنگ کے نام پر ائیر پورٹ پرلوگوں سے کاغذات مانگے جاتے ہیں جن کو وصول کرنے کے بعد چیکنگ کرنے والا اہلکار منظر سے غائب ہو جاتا جس کے بعد اایک شخص جس کے کاغذات واپس نہ ملیں وہ پریشان ہونے کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے ۔اہلکار کا پیچھا کرنے اور شکایت کرنے بعد اُس شخص کچھ روپے مانگے جاتے ہیں جس کے بعد ان کو کاغذات واپس کیے جاتے ہیں ۔اس ہی طرح ہمارے اندروں ملک ٹرانسپوٹر ز کو دیکھ لیں جہاں عید قریب آئی کرایہ جات اپنی من مرضی کے وصول کرنے شروع کردیتے ہیں ۔ان کرایوں میں اضافہ عید سے تین چار دن پہلے کیا جاتا ہے لیکن عید سے ایک دن پہلے کرایہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے ۔کرایہ ڈبل سے بھی زیادہ وصول کیا جاتا ہے ۔جو ایک عیدکی آمد کی کرامات ہیں اس طرح سارا بوجھ صرف غریب آدمی پر پڑتا ہے جو اپنا گاؤں چھوڑ کر کہیں اور رزق کے حصول کے لیے دوسرے شہر میں گیا ہو تا ہے ۔ایسے اقدامات ہماری پاکستان میں ہی ہیں جہاں عید جیسے مذہبی تہوار لو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker