ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

کالمسٹ کونسل کی عید اور ادبی لوگوں کا ملن

تفریح ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے ۔ اسلام نے مسلمانوں کو خوشی کے دو دن عید کی صورت میں دیے۔ عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے مصروفیت کے اس دور میں لوگ عید ملن پارٹی کا اہتمام کرتے ہیں ۔ پارٹی کیسی بھی ہو ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ وہ اس میں شریک ہو ، احباب سے ملاقات کرے اور لطف اندوز ہو۔ پارٹی شہر میں ہو یا گاؤں میں ، پارک میں ہو یا ہوٹل میں اس کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے اوراگر شہر بھی زندہ دلان لاہور کا ہو تو پارٹی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اگر شرکاء کا تعلق پڑھے لکھے ادبی طبقے سے ہو تو پارٹی میں ویسے ہی خوبصورتی آجاتی ہے۔ تقریب میں ادب اور صحافت سے وابستہ پاکستان بھر سے آئے ہوئے لوگ ہوں تو اس محفل میں مجھ جیسے سے طالب علم کو سیکھنے کو بہت سی باتیں ملتی ہیں۔
کالمسٹ کونسل آف پاکستان نے مل بیٹھنے کے لیے لاہور کے ایک شاندار ہوٹل میں عید ملن پارٹی کا اہتمام کیا ۔ عیدملن پارٹی کا دعوت نامہ پا کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اس بہانے بڑے بڑے کالمسٹ سے ملنے کا موقع ملے گا۔ خدا خدا کر کے انتظار ختم ہوا اور آخر کار وہ دن آگیا جب میں پارٹی میں شرکت کے لیے لاہور پہنچا۔ سی سی پی کے صدر ایم اے تبسم ہوٹل کے گیٹ پر مہمانوں کو ویلکم کہنے کے لیے خود موجود تھے جو آنے والے ہر مہمان کو خوش آمدید کہتے ۔ خوش آمدید کہنے کا یہ سلسلہ تقریباًایک گھنٹہ تک چلتا رہا۔ مہمانوں کی کولڈ ڈرنکس سے تواضع کی گئی ۔تلاو ت قرآن پاک سے پروگرام کا با قاعدہ آغاز کیا گیا۔ سب لوگوں نے باری باری اپنا تعارف کرایا۔ کالمسٹ کونسل آف پاکستان کے صدر نے استقبالیہ پیش کیا اور آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ پھرو ہی ہوا جو ہر پارٹی میں ہوتا ہے پروگرام اپنی جگہ لیکن ملنے والوں کی گپ شپ تھیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ تمام کالمسٹ سے مل کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ جن کی اخبار میں صرف تصویر دیکھتے تھے آج ان سے بالمشافہ ملاقات کا موقع مل رہا تھا۔ سب سے پہلے سی سی پی کے چیئرمین غازی شاہد علوی جو اپنی علالت کے باعث اس پروقار پارٹی کی زینت نہ بن سکے ، ان کا پیٖغام سنایا گیا جس میں انہوں نے سی سی پی کے لیے اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد کراچی سے نومنتخب کنونیئر میر افسرمان کا دوستوں کو عید مبارک اور نیک دعاؤں کا پیغام دیا گیا۔ سب دوستوں نے سی سی پی کی ترقی کے لیے اپنی آرا سے آگاہ کیا جن کو وہاں پر موجود مرکزی قیادت نے سنا اور پھر ان پر ایکشن لینے کا وعدہ کیا۔ اس پر مسرت موقع پر خوشی کی نئی خبر جو سننے کو ملی وہ کالمسٹ کونسل کی انٹر نیشنل ، خواتین ونگ اور پنجاب کی تنظیم سازی تھی ۔ قیا دت نے باہمی مشاورت کے بعد کفایت حسین کھوکھر (یواے ای) کو صدر ،اکرم اعوان(سعودی عرب) کو جنرل سیکرٹری اور نعیم خان اتمانی (یو اے ای) کو نائب صدر نامزد کیاگیا۔ خواتین ونگ کی صدر ملک کی نامور کالم نویس پروفیسر رفعت مظہر اور جنرل سیکرٹری سحرش منیر کو نامزد کیا گیا ۔پنجاب کی صدارت کا تاج ضلع قصور کے کالم نویس حافظ جاوید الرحمن قصور ی ایڈووکیٹ کے سر پر سجایا گیااور ان کے ساتھ جنرل سیکرٹری کی مالا بہاولپور کے مرزا عارف رشید کے گلے میں پہنائی گئی۔یہاں یہ بتا تا چلوں کہ مرزا صاحب ایک کھلے دل و دماغ کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے خوش اخلاق عادات کی شخصیت ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر عہدے داروں میں نائب صدر کے لیے مقصودانجم کمبوہ، جوائنٹ سیکرٹری حکیم کرامت علی ، فنانس سیکرٹری سجاد شاکر اور انفارمیشن سیکرٹری ملک ساجد اعوان کو چنا گیا ۔ملک ساجد اعوان بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ خوش اخلاق، ہنس مکھ اور دیدہ دل شخصیت کے مالک ہیں۔ ان سب سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی حالات پر دل کھول کر باتیں ہوئیں۔ تنظیم سازی کے بعد کالمسٹ کو ظہرانہ پیش کیا گیا جس میں لاہور کی روایات کے مطابق مختلف ڈشز پیش کی گئیں ۔ عید ملن کے اختتام پر حکیم کرامت علی نے پاکستان کی سالمیت اور ترقی کے ساتھ ساتھ کالمسٹ کونسل آف پاکستان کی ترقی کے لیے بھی دعاکرائی ۔ یوں تقریباً چار بجے سہ پہر اس عید ملن پارٹی کا اختتام ہوا ۔ عید ملن پارٹی کے بعد میری نشست ایک ایسی شخصیت سے ہوئی جس سے ملاقات کی امید نہ تھی۔ واپسی کے لیے گاڑی گھمائی تو راستے میں خواتین ونگ کی نومنتخب صدر پروفیسر رفعت مظہر کی رہائش گاہ آئی ۔ مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ ان کو مبارکباد دینے میں سبقت لی جائے ۔ یہ سوچ کر جب ان کے ہاں پہنچا تو بے حد خوشی ہوئی کہ پروفیسر رفعت مظہر کی وجہ سے ایک نجی ٹی وی کے اینکر پرسن اور مشہور کالم نویس پروفیسر مظہر علی سے بھی ہوگئی۔ انہوں نے جب مجھے پتے کی باتیں بتائیں تو میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ اس نفسا نفسی کے دور میں بھی ایسے بھی نیک لوگ ہیں جو دوسروں کی رہنمائی کررہے ہیں ورنہ یہاں تو کسی کی راہنمائی تو دور کی بات وہ تو بات کرنا پسند نہیں کرتے کہ کہیں یہ کالم نویس ہمارے مقابلے میں نہ آجائے۔ پروفیسر مظہر صاحب نے جب پرانے حالات پر روشنی ڈالی تو یقین نہیں آتا کہ یہ وہی پاکستان ہے جس کی پروفیسر صاحب بات کررہے ہیں۔ انہوں نے میری بہت رہنمائی کی اور میرے کالم کی تعریف بھی کی کہ آپ اچھا لکھتے ہیں۔ان کی گفتگو سے میری حوصلہ افزائی ہوئی ۔ انہوں نے کالمسٹ کونسل آف پاکستان کی تعریف کی کہ اس کونسل نے چند ماہ میں پورے پاکستان میں دھوم مچا دی ہے۔پاکستان کا کوئی نیوز پیپر ہوگا جس میں اس کے ممبرز کے کالم شائع نہ ہوتے ہوں۔ جس نیوز پیپر کو چیک کرو اس میں سی سی پی کے کسی ممبر کا کالم شائع ہوتا ہے۔اُن کے انہی الفاظ نے مجھے آج یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا ۔
رات کو جب میں گھر پہنچا تو رات کی تاریکی میں کالمسٹ کونسل آف پاکستان کے یہ ستارے جگمگاتے رہے اور ان کی باتیں میرے چارسو روشنی کرتی رہیں۔ پروفیسر مظہرکے خیالات و جذبات مجھے آسمان پر اڑانے لگے اور مجھے یقین ہوگیا کہ ان شاء اللہ کالمسٹ کونسل آف پاکستان بہت جلد پاکستان کے تمام اخباروں کی زینت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد کے راول ڈیم میں تین بچے نہاتے ہوئے ڈوب گئے

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. bohat zabardast likha hy youn mehsoos ho raha hy ky hum ny bhi eid milan ki taqreeb my shirkit ki hy….  t  amam membaran ccp ko eid mubarak allah  kary ccp ky tamam sitary asmane sahafat par youn hi jagmagaty rahain …….

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker