ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

عید پر لوڈشیڈنگ ہوگی۔۔۔؟

عیدکی آمد آمد ہے ۔ ہرطر ف عید کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔کپڑے ، جوتے ، جیولری اور میک اپ کی دکانوں پر انتہا کا رش ہے ۔جہاں بھی چندافراد اکٹھے ہوتے ہیں ان کا بات کرنے کا موضوع عید الفطرہی ہے ۔سکول کے کلاس روم میں بیٹھے ہوئے بچے بڑے زور وشور سے بحث و مباحثے میں مصروف تھے کہ اچانک ٹیچر کے آجانے پر خاموش ہوگئے مگر استاد نے جب ان سے اتنا شور کرنے کی وجہ پوچھی تو بچوں نے بتایا کہ سر ہماری بحث عید کے روز لوڈشیڈنگ ہوگی یا نہیں ہوگی ؟کے موضوع پر ہورہی ہے ۔ایک بچے نے کھڑے ہوکر بتایا کہ سر مدثر کہہ رہا ہے کہ عید کے دنوں میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی جبکہ یاسر کہہ رہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ تو ہر حال میں ہوگی۔ اس وجہ سے اب سب اپنی اپنی رائے کا اظہار پاکستانی پارلیمنٹ کے مطابق دے رہے ہیں ۔ ٹیچر نے جب مدثر سے پوچھا کہ بیٹا آپ کو معلوم ہے کہ عید پر لوڈشیڈنگ کیوں نہیں ہوگی تو اس نے بتایا کہ سر حکومت نے اعلان کردیا ہے کہ عید پر لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی اس لیے میں کہہ رہا ہوںکہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی اور جب یاسر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ سرحکومت نے تو رمضان میں سحر و افطار میں بھی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا تو کیا رمضان میں سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی تھی؟ سر اس لیے میں مدثر کو سمجھا رہا تھاکہ حکومتی نمائندے جس چیز کے ناہونے کا اعلان کرتے ہیں سمجھ لو وہ کام ہوگا اس کی مثال ہمارے سابق وزیرا عظم گیلانی کی لے لیں انہوں نے میڈیا اور اسمبلی میں کہا تھا کہ مجھے کوئی نہیں گھر بھیج سکتا مگر آج دیکھ لیں وہ سب کے سامنے اپنے گھر بیٹھے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔
خیروہ ٹیچر اور بچوں کی آپس کی بات تھی مگر مجھے بچوں کی بات سے اتفاق ہے کہ جس کسی موضوع پربھی حکومتی لوگوں نے میڈیا پرآکر دعویٰ کیا وہ ہمیشہ الٹ ہی ثابت ہوا حتیٰ کہ پارلیمنٹ کا نیٹو سپلائی بحال نہ کرنے کا فیصلہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ رمضان شروع ہونے سے پہلے وزارت بجلی و پانی، وزیر اطلاعات ، حکومتی ارکان کے علاوہ وزیراعظم پاکستان اور پھرصدر پاکستان کے بیانات بھی تمام ٹی وی چینلز، اخبارات اور آن لائن اخبارات کی زینت بنے مگر رمضان ختم ہونے والا ہے مگر لوڈشیڈنگ ایک دن بھی ختم نہیں ہوئی۔ بدبختی دیکھیے سحرو افطار کے وقت بھی لوڈشیڈنگ کی جاتی تھی۔
بچوں کی یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ حکومت جس چیز سے منع کررہی ہوتی ہے وہ کام ہوکر رہتا ہے جبکہ پرائیویٹ لوگ جس چیز کا اعلان کرتے ہیںوہ ہر صورت ہوتا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ حکومت کا ان اداروں پر کنٹرول نہیں ہے کہ یاپھر حکومت صرف زبانی کلامی بیان کی حد تک اعلان کرتی ہے اور ان پر عمل نہیں کرنا چاہتی ہے۔آپ کے سامنے ایک مثال سی این جی کی ہڑتال کی ہے ۔ پاکستان میں سی این جی کی ہڑتال ہوتی ہے مگر عید کے موقع پر جب ان کی طرف سے اعلان کیا جاتاہے کہ جن شہروں میں ہڑتال کے دن ہیں ان شہروں میں عید کی وجہ ہڑتال نہیں کی جائیگی اور وہ اپنے بیان پر مکمل عمل کرتے ہیںا ور ان دنوں میں ہڑتال نہیں ہوتی ۔ یہ ادارے تو حکومت کے ماتحت ہیں پھر وہ حکومت کے ان احکامات کو جوتے کی نوک پر کیوں رکھتے ہیں؟
حکومت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ان کے حکم کے باوجود ملک بھر میں روزدار بجلی کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتے رہے ہیں۔آج کل تقریباًہر شہر ، قریہ ، گاؤں اور بستی کی مساجد میں محفل شبینہ کا اہتمام کیاگیا ہے مگر اس میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہے اور اس کی وجہ بھی لوڈشیڈنگ ہی ہے کہ اتنی گرمی میں کون اس محفل میں شامل ہواس کے ساتھ ساتھ لوگ کومساجدمیں وضو کے لیے پانی میسرنہیں۔ سحری میں اندھیرے میں کھانا پکاناکیا جاتا ہے۔کیا یہی انعام حکومت کی طرف سے اپنے روزدار لوگوں کے لیے ؟
ہم نے دوسرے مسلم ممالک میں سنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں عوام کو ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں ڈسکاؤنٹ کے بجائے عوام کو روزے کے بدلے دکھ اور تکالیف دی جارہی ہیںجس کی مثال سستا رمضان بازار ہیں ۔ میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ 50%بے روز داروں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم نے روزہ اس لیے نہیں رکھا کہ اتنی گرمی ہے اور اوپر سے بجلی کی لوڈشیڈنگ۔ یہ تو اللہ بہتر جانتاکہ وہ ان بے روز داروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتاہے مگر بہانہ تو روزہ نہ رکھنے کا لوڈشیڈنگ کا بنا دیا۔
حکومت کو ایسے اعلان نہیں کرنے چاہیے جن پر وہ عمل نہیں کراسکتی کیونکہ پہلے جب کوئی حکومتی اعلان ہوتا تھا تو وہ پورا ہوتا تھا مگر اب تو مذاق بن کر رہ گیا ہے اور جب یہ اعلان کیا گیا کہ عید الفطر پر لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی تو عوام سمجھ گئی کہ ہم عید بجلی کے بغٰیر منائیں گے۔مجھے بچوں کی بات سے اتفاق ہے کیونکہ وہ صر ف حالات وواقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے بحث و مباحثہ کرتے ہیں اور موجودہ حالات میں بالکل ایساہی ہے کہ جس کام سے منع کیا جاتا ہے وہ ہی کام ضرور ہوتا ہے۔
بچوں کی ان باتوں سے مجھے ٹی وی پر ایک کامیڈی پروگرام کا وہ سین یاد آگیا جس میںبچے کسی بھی بات پر بڑوں کولاجواب کردیتے تھے اور آخر میں لکھا ہواآتا تھا کہ بچے تو غیر سیاسی ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  قصّہ ایک قراردادکا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker