ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

اک روشن ستارہ مرجھا رہا ہے

editor k qalam syتحریر عقیل خان (سینئر نائب صدر کالمسٹ کونسل آف پاکستان)

پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں نے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔آج کل کے سیاستدان بھی نوجوانو ں کو قوم کا سرمایہ ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں اور ان ہی کے ذریعے وہ ا پنی منزل تک پہچنا چاہتے ہیں۔ آج میں ایک ایسے نوجوان کے بارے میں لکھنے پر مجبور ہوگیا جس نے اپنا سب کچھ ملک کے نام کیا ہوا ہے مگر اس کے بدلے میں اس کو کیا ملا؟
مجتبیٰ رفیق کسی تعارف کا محتاج نہیں۔وائس آف یوتھ کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا کے نوجوانوں سے رابطے میں ہے۔ اس وقت اس کی آواز پر نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بوڑھے بھی اس کے مشن میں ساتھ دے رہے ہیں۔ مجتبیٰ رفیق وہ نوجوان ہے جس نے انگلینڈ سے ایم بی اے کیا اور اس کے بعد اپنے ملک کی عوام کادرد دل میں رکھتے ہوئے کئی رفاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کا حصہ لیا۔ نابیناؤں کی مدد کے لیے این جی اوز کا ساتھ دیا۔ جس وقت ملک میں زلزلہ آیا تھا اس نے دن رات ایک کرکے ان لوگوں کی مدد کے لیے کیمپ لگا کر سامان جمع کیا۔
مجتبیٰ رفیق کاسب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے جب میاں نواز شریف نے 28مئی کوایٹمی دھماکے کیے اور پھراس دن کی یاد منانے کے لیے نام مانگے تواس کا تجویز کیا ہوا نام رکھا گیا۔ اس کے تجویز کیے ہوئے نام کو آج پورا پاکستان مناتا ہے وہ ہے ’’یوم تکبیر‘‘۔ چاغی کے مقام پر میاں نوازشریف کے ساتھ اس کی تصاویر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پھر میاں نواز شریف کا بھیجا ہواتعریفی ایس ایم ایس آج تک محفوظ ہے۔ قائد اعظم سے لیکر آج تک کے لیڈرز کی اصل تصاویر اس کے پاس موجود ہیں۔جن کا ذکر مختلف ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں کیا۔ اس نوجوان نے ہزاروں کے قریب فلاحی کام کیے ۔
ملک میں امن اور محبت کے فروغ کے لیے اس نے ایک آواز بلند کی جس کا نام رکھا ’’ وائس آف یوتھ‘‘(Voice of Youth) اس کی آواز سے آواز ملاتے ہوئے کئی نامور لوگوں نے اس وائس آف یوتھ میں شمولیت اختیار کی۔وائس آف یوتھ میں کئی ناموراینکرپرسن۔ کالمسٹ، کرکٹرز اور بہت سے صحافی حضرات شامل ہوئے ہیں۔
ایسے نوجوانوں پر ہر ایک کو فخر ہوتا ہے۔ جس والدین کایہ چشم وچراغ ہے ان کا سینہ کتنا بڑا ہوتا ہوگا جب وہ اپنے بیٹے کے کارنامے ٹی وی یا اخبارات میں پڑھتے ہونگے۔ مجھے بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں اس نوجوان کی وائس آف یوتھ کا حصہ ہوں۔ میں اس کو صرف فیس بک کی حد تک جانتا تھا اور یہ مجھے ایک کالمسٹ کی حیثیت سے۔ میں نے سوچا یہ بھی ایک بڑے گھرانے کا سپوت ہوگا اور بڑی دولت کا مالک ہوگا جو پورے ملک میں اپنی اس یوتھ کے لیے کام کررہا ہے ۔ جب میں نے ان سے فون پر بات چیت کی تو بڑے دھیمے لہجے میں بولنے والے نوجوان نے اپنے کارنامے سنائے ۔ جس پر مجھے بھی فخر ہوا ۔جب میں نے ان سے کاروبار اور ملازمت کے بارے میں پوچھا تو یہ ایک دم خاموش ہوگیا۔ پھر میرے اصرار کرنے پر بتایاکہ بھائی میرے پاس توملازمت تک نہیں ۔ ایک وقت تو ایسا ہوتا ہے کہ ایس ایم ایس کے لیے موبائل میں بیلنس بھی نہیں کراسکتا۔ میں نے سوچا کہ بیروزگاری تو ملک کا سب سے بڑا لمیہ ہے مگر ایسے نوجوان جو پوری دنیا میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کررہا ہو اس کے ساتھ یہ بھی یہی مسئلہ ۔ کیا فائد ہ اس انگلینڈ کی تعلیم ؟ کیا میاں نواز شریف یوم تکبیر کانام تجویز کرانے والے کو انعام میں ایک نوکری بھی نہ دے سکے۔ آج ہمارے کسی بھی ٹیم کے کھلاڑی کوئی کپ جیت لیں تو فوراًان کو نوکری سے نوازا جاتااور اتنے ہی انعامات کی صورت میں وہ جمع کرلیتے ہیں کہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔
میری حکومت پاکستان، حکومت پنجاب سمیت چاروں صوبائی حکومت سے اور جتنے بھی ملکی لیڈرز ہیں ان سے اپیل ہے کہ ایسے نوجوان کا ساتھ دیں اور اس کوذاتی کاروبار نہیں کراسکتے تو کم از کم اسکی تعلیمی قابلیت کومد نظر رکھ کر اس کو نوکری سے نواز جائے۔ ورنہ ایک وقت ایساہوگا کہ اس نوجوان کے حالات دیکھ کر کوئی بھی تعلیم کی طرف توجہ نہ دیگا۔ note

یہ بھی پڑھیں  جسٹس تصدق حسین جیلانی چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان مقرر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker