تازہ ترینصابرمغلکالم

علاقائی صحافت اور حکومتی بےحسی

ماضی کے بر عکس آج کی صحافت ترقی کی بے پناہ منازل طے کر چکی ہے،دنیا بھر میں ہونے والا ہر واقعہ،ہر ترقی و تنزلی،سیاسی،مذہبی،سماجی،عالمی،ثقافتی،کھیل،بد عنوانی،کرپشن،عالمی دہشت گردی،عالمی جارحیت،حکومتی جبر وغیرہ سب کچھ پل بھر میں کرہ ارض پر پہنچ جاتا ہے،دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں صحافتی جبرو ظلم،استحصال اور تشدد عام ہے،الیکٹرانک ہو یا پرنٹ میڈیا ہر صحافتی ادارے کے چند بڑے شہروں میں سٹاف رپورٹر ر ہیں جنہیں باقاعدہ تنخواہ دی جاتی ہے،صحافی ذمہ داریوں کے لئے مخصوص علاقہ،مخصوص Beatبھی دی جاتی ہے،مگرملک بھر سے آنے والی خبروں کی بھاری ذمہ داری علاقائی صحافیوں پر ہی عاید ہوتی ہے،اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو جتنا کردار ان علاقائی نمائندگان کا ہے کسی اور کا نہیں،ان کی ذمہ داریاں سٹاف رپورٹرز کے بر عکس ایک پورے علاقے پر محیط ہوتی اور ان کی ذمہ داری 24گھنٹے 365دن جاری رہتی ہیں،الراقم تقریباً22سال تک ایک معتبر نیوز گروپ کا علاقائی نمائندہ فرائض سر انجام دیتا رہا،اسلام آباد کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں سٹاف رپورٹر،نیوز ایڈیٹر اور ایک روزنامہ میں بطور ایڈیٹر آج بھی کام کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ علاقائی صحافت اور باقاعدہ سٹاف کی صحافت کو انتہائی باریک بینی سے سمجھتا او رجانتا ہوں،صحافت اور وہ بھی علاقائی صحافت حقیقی معنوں میں جان جوکھوں کا کام ہے،یہ الگ بات ہے کہ مقامی سطع پر اور کسی اچھی یونین کا ممبر ہونے ناطے ضلعی سطع پر بھی افسران،سیاستدان،وکلاء،سماجی،مذہبی اور دیگر تنطیموں کی جانب سے کسی حد تک عزت اور پذیرائی ملتی ہے،مگر ان پل پل کی خبریں پہنچانے والوں،سرکاری افسران کی کاکردگی کو نمایاں انداز میں پیش کرنے والوں،سیاستدانوں کو شہرت دینے والوں،سول سوسائٹی اور ہر مذہبی تقریب کو کوریج دینے والوں،ظلم و ستم کے شکار افرادکی آوازاعلیٰ حکام تک پہنچانے والوں، ملک و قوم کے لئے بد امنی اور کرپشن کو بے نقاب کرنے والوں کااندرونی طور پر ہر کوئی مخالف ہے کسی بھی سکینڈل کو بے نقاب کرنے پر انتظامیہ ان کے خلاف،،سیاستدان ان کے خلاف،مقامی ایس ایچ او ان کے خلاف،مقدمے پر مقدمہ مگر یہ وہ لوگ ہیں جن میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جوتعلیم یافتہ،با شعور اور انسانیت کے درد سے مکمل طور پر آشنا ہوتے ہیں اور ہر ظالم کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں،کچھ مخصوص مگر چھوٹا طبقہ البتہ ان میں بھی ضرور ہے جومحض چوہدراہٹ،بلیک میلنگ،کم تعلیم یافتہ اور اپنے کسی کاروبار کو تحفظ دینے کے لئے اس شعبہ کا انتخاب کرتے ہیں جو بہت بڑا المیہ ہے،البتہ جسے ہر شعبہ زندگی میں کرپٹ افراد کی بہتات ہے اگر اسی نظریہ کے کچھ لوگ اس شعبہ میں بھی گھسے ہوئے ہیں تو یہ کوئی انہونی بات نہیں،شرم ناک بات تو یہ ہے کہ ایسے کردار صحافت کو صحافت نہیں رہنے دیتے الٹاچاپلوسی کا بازار گرم کر دیتے ہیں ایسے ہی کردارہر جگہ پائے جاتے ہیں جن کی بدولت انتظامیہ انہیں ہی ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتی ہے اور یوں اندھیرا پن اور دلدل ان کا مسکن رہتی ہے، مگر مجموعی طور پربہترین صحافتی فرائض ادا کرنے والے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں رکھتے کہ بعد میں کیا ہو گاوہ اپنے فرائض ایمانداری اور خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے رہتے ہیں، وہ مقدمات بھی سہہ لیتے ہیں،جیل کی یاترا بھی کر لیتے ہیں،ہر قسم کا خطرہ ول لے لیتے ہیں حتیٰ کہ جان تک بھی دے دیتے ہیں،ملک بھر کے ہر ضلع،ہر تحصیل، ہر ٹاؤن،ہر قصبہ میں اعزازی نمائندگان اپنی شبانہ روز صحافتی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو رہے ہیں،مگر نہ تو انہیں ادارہ جاتی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی کسی قسم کا حکومتی تحفظ،حکومت کی نگاہ میں صرف وہی صحافی ہیں جو باقاعدہ سٹاف رپورٹرز ہیں حالانکہ علاقائی صحافیوں کا کام ان کی محنت،ان کے تحفظات ان سے کہیں زیادہ ہیں،بڑے شہروں کے صحافیوں کے لئے صحت،تعلیم،رہائش،ایکریڈیشن کارڈ،امدادی رقم کا کوٹہ وغیرہ سب کچھ شامل ہے شہراقتدار میں تو کئی بڑے صحافیوں نے پوش علاقوں میں حکومت سے سرکاری گھر تک الاٹ کروا رکھے ہیں مگر علاقائی صحافیوں کی فلاح و حکومتی سرپرستی پرسابق اور موجودہ حکمران انتہائی غیر اخلاقی رویہ اور بے حسی کی انتہاؤں پر ہیں،اس وقت پہلے کی نسبت یہی علاقائی صحافی اپنے حقوق،تحفظات اورباہمی اتفاق کے لئے متعدد تنظیموں قیام عمل میں آ چکی ہیں مگر ضروری ہے کہ وہ مقامی و ذاتی مفادات اورمحض لیڈر شپ کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی صحافی برادری کے لئے کچھ کر جائیں،انہی میں ایک تنظیم جو پہلےRUJپنجاب مگر اب اس کا دائرہ کار پاکستان کے چاروں صوبوں اور کشمیر تک پھیل چکا قائم ہے،علاقائی صحافت کی یہ ایک بہترین،منظم اور بہت بڑی تنظیم جو سید شفقت حسین گیلانی اور عابد حسین مغل کی قیادت میں حکومت کے سامنے ڈٹ گئی ہے ان کے کسی ایک صحافی ممبر کو کہیں بھی انتقام کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے وہیں سب یکجا ہو جاتے ہیں،RUJنے اس سے قبل بھی پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کے بعدحکومت سے مذاکرات کئے مگر سب کچھ ریت کی دیوار ثابت ہوئے مگر اس باراحتجاج کی جو لہر ابھری ہے یہ کسی بات پر ہی ختم ہو گی،آر یو جے پاکستان کی قیادت نے ابتدائی طور پر پنجاب کے دس اضلاع میں احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جن میں سے آج چکوال میں احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا ہو گا، تنظیم اپنے 7نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈجس میں تمام علاقائی صحافیوں اور ان کی فیملی کوسوشل سیکیورٹی سسٹم سے منسلک کر کے صحت کارڈ،انشورنس فی کس 50لاکھ،تمام رجسٹرڈ پریس کلبز کوسالانہ فنڈز کا اجرا،ایکریڈیشن کارڈز اور اس کے لئے ضلعی کمیٹیوں کا قیام،ضلعی سطع پر صحافیوں کالونیوں کاقیام،مالی معاونت کے لئے جہیز فنڈکم از کم5لاکھ روپے،تمام تعلیمی اداروں میں خصوصی کوٹہ اور فیس میں ریاعت شامل ہے،یہ چارٹر آف ڈیمانڈ بلا تفریق ہر صحافی کے لئے ہے اسی بنیاد پر تمام علاقائی صحافی تنظیموں پر بھی یہ بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ بھی اس حوالے سے بجائے ٹانگیں کھینچنے،مثبت کردار اد کریں،مرکزی RUJصدر سید شفقت گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا ہمیں اپنے شعبہ کی عزت و وقارکو برقرا رکھنے کے لئے عملی جدوجہد کرنا ہو گی بلاشبہ تمام علاقائی صحافیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے جس کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب ہر صحافی متحرک ہو اور اس مہم میں بھرپور کردار ادا کرے،پر عزم اور امید سے بالا تر یقین ہماری کامیابی کا ضامن ہے جس علاقائی صحافت کے حوالے سے نئی تاریخ رقم ہو گی، چند روز قبل برادرم عابد مغل مرکزی سیکرٹری جنرل RUJپاکستان کے کہنے پر اسلام آباد سے رات تین بجے صبع گھر پہنچا اور اور 11بجے تک ضلع کچہری اوکاڑہ کے پاس پتوکی سے تنویر اسلم خان،بہاولنگر سے سید طاہرحسین شاہ، تاندلیانوالا سے اویس مغل، بھولنگر سے حاجی رمضان،حاجہ زاہد ساجد اور پاکپتن سے وقار محسن جگنو کی قیادت میں صحافیوں کی کثیر تعداد اور ضلع اوکاڑہ کے وہاں موجود سینکڑوں صحافیوں سے اظہار یکجہتی کی،دھرنا اور بعد میں ریلی پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سردار اورہر دل عزیز شخصیت ڈپٹی ڈائریکٹر تعلقات عامہ خورشید جیلانی نے صحافی رہنماؤں عابد مغل،اشفاق چوہدری،نوید غوری،الطاف ساقی،اعجاز بھٹی،احتشام جمیل شامی،رائے خالد سرور ایڈووکیٹ،حاجی رمضان،رائے امداد کھرل،مہر ساجد،ندیم ثمن،ڈاکٹر مہر محمد سلیم،نیاز جھکڑ، عمران زاہدکھوکھر اور راؤ غلام قادر و دیگر سے مذاکرات کرتے ہوئے یقین دلایا کہ آپ کے تمام مطالبات ڈپٹی کمشنرآفس سے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت پنجاب حکومت تک پہنچائے جائیں گے اور ضلعی انتظامیہ صحافیوں کی آواز بنے گی،اس نئے عزم،نئے ولولہ،نئے جوش،نئی باہمی ہمدردی اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول پران کے ماتھوں پر چمکتا عزم کسی نئی امید کا مظہر لگ رہا تھا جو حکومتی چٹان سے ٹکرا کر اپنا حق لے کر ہی رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں  ریلوے کا بھی ٹرینوں میں مسافروں کو انٹرنیٹ کی مفت سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker