تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

ایلیٹ کلا س اور تعلیم ؟

mirz arifایک زمانہ ایسا بھی تھا جب جاگیردار اور وڈیرے اپنے علاقہ میں تعلیم حاصل کرنے والے کو اچھانہیں سمجھتے تھے، اور لوگ غلاموں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور تھے ، زیادہ سے زیادہ دینی تعلیم حاصل کر لینا بھی بہت ہوتا تھا سکولوں کی تعداد بھی بہت کم ہو تی تھی ،جب کہ ایک خود مختیار ریاست بھاول پور کے بہت بڑے جاگیر دار اور والی ریاست نواب سر صادق مند خان عباسی خامس ،کو تعلیم سے بہت زیادہ لگاؤ تھا انہوں نے اپنی ریاست بھاول پور میں ایک ایسا سکول قائم کیا جس کا تعلیمی معیار آج بھی پورے پاکستان میں ایک مقام رکھتا ہے ممبر اسمبلی ہو ں گورنر ہو یا پھر پورے پاکستان میں ایلیٹ کلاس کے لوگ ہو ں سب اپنے بچوں کو اس سکول میں پڑھنا فخر سمجھتے ہیں اس سکول کا نام اُنہوں نے اپنے نام سے منسوب کیا صادق پبلک سکول ،صادق پبلک سکول کے لیے نواب سر صادق مند خان عباسی خامس نے 1851ایکٹر رقبہ سکول کے نام کیا جو کہ اس وقت بھی صادق پبلک سکول کے ریکاڈ میں موجود ہے 1851ایکٹر میں سے اب موجودہ رقبہ 451ایکٹر باقی رہے گیا ہے صادق پبلک سکول کی بنیاد 1953میں رکھی گئی 18, 1,1954میں صادق پبلک سکول کا افتتاح کیا گیاصادق پبلک سکول کے پہلے پرنسپل کا نام انورسکندار خان تھا انور سکندار خان 1954سے 1972تک صادق پبلک سکول کے پرنسپل رہے صادق پبلک سکول کی اپنی ایک کمیٹی بھی ہے اس کمیٹی کا صدر گورنر ہوتا آرمی سے جی اُو سی ، ڈسی سی اُو ،بھاول پور ،اور پرنسپل سکول میں سب سے اہم ہوتے ہیں موجودہ پرنسپل صادق پبلک سکول کا تعلق بھاولپور سے ہے صادق پبلک سکول کی موجودہ انتظامیہ اس بات کو لیے کر پر یشان ہے کہ ڈی ایچ اے کا راستہ صادق پبلک سکول سے کس طرح دیا جائے اگر ڈی ایچ اے کو صادق پبلک سکول کی طرف سے راستہ دیا گیا تو 25ایکڑ رقبہ اور کم ہوجائے گا ہے صادق پبلک سکول کے ممبران ،چوہدری ذکاء اشرف ،مخدوم دیوان عاشق حسین بخاری، فرحت عزیز خان مزاری، لفٹینٹ (ر) جنرل وسیم احمد اشرف، محمد علی لالیکا ،میجر طارق محمد مزاری، میاں عثمان عباسی ، ریاض حسین پیرزادہ، سردارمحمدایوب گھلوں،راحیل صد یقی ،محمدنواز ش علی پیرزادہ ،سعیداحمدمنیس کے نام سرفہرست ہیں صادق پبلک سکول کے پہلے سرپرست اعلی حسن محمود تھے حسن محمود سابق گورنر احمد محمود کے و الد گرامی تھے ،نواب سرصادق مند خان عباسی خامس ایچی سن کالج لاہور میں بھی کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی ریاست بھاول پور کے نواب سر صادق مند خان عباسی جب لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گئے تو ایچی سن کالج لاہور کا تمام خرچہ بھی خود برداشت کرتے تھے ایچی سن کالج لاہور کا خرچہ ریاست بھاول پور سے جاتا تھا ،اور چوک یتیم خانہ لاہور میں علامہ اقبال کالج کے نام سے جو کالج اس وقت بھی چل رہا ہے اس کالج کا خرچہ بھی سر صادق مند خان عباسی برداشت کرتے تھے نواب آف بھاول پور کو تعلیم سے بہت زیادہ لگاؤ تھا تعلیم مکمل کرنے کے بعداپنی ریاست میں ایک ایسا تعلیمی ادرارہ بنانا چاہتے تھے جس سے ریاست بھاول پور کی عوام کو فائدہ ہو اور پورے پاکستان میں ریاست بھاول پور کے نوجو ا نوں کا الگ مقام ہو ۔پیپلز پارٹی کے دور ے حکومت میں جب احمد محمود کو گورنر پنجاب بنا یا گیا تو جنوبی پنجاب میں خوشیاں منائی گئی بہت عرصہ کے بعد کسی حکومت نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقہ سے گورنر منتخب کیا لیکن احمد محمود ایک ایلیٹ کلاس کے لوگوں پسند کرتا تھا، صادق پبلک سکول کی طرف سے گورنر پنجاب احمد محمود کودعوات دی گئی آپ صادق پبلک سکول میں خطاب فرمائیں گورنر نے خطاب فرمایا اور یہاں بتایا کہ امیر اور غریب میں کیا فرق ہوتا ہے صادق پبلک سکول ایلیٹ کلاس کے بچوں کے لیے ہے اس سکول میں صرف اُن لوگوں بچے پڑھ سکتے ہیں جن کے والدین ایلیٹ کلاس کے ہوں اور لور کلاس کے بچے صادق پبلک سکول میں نہیں پڑھ سکتے اس طرح اُنہوں بھاول پو ر کو جو پہلا تحفہ دیا وہ تھا صادق پبلک سکول کی فیسوں میں اضافہ گورنر نے 140فیصد فیس میں اضافہ کر دیا کیوں کہ اس سکول میں لور کلاس کے بچے نہ پڑھ سکیں اور کسی سرکاری سکول میں داخلہ لیے لیں صادق پبلک سکول میں صرف امیر زادہے ہی پڑھ سکتے ہیں صادق پبلک سکول کی فیس 1کلاس سے 5کلاس تک 8150 روپے یہ فیس ایک ماہ کے لیے تھی 6کلاس سے 8کلاس فیس 8300روپے ہے 9کلاس سے 10کلاس فیس تھی 9450 روپے یہ خرچہ ایک سال کا نہیں بلکہ ایک ماہ کا ہے جب سابق گورنر پنجاب احمد محمد نے فیسوں میں 140 فیصد اضافہ کیا تو ایک ماہ میں کیا جانے وا لا خرچہ 19560 روپے تک چلا گیا 1کلاس سے 5کلاس تک جو پہلے 8150روپے تھا گور نر کے اس عمل پر بھی جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو نفرت کی نگہاسے دیکھا جاتا ہے صادق پبلک سکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے اور تو کچھ نہیں کیا بلکہ سیدھا ہائی کورٹ کا رخ کیا جس میں ہائی کورٹ نے گورنر کے اس اقدام کو فوری طور پر واپس اُیسی جگہ پر لا کھڑ کیا جہاں پہلے تھا ہائی کورٹ نے 140فیصد فیسوں کو غلط کرار ، دے کر اپنا فیصلہ سنایا نواب سر صادق مند خان عباسی خامس کو اپنی ریاست بھاول پور کی عوام سے بہت زیادہ پیار تھا صادق پبلک سکول کو ریاست کے عام لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اس سکول میں سب سے زیادہ فائدہ جاگیر دارں اور وڈیرں کو ہو ہے عام آدمی کے بچوں کو یہاں کوئی کوئی فائدہ نہ ہو ا ہے جب بھی تعلیم کی بات ہوتی ہے ہماری حکومت صرف تعلیم کے بارے میں بیان بازی کرتی ہے ہم نے تعلیم کو عام کر دیا ہے پڑھ لکھا پنجاب ہم بنائیں گئے حکومت آج تعلیم کی بات کرتی ہے جبکہ نواب سرصادق مند خان عباسی نے 1953میں تعلیم کی بات کی اور صادق پبلک سکول پورے پاکستان میں اپنی مثال آپ ہے پورے پاکستان میں ایساسکول کسی بھی حکومت نے نہیں بنایا اس سکول کی بدقسمتی کہ یہ جنوبی پنجاب میں ہے ۔ اگر فنڈ کی بات کی جائے تو ایچی سن کالج لاہور کے لیے سالانہ فنڈ 10کروڑ روپے ہے لارنس کالج گھوڑا گلی مری کا سالانہ فنڈ 5 کروڑ ہے اور جنوبی پنجاب کے صادق پبلک سکول کا سالانہ فنڈ 2 کر وڑ روپے ہے 2کروڑ کا فنڈ بھی مسلم لیگ (ق) کی حکومت نے کیا تھا حکومت پاکستان تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دے رہی ہے جب بات ہو جنوبی پنجاب میں تعلیم کی تو سب کو سانپ کیوں سونگ جاتا ہے بد قسمتی سے اس بار موجودہ حکومت میں وفاقی وزیرے تعلیم بھی بھاول پر سے ہیں موصوف وزیرے تعلیم جس جگہ بھی مہمان خصوصی ہوتے ہیں اپنی تعر یف خود اپنی زبان سے بیان کر رہے ہوتے ہیں وزیرے تعلیم کو اتنا علم نہیں کہ تعر یف ہمیشہ دوسروں کی زبان سے اچھی لگتی ہے یہ نہیں کہ خود آپ اپنی تعریف کرتے رہے وزیر تعلیم سابق حکومتوں کے فنڈ بھی اپنے نام لیکر کہتے ہیں یہ بھی ہماری حکومت نے دیا تھا وزیرے تعلیم کو علم ہونا چاہیے وہی ملک ترقی کرتے ہیں جن ملکوں میں تعلیم پر توجہ دی جاتی ہے ۔ میں یہاں ایک بات موجودہ پرنسپل سے ضرور کہوں گا۔ صادق پبلک سکول میں سب سے پہلے بھاول پور کے بچوں کا حق ہے اُس کے بعد باقی علاقہ والے لوگوں کا ہے ۔او ر اس کے سا تھ بچوں کے والدین بھی صادق پبلک سکول کی روایات کو برقرار رکھیں ۔ صادق پبلک سکول سے پڑھ کر جانے والا بچہ پوری دنیا میں جہا ں بھی جائے گا سب سے پہلے اپنے ملک کا نام پھر اپنے شہر کا نام روشن کرے گا وہی قو میں ترقی کرتی ہیں جن کے پاس تعلیم جیسا زیور ہوتا ہے اب بھی تعلیم پر توجہ نہ دی گئی تو اس ملک کی آنے والی نسلیں کبھی ترقی نہیں کر پائیں گئی تعلیم جاگیر دار اور وڈیروں کی جاگیر نہیں تعلیم حاصل کرو چاہیے تمہیں چین جاناپڑے ہماری پہچان تعلیم اور تعلیم بس تعلیم ہو 69سال سے جو بھی حکومت منتخب ہو کر آتی ہے ایک ہی بات کرتی ہے ہم پاکستان کو پڑھا لکھا پاکستان بنا دیں گئے پر کب ؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  اداکارہ پریانکا چوپڑا ’’اردو‘‘ کی دیوانی نکلیں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker