تازہ ترینکالممختار عاصمؔ

بلدیاتی الیکشن 2012۔۔۔۔۔۔

اللہ اللہ کر کے اس بات کا فیصلہ بھی ہو گیا کے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے اور 2012 میں ہی کرائے جائیں گے اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ بلدیاتی الیکشن ہو ہی جائیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا کیوں کہ پیپلز پارٹی کی کسی بھی حکومت میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا رواج نہیں رہا اب نجانے حکومتی ٹولہ کس بات پر مجبور ہو کر بلدیاتی الیکشن کرانے پر راضی ہوا ہے اور ہمیں تو یہ بھی ایک سیاسی اور عوامی ’’اٹینشن ڈاےؤرٹ‘‘کرنے کا ایک بہانا ہی لگ رہا ہے مگر اللہ کرے کہ اس بار پیپلز پارٹی حکومت اپنا وعدہ پورا کرے جو کہ ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ کئی بار پیپلز پارٹی کے کو پریزیڈنٹ اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اپنے ہی کہے کو رد کر کے دھڑلے سے فرما چکے ہیں کہ میرا کہا کوئی قرآن ،حدیث تو ہے نہیں کہ لازماََ پورا ہو ۔۔۔۔مگر نجانے کیوں اس بار ایسا لگ رہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن 2012 حکومت کرا ہی دے گی کیونکہ پہلی بار جب بے نظیر بھٹو صاحبہ وزیرِ اعظم بنیں تھیں تو ان کے پاس عوام میں جانے کا ایک مظبوط جواز تھا اور وہ تھا ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی۔۔۔اور جب دوسری بار بے نظیربھٹو وزیر اعظم بنیں تو ان کے پاس پھر ایک جواز تھا کہ ان کی حکومت کو ناجائز طور پر بر طرف کیا گیااور انہیں کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا ۔۔۔اور جب موجودہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے اور دلوانے میں کامیاب ہوئے تو ان کے پاس بھی ایک مظبوط جواز تھا اور وہ جواز بے نظیر بھٹو کی شہادت تھی جس کی بنیاد پر وہ عوامی ہمدردی سمیٹ لینے میں کامیاب ہو گئے ۔۔۔مگر اس بار پیپلز پارٹی کے پاس ایسا کوئی بھی جواز نہیں بلکہ اس بار ندامت اور پشیمانی کے سوا’’ اگر پیپلز پارٹی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرے تو‘‘کچھ نہیں عوام کو روٹی ،کپڑا اور مکان کے نعرے کے بدلے بھوک پیاس ، بجلی کی لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، بھتہ خوری ،لو ٹ مار، کرپشن اپنے ہی ماتحت اداروں سے ٹکراؤ جس کی ایک مثال اعلیٰ عدلیہ بھی ہے ،عام لوگوں کی دسترس سے ضروریاتِ زندگی کا چھین لینا ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر کروڑوں روپیوں کا خرد برد ،سازگار رکشہ اسکیم کے ذریعے بھی لوٹ مار اور پٹرول کی قیمتوں کا آسمان پر پہنچا دینا اور اس کے ساتھ ساتھ ہر چیز پر بے انتہا مہنگائی جس سے عوام کی قوتِ خرید کا ختم ہوجا نابھی شامل ہے ۔۔۔۔ ان کے علاوہ بھی پیپلز پارٹی کے کارنامے ہم پہلے بھی لکھتے رہے ہیں اور مزید لکھنے لگے تو صفحات کے صفحات سیاہ ہوجائیں مگر ’’کارنامے ‘‘ ختم نہ ہوں اب ان حالات میں اگر پیپلز پارٹی عوام میں جاتی ہے ووٹ مانگنے تو ظاہر ہے کہ اسے وہ پزیرائی ہر گز نہ مل پائے گی جو کہ پچھلی دفعوں میں بے نظیر بھٹو کی ’’کرشماتی‘‘ شخصیت کی ہی مرہونِ منت رہی اب پیپلز پارٹی تہی دست وتہی داماں ہے اور اس بار بھی صرف بے نظیر بھٹو کے نام پر حکومت کر رہی ہے ورنہ حکومت کرنے کا ہر جواز پیپلز پارٹی کھو چکی ہے اگر پیپلز پارٹی صدارت میں نہ ہوتی تو کب کی گھر بیٹھ چکی ہوتی مگر چونکہ پیپلز پارٹی کا کو پریزیڈنٹ خود ہی صدر بن بیٹھا اس لئے پیپلز پارٹی آج بھی حکومت میں بیٹھی ہے اور عوام کے سینے پہ مونگ دل رہی ہے ان ساری معروضات کی روشنی میں پیپلز پارٹی نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کرا دئے جائیں ور نہ عوام کے پاس کس منہ سے جائیں گے ووٹ مانگنے ۔
پس ثابت ہوا کہ پیپلز پارٹی مجبور ہو کر بلدیاتی الیکشن کرانے پر آمادہ ہوئی ہے اگر کراتی ہے تو؟ اب بلدیاتی الیکشن کے ڈھانچے کو سجانے سنوارنے کے کام پر ساڑھے چار سال بعد عمل درآمد ہوا اور وہ بھی متحدہ قومی موومنٹ کے بے انتہا دباؤ پر اور فیصلہ کرنے میں بھی ساڑھے چار دن لگا دئے عوام ٹی وی چینلزپر نظریں جمائے ہر ٹاک شو کو امید بھری نظروں سے دیکھتے رہے خیر فیصلہ ہو گیا اور سابق صدر پرویز مشرف کے بنائے ہوئے بہتریں نظام کو توڑ مروڑ کر ایک نیا نظام اس میں سے نچوڑا جو کہ بادی النظر میں تو کسی بھی قسم کا کوئی چارم پیش کرنے میں ناکام نظر آتا ہے مگر انگریزی مقولے کے مصداق Some thing is better then nothingکے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اسے عوامی پزیرائی بھی حاصل ہو جائے گی اگر انتخابات ہوئے تو !!!!!!!اب دیکھنا ہے کہ حکومت کتنے وقت میں الیکشن کرنے کا اعلان کرتی ہے اور پر امن اور منصفانہ الیکشن کرانے میں کامیاب ہوتی ہے جو کہ عوام کی دیرینہ حسرت ہے اللہ کرے بلدیاتی انتخاب جلد از جلد ہوجائے تا کہ نچلی سطح پر عوام کو سہولیات میسر آسکیں ۔۔۔۔۔۔ آمین

یہ بھی پڑھیں  انڈونیشیاء کے لاپتہ طیارے کا آخری حصہ سمندر سے نکال لیا گیا

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. main siraf ek bat ka jawab chahta hon? k agar kraption ke madad say ppp baldeyate elaction b jeet jate hay to kasoor var kon ho ga Zardare ya k ham awam>>>>>>>>>>>>>>>>>

  2. janab rizwan ahmed shami sb aap ka muhabbat nama mila yaqin janiye read ker k be intaha khushi mehsoos hui bhai corruption koi bhi kerey sindh main kerey ya punjab main serhad main kerey ya balochistan main qabil e mazammat hai asal bat ye hai k hamara mashra hukmaranon sai to pehley hi pereshan tha mager ab aam aadmi bhi currupt ho gaya hai is ka sadd e baab hona chahiye ager is per qaboo pa liya gaya to phir hukmran bhi naik aur parsaa aaiyen gai mukhtar asim

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker