پاکستانتازہ ترین

صدر‘وزیراعظم‘گورنرزاوروزیراعلیٰ کسی امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لےسکیں گے

election commissionاسلام آباد (بیورو رپورٹ) الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی حتمی منظوری دے دی ہے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے تیار کیا گیا ضابطہ اخلاق 46 نکات پر مشتمل ہے جس کے تحت صدر ‘ وزیراعظم‘ گورنرز اور وزیراعلیٰ کسی امیدوار کی انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے اسلحہ کی نمائش پر الیکشن کے دن اور اگلے دن مکمل پابندی ہوگی ، الیکشن کے دوران پریزائڈنگ آفیسر کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات حاصل ہوں گے جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر امیدوار کو نااہلی سمیت دیگر سزائیں دے سکیں گے ، خواتین کی انتخابی عمل میں شرکت روکنے کیلئے کوئی روایتی یا غیر روایتی سمجھوتہ یا اتفاق رائے نہیں ہوگا ، مخصوص سائز سے بڑے پوسٹرز اور بینرز پر پابندی ہوگی ، میڈیا پر ہرگز کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا ، سرکاری طور پر اشتہارات کے اجراء پر مکمل پابندی ہوگی ، ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کیلئے خود پولنگ اسٹیشن آنا پڑے گا کوئی سیاسی جماعت انہیں ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم نہیں کرے گی ، تاہم الیکشن کمیشن کی طرف سے ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹ نمبر اور پولنگ سٹیشنز کے بارے میں معلومات فراہم کی جائینگی ۔ منگل کو جاری کئے گئے ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں اور امیدوار نظریہ پاکستان ملکی سالمیت ، یکجہتی یا عدلیہ کی آزادی کے بارے میں کوئی متعصب رائے یا عمل کا اظہار نہیں کرینگے اور نہ ہی عدلیہ یا پاکستان کی مسلح افواج کو بدنام کرینگے جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 63 میں کہا گیا ہے پارٹیاں اور امیدوار کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے قواعد اور ہدایات کی پیروی کرینگے جن کا تعلق انتخابات کے انعقاد اور امن عامہ سے ہوگا سیاسی جماعتیں اور امیدوار پاکستان کے عوام کے حقوق اور آزادی کو جو انہیں آئین اور قانون کے تحت حاصل ہے کا احترام کرینگے تمام امیدوار اور ان کے حامی ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کرینگے جو انتخابی قوانین سے متصادم ہوں جن میں ووٹروں کو رشوت دینا ، ڈرانا دھمکانا ، ذاتیات کی بنیاد پر کوئی کارروائی شامل ہو اسی طرح وہ پولنگ سٹیشنوں اور کیمپوں کے چار سو گز تک کوئی کنویسنگ نہیں کرینگے اسی طرح انتخابات سے اڑتالیس گھنٹے قبل تمام عوامی جلسے ختم ہوجائینگے ۔ پولنگ سٹیشنز سے چار سو گز کے فاصلے تک ووٹروں کو ووٹ ڈالنے پر قائل کرنا اور اس قسم کی دوسری سرگرمی پر پابندی ہوگی ۔ ریٹرننگ آفیسر کی اجازت کے علاوہ امیدوار اور اس کے الیکشن ایجنٹ کی طرف سے پولنگ سٹیشنز کے سو گز کے اندر کوئی نوٹس لگانا یا جھنڈا لگانا جس سے کسی امیدوار کی حوصلہ افزائی اور دوسرے کی حوصلہ شکنی ہو ممنوع ہوگا ۔ جلسوں کے دوران یا پولنگ کے اوقات میں کوئی پرتشدد کارروائی نہیں ہوگی امیدوار اور سیاسی جماعتیں اس کی مذمت کرینگی اور ایسی زبان استعمال نہیں کی جائے گی جس سے جلسوں اور جلوسوں یا پولنگ کے اوقات میں تشدد پیدا ہونے کا امکان ہو کوئی شخص بھی کسی کو زخمی یا مالی نقصان نہیں پہنچائے گا امیدوار اور اس کے حامی کسی ایسے شخص کی مدد حاصل نہیں کرینگے جو سرکار کا ملازم ہو ۔ امیدوار اپنے حامیوں کو قائل کرے گا کہ وہ کسی بیلٹ پیپر یا سرکاری چیز کو نقصان نہ پہنچائیں کوئی شخص یا سیاسی جماعت یا امیدوار یا ان کے حامی سرکاری عمارت پر پارٹی کا جھنڈا نہیں لگائے گئے تاہم یہ کام تحریری طور پر مقامی حکومت یا حکام کی اجازت سے طے شدہ رقم ادا کرکے کیا جاسکتا ہے ہر قسم کی وال چاکنگ ممنوع ہوگی ۔ انتخابی جلسوں کے علاوہ لاؤڈ سپیکرز کا استعمال بھی ممنوع ہوگا کوئی شخص یا سیاسی جماعت طے شدہ حجم سے بڑا بینر یا پوسٹر نہیں لگائے گی اس مقصد کیلئے دوفٹ ضرب تین فٹ کا پوسٹر ، تین فٹ ضرب پانچ فٹ کا بورڈ ، تین فٹ ضرب نو فٹ کا بینر اور نو انچ ضرب چھ انچ کے ہینڈ بل شائع کئے جاسکیں گے ۔ اس پر ضلعی انتظامیہ اور پولیٹیکل ایجنٹ سمیت ضلعی ریٹرننگ آفیسر عملدرآمد کے ذمہ دار ہونگے ۔ سیاسی جماعتیں مخالف امیدوار اور ان کے حامی کسی شخص کو کھڑا کرنے یا بیٹھانے کیلئے تحائف نہیں دینگے سیاسی جماعتیں امیدوار اور ان کے حامی مجموعی ترقیاتی کاموں کا اعلان کرسکتے ہیں لیکن انتخابی شیڈول کے اعلان سے لیکر پولنگ کے دن تک کوئی امیدوار یا اس کی طرف سے کوئی شخص کھلے عام یا خفیہ طور پر کوئی عطیہ نہیں دیگا اور نہ ہی کسی ادارے یا کسی شخص سے ایسا وعدہ کرے گا ۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق امیدوار اور ان کے حامی لسانی اور فرقہ ورانہ خیالات پر مبنی تقاریب نہیں کرینگے اور نہ ہی صنفی فرقہ ورانہ یا لسانی اختلافات کو ہو دینگے ۔ سیاسی جماعتیں امیدوار اور ان کے حامی کوئی غلط اور جھوٹ پر مبنی اطلاع نہیں دینگے اور نہ ہی دوسری سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کو بدنام کرنے کیلئے کوئی بے بنیاد بات کرینگے ۔ گالی گلوچ پر مبنی زبان کے استعمال سے ہر قیمت پر اجتناب کیاجائے گا ضابطہ اخلاق کے مطابق دوسری سیاسی جماعتوں اور مخالف امیدواروں کی پالیسیوں ، پروگرامز ، ماضی کے ریکارڈ اور کام پر تنقید کی جاسکے گی کسی کی نجی زندگی پر تنقید نہیں ہوگی اور بے بنیاد الزامات یا حقائق کو مسخ کرنے سے بھی گریز کیاجائے گا ۔ سیاسی جماعتیں امیدوار اور ان کے حامی کسی کو ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں دینگے کسی شخص کی شرکت کیخلاف صنف ، زبان ، مذہب یا ذات کی بنیاد پر تنقید نہیں ہوگی ۔ خواتین کو امیدوار بننے سے روکنے کیلئے کوئی روایتی یا غیر روایتی سمجھوتہ یا اتفاق رائے نہیں کیا جائے گا سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرینگی ۔ کوئی انتخابی خرچہ طے شدہ اکاؤنٹس کے علاوہ دوسرے اکاؤنٹس سے نہیں کیاجائے گا تمام ادائیگیوں میں جی ایس ٹی رجسٹرڈ کمپنیوں اور افراد کو شامل کیاجائے گا۔ سیاسی جماعتیں امیدوار اور ان کے حامی امن وامان اور انتخابی مواد کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر ضروری مدد فراہم کرینگے ۔ سیاسی جماعتیں تعلیم یافتہ مردو خواتین کی انتخابی عمل کیلئے حوصلہ افزائی کرینگے سرکاری خزانے سے اخباروں یا دوسرے میڈیا کو اشتہارات کے اجراء انتخابی عرصے کے دوران سرکاری میڈیا کا غلط استعمال اور وفاقی ، صوبائی یا مقامی حکومتوں کی جانبدارانہ خبروں پر پابندی ہوگی ۔ ہر شخص کے امن و سکون اور نجی زندگی کا احترام کیاجائے گا کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار یا اس کے حامی کسی شخص کی ذاتی زمین ، عمارت کو بغیر اجازت جھنڈے اور بینرز لگانے کیلئے استعمال نہیں کرینگے ۔ سیاسی جماعتیں امیدوار اپنے حامیوں کو پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا جن میں اخبارات کے دفاتر اور پریس شامل ہیں ان پر دباؤ ڈالنے سے روکیں گے اور کسی قسم کا تشدد میڈیا کیخلاف نہیں ہوگا ۔ عوامی جلسوں ،جلوسوں میں اور ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے باقاعدہ نتائج کے اعلان کے چوبیس گھنٹے بعد تک آتشیں اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی ۔ پولنگ سٹیشنز کے قریب ہوائی فائرنگ اور کریکر چلانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق صدر ، وزیراعظم ، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ ، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اسمبلی ، وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت ، گورنرز ، وزرائے اعلیٰ ، صوبائی وزراء ، گورنر اور وزرائے اعلیٰ کے مشیر اور دیگر سرکاری عہدیدار کسی طور بھی انتخابی مہم میں شرکت نہیں کرینگے اس کا اطلاق عبوری سیٹ اپ پر بھی ہوگا تمام حکومتی نمائندے ، عہدیدار کسی مخصوص امیدوار کے حق یا مخالفت میں کسی ترقیاتی سکیم کا ایسا اعلان نہیں کرینگے جس سے نتائج اثر انداز ہوں ۔ سیاسی جماعتیں پارٹی امیدواروں ملازمین اور حامیوں میں نظم وضبط کیلئے ضابطہ اخلاق، قوانین اور قواعد کے بارے میں رہنمائی کرینگی تاکہ کوئی باقاعدگی نہ ہو ۔ کسی امیدوار کی طرف سے لگائے گئے پوسٹر ، ہورڈنگز اور بینرز نہیں ہٹائے جائینگے ، سیاسی جماعتیں اور امیدوار عوامی جلسوں اور جلوسوں کا اہتمام صرف طے شدہ جگہوں پر کرینگے جن کا تعین ضلعی اور مقامی انتظامیہ کی مشاورت سے کیاجائے گا ۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار جلسوں اور جلوسوں کے پروگرام سے کم از کم تین دن پیشگی آگاہ کرینگی ضلعی اور مقامی انتظامیہ مناسب انتظامات کی ذمہ دار ہوگی ضلعی انتظامیہ کسی ایک پارٹی کو دوسرے کی جگہ پر جلسہ کی اجازت نہیں دے گی سیاسی جماعتیں اور امیدوار کارنر میٹنگز کرینگے زیادہ فیصلے کی کار ریلیوں کی اجازت نہیں ہوگی ۔ منتظمین ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے جلوس کے راستے کا پیشگی تعین کرینگے تاکہ ٹریفک متاثر نہ ہو اور عوام کو تکلیف نہ ہو ۔ سیاسی جماعتیں اور امیدوار انتخابی افسران سے مکمل تعاون کرینگے تاکہ ووٹرز مکمل آزادی سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں اسی طرح پولنگ ایجنٹوں کو شناختی کارڈ یا بیجز کی فراہمی اصل شناختی کارڈ کی فراہمی اور دیگر امور میں تعاون کیاجائے گا امیدوار اور ان کے حامی اور پولنگ ایجنٹ پریذائیڈنگ افسر ، پولنگ افسر یا سکیورٹی اہلکاروں یا دیگر سرکاری اہلکاروں کیخلاف کسی تشدد کا مظاہرہ نہیں کرینگے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ووٹروں کی تعلیم کیلئے جامع منصوبہ بنائیں سیاسی جماعتیں امیدوار اور ان کے حامی پولنگ کے روز پولنگ سٹیشنز کے قریب کوئی کیمپ نہیں لگائے گے تاہم الیکشن کمیشن ووٹروں کو ایس ایم ایس کی سہولت فراہم کرے گا جس پر ووٹرز اپنا سیریل نمبر ، نام اور پولنگ سٹیشنز کے مقام کے بارے میں معلومات حاصل کرسکے گا ووٹروں ، امیدوار یا مجاز انتخابی ایجنٹس کے علاوہ کسی کو الیکشن کمیشن یا صوبائی الیکشن کمشنر ، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر یا ریٹرننگ افسر پاس نہیں دیگا ملکی مبصرین اور تصدیق شدہ اداروں کے نمائندوں کو انتخابی عمل دیکھنے کیلئے شناختی کارڈ اور پاس الیکشن کمیشن حکام جاری کرینگے ۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق ضلعی ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہونگے انہیں مجسٹریٹ درجہ اول کی حیثیت حاصل ہوگی اور کسی بھی امیدوار یا سیاسی جماعت کی طرف سے خلاف ورزی پر وہ قانون کے مطابق کارروائی کرسکے گا جس میں امیدوار کی نااہلی بھی شامل ہے

یہ بھی پڑھیں  لاہو ر: نہر میں نہاتے ہوئے دو بچے ڈوب گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker