تازہ ترینعلاقائی

چنیوٹ:بلدیاتی الیکشن کےامیدواروں نے الیکشن کمیشن کے قوانین و ضابظہ اخلاق کی دھجیاں اڑا دیں

چنیوٹ(بیورو رپورٹ)ضلع چنیوٹ میں بلدیاتی الیکشن میں کھڑے امیدوار وں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بنائے گئے قوانین و ضابظہ اخلاق کی دھجیاں اڑانا شروع کر دیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کرنا سوالیہ نشان بن گیا ۔بلند وبانگ پینا فلیکسسز اور بورڈز کے ساتھ ساتھ ،جلسے ،جلوسوں،ریلیوں اور وال چاکنگ سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ متعلقہ افسران مبینہ طور پر خاموش سب تماشا دیکھنے میں مصروف ہیں ۔جبکہ حکمران جماعت کی جانب سے الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں نے تو ضلع بھر میں ’’پھنے خاں‘‘نظام کے تحت الیکشن مہم چلانا شروع کر رکھی ہے اور باقاعدہ طور پر وہ معاملات کئے جا رہے ہیں جن کی نہ ہی تو الیکشن کمیشن اجزات دیتا ہے اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ جبکہ دوسری جانب ضلع چنیوٹ کے تمام تھانہ جات کے انچارج صاحبان نے اپنے اپنے علاقوں میں الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے ساتھ تھانہ جات میں میٹنگ کے ذریعے اس بات کو واضح کیا کہ بلدیاتی الیکشن کے امیدوار ایک مخصوص حد بندی میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو چلائیں مگر یہ احکامات خام خیالی کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہ ہوئے جبکہ گزشتہ روز ہونے والے بلدیاتی الیکشن سروے میں اس بات کو واضح طور پر دیکھا گیا ہے کہ ضلع چنیوٹ کی 48یونین کونسلز ،چناب نگر12،تحصیل لالیاں11اور تحصیل بھوآنہ کی 11یونین کونسلز میں بلدیاتی الیکشن کے امیدوراوں نے ات مچا رکھی ہے اور گلیوں بازاروں چوکوں چوراہوں سمیت اہم مقامات کو مکمل طور پر پینا فلیکسسز اور بورڈز کے ذریعے ڈھانپ دیا کہیں تو عوام کا پیدل چلنا بھی ان بورڈز اور فلیکسسز نے دشوار کر دیا جبکہ دوسری جانب متعدد یونین کونسلز میں کانٹے دار مقابلہ اور پرانی سیاسی رنجشوں کو ’’تڑکا ‘‘لگانے کے لئے مخالف امیدوار رات کی تاریکی میں اپنے مخالفین کے بورڈز اور پینا فلیکسسز اتروانے کے لئے بھی میدان سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔جس سے سیاسی نورا کشتی میں جلتی پر تیل کا کام کر ہے ہیں ۔اور اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان حربوں کا انتقام 19نومبر کو آمنے سامنے ہو کر لیا جائے گا تاہم ضلعی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ ایسے حربے استعمال کرنے والوں اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف بروقت کاروائی عمل میں لائے تاکہ ضلع چنیوٹ میں کسی بھی قسم کا کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما نہ ہو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker