امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

الیکشن اِن ایکشن

imtiazاللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے چھوٹی سی چھوٹی تکلیف پرثواب کاوعدہ کیا ہے ۔ایک مرتبہ چراغ گل ہوگیاتوآپﷺ نے اِنالِلہِ پڑھا حضرت عائشہؓنے فرمایاکیا یہ مصیبت ہے اس پربھی صبر کرنے کااجروثواب ملتا ہے؟آپﷺ نے فرمایا ہاں جوچیز مسلمان کوناگوار گزرے وہ مصیبت ہے یہاں تک کہ کانٹا لگ جائے یاکوئی چیزرکھ کربھول جائے،اس پرصبر کرنے سے اَجرملتا ہے ۔لیکن افسوس کہ نہ ہم صبرکرتے ہیں اور نہ ہی مصیبتوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش ۔پاکستانی قوم کاحال دو سے چھ ماہ کے بچے کی طرح ہے جواگر روپڑے تو چُپ ہونے کانام نہیں لیتا اور اگر خوش ہوتو بات بے بات مسکرائے جاتا ہے ۔اسی طرح پاکستانی عوام بھی سالوں تک حکمرانوں کو خوب بُرا بھلا کہتے ہیں اورچکن سیل سنیٹرپر پڑے ڈرم میں تڑپتی ہوئی مرغی کی طرح پھڑپھڑاتے ہوئے وقت گزارتے ہیں، اپنے تمام ترمسائل ،تمام تر مشکلات کی ذمہ داری حکمرانوں پرڈالتے ہیں ۔جو لوگ عوام کوایک آنکھ نہیں بھاتے الیکشن کے دنوں میں انہیں لوگوں کی ایک جھلک دیکھ کر تمام ترپریشانیاں،تمام تر مسائل ،تمام تر مشکلات اور تمام تر محرومیاں بھول کر بڑے فخر کے ساتھ نہ صرف اُن کی انتخابی مہم چلاتے ہیں بلکہ اُن کی خوبیاں گنواتے وقت یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے گزشتہ چار پانچ سال عوام کا جینا مرنا مشکل کئے رکھا تھا اور اُن کے ظلم کا شکار ہونے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو خوبیاں گنوائی جا رہی ہیں وہ ہرگز اُس سیاست دان کی شخصیت میں موجود نہیں ہیں جواُن کے حلقے میں پھر سے اُمیدوار بن کر آگیا ہے اور مزے کی بات سن لیں پچھلے الیکشن میں اُس نے تیر کے انتخابی نشان پرالیکشن لڑا تھا اور اِس الیکشن میں وہ شیر کولے کرمیدان میں اُترا ہے ،کیا اُس کی وفاداری کا یہی ثبوت کافی نہیں کہ جس پارٹی نے اُسے پانچ سال تک خوب عزت دی وہ اُسی پارٹی کو مشکل میں دیکھ اپنے مستقبل کے سنہری خواب سجائے دوسری پارٹی سے جا ملا ؟ قارئین محترم آپ جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں سیاسی اکھاڑہ سجنے کو ہے
بہار کے موسم کے ساتھ ساتھ الیکشن کا سیزن بھی شروع ہواچاہتا ہے ۔سیاست دانوں کے رشتہ دار جو بیرون ملک مقیم ہیں وہ پاکستان آکر الیکشن کا مزہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں ۔سابق صدر پرویزمشرف بھی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے آرہے ہیں،کل تک ن لیگی قیادت پرویزمشرف کی وطن واپسی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی تھی لیکن سنا ہے بیرونی طاقتوں کے کہنے پر وہی پرویزمشرف کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہوچکی ہے ۔اگر جمہوریت کی روح سے دیکھاجائے تو پرویزمشرف کا وطن آکر الیکشن میں حصہ لینا اچھی بات ہے۔ایک دو،دنوں میں موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے پر نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا اورحکومتی اور اپوزیشن ارکان پانچ سالوں بعد اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں لوٹ کر عوامی رابطہ مہم چلائیں گے ۔یعنی الیکشن کے دنوں میں اِن ایکشن رہیں گے ۔وہ لوگ عوام جن کے چہرے تک بھول چکے ہیں ایک بار پھر عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے بڑے انتخابی جلسے رچا کر نہ صرف اپنی خوبیاں گنوائیں گے بلکہ ساتھ ساتھ مخالف اُمیدوار پر کیچڑ اچھالتے وقت سب اخلاقی حدیں توڑ دیں گے یہاں تک کہ ایک دوسرے کی ماؤں بہنوں کی کردار کشی کریں گے اور عوام جو پچھلے پانچ سال اپنی قسمت پر روتی رہی ہے آئندہ پانچ سال تک رونے کی تیاری اس طرح کریں گے کہ ہر سیاسی جلسے میں شامل ہوکر خوب نعرے بازی کرینگے،ڈھول کی تھاپ پر خوب رقص کریں گے اور اُمیدواروں کے انتخابی دفاتر میں شربت چائے پی کریا کھانا کھا کر یہ سمجھیں گے کہ وہ سیاست دانوں کو بے وقوف بنارہے ہیں ۔ذات برادری ،پارٹی نسبت یا پھر چند روپوں کے عوض کسی کرپٹ اور نااہل اُمیدار کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر آئندہ پانچ سال اپنی قسمت کو روتے رہیں گے ۔اس بار یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو 25.20دن انتخابات سے پہلے عوام ہنسی خوشی گزاراکرتے تھے وہ بھی ان کی قسمت میں نہ آئیں کیونکہ ملک میں امن وامان کی صوت حال کچھ بہتر نہیں ہے ۔ہوسکتا ہے نگران حکومت اور الیکشن کمیشن جلسے جلوسوں پر سخت پابندی لگا کر موبائل فون سروس بھی بند کردے۔کچھ حلقے تو الیکشن کو خونی بھی کہہ رہے ہیں ۔اس وقت ملک جن سازشوں کا شکار ہے ممکن ہے کہ دشمن الیکشن کے دوران بھی قتل وغارت اور فتنہ گری سے باز نہ آئے ۔جب لاہور جیسے شہرمیں وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کے دور حکومت میں جو انتہائی سخت مزاج پائے گئے ہیں پولیس اور دیگر محکموں کی کوتائی برداشت نہیں کرتے پھر بھی پولیس کو توہین رسالت کے مقدمہ کاعلم ہوجانے کے باوجود اتنا بڑا سانحہ روپذیر ہوگیا جس میں نہ صرف مسیح برادری کی بستی کو آگ لگا دی گئی بلکہ مذہبی فسادات کوہوا دینے کی کوشش بھی کی گئی ۔سچ تو یہ ہے کہ سانحہ بادامی باغ نے ایک بارتو پوری قوم کو ہلا کررکھ دیا ہے۔توپھرتین ماہ کی نگران حکومت تو بہت کمزور ہواکرتی ہے سب کو پتا ہوتا ہے کہ حکومت صرف 90دن کی مہمان ہے۔مہمان حکومت کس طرح حکومتی رٹ قائم کرے گی؟اور کون اُس پر عمل کرے گا؟جبکہ پچھلے پانچ سالوں میں منتخب عوامی حکومت امن و امان قائم نہیں کرسکی تو نگران حکومت الیکشن میں امن و امان کس طرح قائم کر پائے گی؟منتخب عوامی حکومت کا مطلب شائد یہ ہونا چاہئے تھا کہ حکومت کے رابطے عوام کے ساتھ اس قدر مضبوط رہیں کہ کوئی دشمن ملک و قوم کو نقصان نہ پہچاسکے لیکن یہاں تواُلٹا رواج ہے نہ صرف سیاست دان بلکہ عوام بھی سیاست دانوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔اس بار انتخابی نعرے بھی کچھ اور ہی ہوں گے جیسا کہ اُمیدوار کہیں گے کہ ہم اقتدار میں آکر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی گردنیں کاٹ دیں گے،ہماری حکومت میں سفارش،رشوت،اقرباء پروری،بدامنی ،دہشتگردی ،ناانصافی،غنڈہ گردی،فحاشی،بے روز گاری،جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر،قتل وغارت،بم دھماکے،بھوک ننگ،خودکشیاں ،لاقانونیت،ٹارگٹ کلنگ اور دیگر خون خرابے عام ہوں گے ،اگر عوام امن پسند ہیں تو بھی ہمیں ووٹ دیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اقتدار میں آکرہم آئندہ پانچ سال ملک میں امن امان نام کی کوئی چیزباقی نہ رہنے دیں گے ۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button