پاکستانتازہ ترین

توانائی کابحران کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ہے،وزیراعلیٰ پنجاب

لاہور﴿نامہ نگار﴾وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف نے کہا ہے کہ توانائی کا بحران کرپٹ حکمرانوں کی لوٹ مار کا شاخسانہ ہے ۔بجلی کی قلت کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن حکمرانوں کی غیر سنجیدگی اس مسئلے میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ توانائی کانفرنس کے ملک بھر میں یکساں لوڈشیڈنگ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونا افسوسناک ہے۔پنجاب سے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے روا رکھے جانے والے ظلم اور ناانصافی کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔ توانائی کانفرنس کے ملک بھر میں یکساں لوڈشیڈنگ اور دیگر فیصلوں پر مکمل عملدرآمد ہوناچاہیئے۔ انہوںنے کہاکہ اس مقصد کے لئے ایوان ہائے صنعت ، زراعت اور تجارت کامشترکہ اجلاس منگل کے روز طلب کیاگیاہے جس میں تاجروں، صنعتکاروں اور لوڈشیڈنگ سے متاثرہ اضلاع کے منتخب نمائندے بھی شرکت کریں گے،وہ گزشتہ روز یہاں انرجی امپلی مینٹیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میںاراکین قومی اسمبلی خرم دستگیر خان،پرویزملک،وائس چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ، سیکرٹری توانائی،نائب صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں توانائی کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیاگیا اور ملک بھر میں یکساں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے توانائی کانفرنس کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیاگیا،وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے بحران نے جہاںملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے وہاں اس نے عوام کی زندگی بھی اجیرن بنادی ہے اگر توانائی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے درست حکمت عملی اپنائی جاتی تو آج ملک اندھیروں میں نہ ڈوبا ہوتا۔ انہوںنے کہاکہ پنجاب میں بجلی کی طویل بندش سے صنعتیں بند ہوچکی ہیں، لاکھوں مزدور بے روزگارہوگئے ہیںاورلوگ سراپا احتجاج ہیں۔ انہوںنے کہاکہ توانائی کانفرنس میں طے پایاتھاکہ ملک بھر میں بجلی کی مساوی لوڈشیڈنگ ہوگی لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہورہا جو سراسر زیادتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے قلیل المیعاد کے ساتھ ساتھ طویل المیعاد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ پنجاب پاکستان کا بڑا صوبہ ہے اور اس کا جی ڈی پی میں بھی بڑا حصہ ہے اگر غیر مساوی لوڈشیڈنگ سے پنجاب کی معیشت متاثر ہوتی ہے تو حقیقت میں یہ ملک کی معیشت کو نقصان پہنچنے کے مترادف ہے۔ اس لئے پنجاب کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے روا رکھی جانے والی زیادتی بند ہونی چاہیئے۔ انہوںنے کہاکہ منگل کے روزایوان ہائے صنعت، تجارت اور زراعت کا مشترکہ اجلاس بلایاگیاہے جس میں اس مسئلے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ مہنگے ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کی بجائے سستے ذرائع سے بجلی کے حصول کے منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ کوئلے، ہائیڈل، شمسی، گنے کے پھوگ اور دیگر ذرائع سے توانائی کے حصول کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھاناچاہیئے۔ انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے قائم کیاگیا محکمہ توانائی تیزی سے اقدامات کررہاہے۔انہوںنے کہاکہ گنے کے پھوگ سے توانائی کے حصول کے لئے شوگرملز مالکان کی مشاورت سے پالیسی بھی طے کی گئی ہے۔انہوںنے سیکرٹری توانائی کو ہدایت کی کہ وہ مائنز او رتوانائی کے حوالے سے جوائنٹ پریزینٹیشن دو تین روز میںتیار کریں اورکاشتکاروں کی سہولت کے لئے سولر ٹیوب ویلوں پر سبسڈی کے پروگرام پر تیزی سے عملدرآمد کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ صوبوں کے ذمے بجلی کی مد میں واجب الادا رقم میں پنجاب کے ذمے رقم وعدے کے مطابق ڈیڑھ ماہ میں ادا کردی جائے گی،قبل ازیں سیکرٹری توانائی جہانزیب خان نے توانائی کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی رفتار سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں  مسلم لیگ (ن) نے اس بار خواتین کے پولنگ اسٹیشنز میں دھاندلی کامنصوبہ بنایا ہے، عمران خان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker