تازہ ترینکالممحمد صدیق مدنی

الیکٹرانک میڈیااور عدلیہ

ابھی منصور اعجاز اور حسین حقانی کے حوالے سے میمو اسکینڈل کا کفن بھی میلا نہیں ہوا تھا کہ وزیرِ اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی آن کی آن میں سزا یافتہ وزیرِ اعظم کہلانے لگے اور پھر اس سزا یافتہ وزیرِ اعظم کے اللے تللے ختم بھی نہیں ہو پائے تھے کہ عوامی امنگوں کی واحد ترجمان عدلیہ اور اس کے چیف۔۔۔چیف جسٹس آف پاکستان پر زبردستی کا ملبہ ڈاکٹر ارسلان افتخار کے نام سے گرانے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا اور بلا مبالغہ سرکاری مشینری تک حرکت میں آگئی بات جب چل نکلی تو پھر چیف جسٹس کے کانوں میں بھی پڑی اور بات بھی عزیز از جان بیٹے ڈاکٹر ارسلان کی۔۔۔مگر شاباش ہے چیف جسٹس پر کہ اس سے پہلے کہ افواہوں کا طوفان زور مارتا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لے کر ڈاکٹر ارسلان کو پہلے تو اپنے گھر سے نکالا اور پھر کورٹ میں طلب کرلیا۔دشمنانِ اغیار کو یہ بھی منظور نہ ہوا کہ چیف جسٹس اس بینچ کا حصہ رہیں تو یہاں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرنا شروع کردیا۔جس پر چیف جسٹس نے خود کو اس بنچ سے علیحدہ کرلیا اس دور میں عہدِ خلفائے راشدین کی یاد تازہ کردینا یا ان بے مثال مسلم بادشاہوں کی مثل بن جانا کہ جن کے اپنے بیٹے پر جب الزامات کو عدالت نے ثابت کردیا تو اپنے بیٹے پر ہی کوڑے لگوا دیئے اور ثابت کردیا کہ جرم اور مجرم چاہے حکمرانِ وقت کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو سزا کا مستوجب کہلائے گایہ اس دور کا جہاد نہیں تو اور کیا ہے کہ ظالم حکمران کے سامنے نہ صرف کلمہء4 حق بلند کردینا بلکہ اسے عدالت کے کٹہرے میں بلا لینا اور سزا تک دے ڈالنا کیا جہاد نہیں ؟۔۔۔بات پھر بھی ختم نہیں ہوئی ملک ریاض نامی سرمایہ دار نے پیسے کا ڈول ڈال کر نامور صحافیوں اور مشہور ٹی وی اینکر ز کو استعمال کر نا شرو ع کر دیا اور یہ نام نہا د صحا فی کہ جن کی تنخواہیں 15لاکھ سے 20لاکھ ماہانہ تک ہیں کرپشن میں ملو ث پائے گئے ہیں اب یہ تو اللہ ہی بہتر جا نے کہ 4کروڑ کا (وِلا) حامد میر نے لیا ہے ملک ریا ض سے یا انہیں بد نام کرنے کی سازش کی گئی ہے اصل حقائق کچھ بھی ہوں مگر حامد میر کا نام با حیثیت اور معتبر ٹی وی اینکر کے نام سے جانا جا تا ہے اب بدنامی کا دا غ اٹھا کر وہ ان بدنام کرنے والوں کے خلاف قانونی چا رہ جو ئی کر تے ہیں اور اپنا اور اپنے نام کا دفا ع کر تے ہیں یا محض معا ملے کو اسی طرح جا ری و سا ری رہنے دینا چاہتے ہیں؟ اول الزکر میں تو حامد میر کی سچا ئی پو شیدہ ہو سکتی ہے مگر کہیں حامد میر دو سرا را ستہ اختیار کریں گے تو عوام ان الزامات کو سچ ماننے پر مجبور ہو گی۔ اور مجبور تو ہو گی ہی عوام کیونکہ ابھی حامد میر کے 4کروڑ کے مبینہ وِلا کی باز گشت ابھی ختم بھی نہیں ہو پائی تھی کہ کل رات کسی گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھا دی اور مبشر لقمان اور مہر بخا ری کے اصل چہرے عوام کے سامنے لا کر رکھ دیئے کہ یہ ہیں وہ نام نہا د مصلح قوم جو آن ائیر بڑے بڑے بھا شن دے کر اور چار چار سیا سی پارٹیوں کو ایک جگہ بٹھا کر بھس میں چرنگی چھوڑ کر اور نفرتوں کی آ گ کو دو سرے دن کے اخبارات کی سر خیوں کی زینت بنا کر اپنا اور اپنے پرو گرام کی ریٹنگ بڑھا نے کی ناکام کو شش کر نے میں مصروف ہو تے ہیں آ ج کے تقریباً تمام قومی اخبارات میں مکمل متن کے سا تھ مہر بخا ری اور مبشر لقمان کی آف دی ریکارڈ گفتگو اور اس کا خلا صہ نظر قارئین کر چکے ہیں اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ایک اکیلے چیف جسٹس پر اتنے لو گ مل کر حملہ آ ور ہو ئے اور جس میں ناجائز طور پر کمائی ہوئی حرام کی کمائی کو حرام ہی طریقے سے لٹایا جا رہا ہے اور ان نام نہا د نیک نام ٹی وی اینکر ز میں بانٹا جا رہا ہے آ خر سوال ہے کہ کس کے کہنے پر ؟ اور کیوں ؟ کیا صرف چیف جسٹس کو نیچ دکھا نے کیلئے یا پھر عوام کا عدلیہ پر سے بھروسہ ختم کرنے کیلئے ؟ وجہ کچھ بھی ہو اس موبائل ویڈیو سے مبشر لقمان اور مہر بخا ری جیسے اینکر ز پر سنزکی نشاندہی تو ہو ہی گئی کہ یہ سفید لباس میں چھپی کالی بھیڑیں ہیں اور حکومتی کرپشن کنگز سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں یہ وہ روسیاہ لو گ ہیں جو کہ کرپٹ لوگوں سے بھی زیا دہ کرپٹ ہیں اور ان سے بھی مال نکال لیتے ہیں۔ غضب خدا کا4کروڑ روپے مالیت کا وِلا؟ ہمیں اٹھا رہ سال ہو گئے صحا فت کر تے ہم آج تک 18لاکھ روپے کا گھر تک نہیں بنا سکے اور یہ نام نہا د ریٹنگ ما سٹرز جو ڈمی پرو گرام کر کے ریٹنگ کر تے ہیں کیا عوام اس با ت سے بے خبر ہے کہ سا رے پرو گرام فکس سیٹ اپ کا حصہ ہو تے ہیں پہلے ہی سے اسکرپٹ تیار کر لیا جا تا ہے کہ ہم یہ کہیں گے، آپ یہ جواب دینگے ،ہم غصہ دلائیں گے، آپ غصے میں آ جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ پرو گرام کی ریٹنگ بڑھے گی اشتہا ر زیا دہ ملیں گے اور ہم بھی آپ کو رو زانہ لوگوں کے سامنے لائیں گے تاکہ آپ بھی نیوز میں رہیں اور ہما را کچن بھی چلتا رہے۔کچن کی با ت شاید یہاں فٹ نہیں ہو پا رہی کیونکہ کچن تو ان لوگوں کے پہلے ہی چل رہے ہیں بلکہ چلائے جا رہے ہیں ملک ریاض جیسے لو گوں کی بدولت۔۔ بے غیرتی کی بھی ایک حد ہو تی ہے مگر لگتا ہے کہ چیف جسٹس اور عدلیہ کے خلاف بے غیرتی کی سا ری حدیں پار کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کر لی گئی ہے اور چیف جسٹس کی مکمل کر دار کشی کی کو شش کی جا رہی ہے اور پہلے تو شاید افواہیں تھیں کوئی ٹھو س ثبوت حکومت کی شمولیت کا شاید نہ ہو مگر مبشر لقمان اور مہر بخا ری کی آ ف دی ریکارڈ گفتگو کے ٹیپ کو آن ائیر جانے کے بعد عبدالقا در گیلا نی ، مریم نواز بھی منظر عام پر آ گئے ہ

یہ بھی پڑھیں  آپ نہیں ہو گئے تو لوگ آپ کو بھی بھول جائیں گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker