سائنس و آئی ٹی

توانائی کی کمی کے شکار پاکستان کیلئے شمسی توانائی روشنی کی کرن

مظفر آباد﴿پاک نیوز لائیو ڈاٹ کام﴾پاکستانی عوام کو مساجد سے گھروں اور سڑکوں تک روشنی کی زبردست ضرورت ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ سال بھر چمکنے والا سورج سستی توانائی کے زبردست بحران کاجزوی جواب ہوسکتا ہے۔ایک سابق ریٹائرڈ سرکاری ملازم سردار اعظم نے اپنے مکان کے ٹیریس پر نصب گیزر دکھاتے ہوئے کہا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں دریاکے کنارے اپنے مکان کیلئے یہ بہترین چیز ہے جو میں نے اس موسم سرما میں خریدی ہے۔انہوںنے کہاکہ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ ایک دفعہ رقم خرچ کریں اور یہ سورج کی روشنی سے چلتا ہے جو کہ مفت ہے۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کے مطابق پاکستان کو روزانہ سولہ ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کی ضرورت ہے لیکن وہ صرف تیرہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرپاتا ہے۔ بجلی کی اس پیداواری گنجائش میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں افراد کو دن میں سولہ گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس طرح انہیں سردیوں میں ٹھٹھرنا اور گرمیوں میں سخت مضمحل ہونا پڑتا ہے جبکہ صنعت اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہے ، اس طرح دھیمے دھیمے بھڑکنے والی کساد بازاری ﴿ مہنگائی﴾ میں اضافہ ہورہا ہے۔ رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لئے طالبان اور القاعدہ کیخلاف جنگ کے بعد سب سے بڑی واحد تشویش ہے۔اس لئے حکومت جو ایک سال کے اندر ہونے والے انتخابات پر نظررکھے ہوئے ہے اس مسئلے کے حل کیلئے بڑی مستعدی سے ربط اللسان ہے۔ پاکستان کی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے رواں مہینے کہا میرے خیال میں ہمارے تمام احباب پاکستان کو درپیش توانائی کے حقیقی بحران کو بخوبی سمجھتے ہیں ہم اس بارے میں امتیاز کے روا دار نہیں ہوسکتے کہ یہ ہمیں کہاں سے حاصل ہوسکتی ہے ۔ اس موقع پر وہ پابندیوں کی امریکی دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر ایران سے گیس درآمد کرنے اور گیس پائپ لائن تعمیر کرنے بارے پاکستان کے عزم کا حوالہ دے رہی تھیں ۔تاہم ان کا پیغام واضح تھا کہ توانائی کے محاذ پر پاکستان کو ہروہ مدد درکار ہے جو وہ حاصل کرسکتا ہے۔متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ کے سربراہ عارف علائو الدین قابل تجدید ذرائع سے ملنے والی امدادپر زیادہ تکیہ کئے ہوئے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف شمسی توانائی سے 2.4ملین میگاواٹ کی گنجائش ہے ۔ پرائیویٹ کمپنی متبادل انرجی سسٹمز کے ڈائریکٹر نیاز احمد کاٹھیہ کا کہنا ہے کہ بکثرت اور مفت سورج کی روشنی پاکستان کی توانائی مشکلات کا جواب ہے۔کاٹھیہ نے دارالحکومت میں شمسی توانائی سے چلنے والے ایک کنوئیں کے مظاہرے کے موقع پر اے ایف پی کو بتایاکہ توانائی ہمارا دہشت گردی سے بڑا مسئلہ ہے اور اگر ہم اپنے ایک ملین ٹیوب ویل پمپوں کو شمسی توانائی پر منتقل کردیں تو ہم سات ہزار میگاواٹ بجلی بچا سکتے ہیں ۔پاکستان کے بیشتر ٹیوب ویل پمپ جو زیر زمین پانی کھینچ کر باہر نکالتے ہیں دبائو والے قومی گرڈ یا ڈیزل پاور سے چلتے ہیں۔اس قسم میں کوئی حیلہ نہیں ہے کہ شمسی توانائی واحد جواب ہے تاہم وزیراعظم نے رواں مہینے حکومت کو حکم دیا ہے کہ قومی گرڈ سے دور دراز دیہات کو شمسی بجلی فراہم کی جائے۔ حکومت نے قابل تجدید ذرائع کو سرمایہ کاروں کی چوائس قراردیا ہے اور کہا کہ نجی شعبہ نے روزانہ ڈیڑھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی پیشکش کی ہے۔کشمیر کے پہاڑوں میں کوئی گیس پائپ لائن نہیں ہے اور سردیوں کے موسم میں بجلی کے بل انتہائی زیادہ ہوتے ہیں۔ اعظم کے آبائی شہر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے دارالحکومت مظفر آباد میں شمسی توانائی سے پبلک پارکوں اور مساجد میں روشنی کا بندوبست کیا جاتا ہے ، راولپنڈی ، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں بتدریج شمسی توانائی سے چلنے والی سٹریٹ لائٹس نصب کی جارہی ہیں۔ پاکستان کے پہلے آن گرڈ شمسی توانائی والے سٹیشن نے جو178.9 کلوواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے ، جاپان کے بین الاقوامی تعاون ادارے کی طرف سے 5.4ملین ڈالر کی گرانٹ سے اس ماہ دارالحکومت اسلام آباد میں تجرباتی آغاز کردیا ہے ۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی سابق چیئرپرسن سینیٹر رخسانہ زبیری نے اے ایف پی کو بتایاکہ یہ ہزاروں مزید شمسی توانائی والے بجلی گھروں کے ایک بیج کی حیثیت رکھتا ہے۔ امسال پاکستان کو روزانہ دو ملین مکعب فٹ سوئی گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ سوئی گیس کی زیادہ مقدار پائپ لائنوں کے ذریعے گھروں اور صنعت کو فراہم کی جاتی ہے اس قلت کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور کارخانہ داروں کو محنت کشوں کو فارغ کرنا پڑا ۔وزیرپٹرولیم و معدنی وسائل عاصم حسین نے کہاکہ مسئلہ یہ ہے کہ انسداد منصوبے ابھی ادھورے مرحلے میں ہیں۔جوں جوں گیس کی قلت میں شدت پیدا ہوتی جارہی ہے ہم شمسی گیزر کے استعمال کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گیس کمپنیاں صارفین کے احاطوں میں شمسی واٹر ہیٹر نصب کریں گے اور اس کی رقم گیس کے بلوں سے اقساط میں منہا کریں گے ۔ سورج کی روشنی کے دوران پیدا ہونیوالی توانائی بلب، ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور رات کو پنکھے چلانے کے لئے ڈیپ سائیکل لیڈایسڈ بیٹریوں میں ذخیرہ کی جاسکتی ہے۔ناروے کی کمپنی ٹیلی نار کا کہنا ہے کہ اس نے شمسی توانائی سے چارج ہونے والے پچاس سیل سائٹس قائم کئے ہیں یہ زیادہ تر دوافتادہ علاقوں میں قائم کئے گئے ہیں ۔ یہ سیل سائٹ ماہانہ 940 لیٹرڈیزل کی بچت کرکے فی سائٹ 2.5 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کم کرسکتے ہیں۔ٹریڈروں ک

یہ بھی پڑھیں  موبائل فون سموں کی تصدیق کیلئے مدت 15 مئی تک بڑھادی گئی

ا کہنا ہے کہ مانگ میں یقیناً اضافہ ہوا ہے ۔170لیٹر﴿37گیلن﴾ گنجائش والے شمسی توانائی سے چلنے والے گیزر کی قیمت 27ہزار روپے﴿300ڈالر﴾ اور218لیٹر والے گیزر کی قیمت 32ہزار روپے ہے ۔وینڈر شکیل احمد نے کہاکہ شمسی توانائی سے چلنے والے گیزروں سے گیس بلوں میں خاصی کمی ہوسکتی ہے یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ماحول دوست بلکہ جیب دوست بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  انتہائی مختصر حجم کی ویڈیو گیم مشین

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker