تازہ ترینسائنس و آئی ٹی

حکومت پاکستان کی اتصلات کوبقایاجات ادا نہ کرنےپردھمکی

میڈیا اطلاعات کے مطابق کچھ عرصہ قبل اتصلات کے اعلی عہدہداران کے ایک وفد نے حکومت پاکستان کے فنانس منسٹر ڈاکٹر عبدل حفیظ شیخ سے ملاقات کی جس میں حکومت نے اتصلات کو ختی سے خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنی جون 2012 تک 800 ملین ڈالر کے بقایا جات ادا نہیں کرتی تو اس سے پی ٹی سی ایل کے انتظامی امور چھین لیے جائیں گے۔اس حوالے سے اتصلات کے وفد نے مسئلہ کے حل کے لیے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملنے کی درخواست کی جسے حکومت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دوستانہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اتصلات انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ وہ فی الحال 650 ملین ڈالر کی ادائیگی جلد از جلد کر دیں۔جون 2005 میں 2.6 بلین ڈالر کے عوض پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد شئیر اور انتظامی امور حاصل کرنے والی کمپنی اتصلات کی جانب سے 800 ملین ڈالر کی ادائیگی گذشتہ 5 سالوں سے تاخیر کا شکار ہے۔اتصلات کے وفد اور حکومتی ارکان کی میٹنگ میں دبئی کی کمپنی کو واضح الفاظ میں پیغام دیا گیا کہ وہ بقایا جات کی ادائیگی جلد از جلد کریں ورنہ  انکا بوریا بسترا گول کر دیا جائے گا اور انہیں تھری جی کی نیلامی میں بھی حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔ ذراع کے مطابق حکومتی وفد کو وزیر اعظم اور صدر پاکستان کی مکمل حمایت حاصل تھی۔اتصلات کے اعلی عہدہداران کی جانب سے تجویز پیش کی گئی کہ آزاد آڈیٹر مقرر کی جائے اور پی ٹی سی ایل کی متنازعہ املاک کی قیمت کا تعین پھر سے کیا جائے ۔ حکومت کی جانب سے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔یاد رہے کہ 2005 میں مشرف دور حکومت میں عبدل حفیظ شیخ کی زیر نگرانی ہی پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد شئیرز اور انتظامی امور کو اتصلات کے حوالے کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  چنیوٹ:عوامی نمائندگان اور ضلعی افسران نے عوامی مسائل سے منہ موڑ لیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker