پاکستانتازہ ترین

ایکسپریس چینل کی ریٹنگ فراڈ کے ذریعے بڑھائی جار ہی ہے

لاہور (نمائندہ خصوصی) میڈیا لاجک پاکستان میں ٹیلی ویژن ریٹنگ کاسب سے بڑا ادارہ ہے جس کی بنیاد پر ایڈورٹائزنگ ریونیو کا تعین ہوتا ہے۔ میڈیا لاجک کے چیف ایگزیکٹو سلمان دانش نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایاہمارا یہ ادارہ پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن سے باقاعدہ منظور شدہ ہے اور تمام ٹی وی چینلز اسی کی متعین کردہ ریٹنگ استعمال کرتے ہیں۔ اس بناءپر ہماری یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ تمام ٹی وی چینلز کے حقوق کا تحفظ کریں اور انہیں درست ریٹنگ فراہم کرکے ہر ایک کو اس کے معیار اور مقام کے مطابق ریونیو کا حصول یقینی بنائیں۔  ان کا کہناتھاکہ آپ لوگوںنے مشاہدہ کیا ہوگا کہ گزشتہ چند روز سے ایک ٹی وی چینل پر بے بنیاد اور گمراہ کن پراپیگنڈہ مہم شروع کی گئی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور اپنے خفیہ معاملات پر پردہ پوشی کے لئے پہلے بھی اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس منفی کردار سے دیگر چینلز اور میڈیا انڈسٹری کو مجموعی طور پر خاصا نقصان پہنچا ہے ۔ ہمارا مقصد چونکہ تمام چینلز کے حقوق کا یکساں تحفظ اور غیر جانبداری کو یقینی بنانا ہے اس لئے آج چند حقائق آپ کے علم میں لانا چاہتے ہیں اور آپ کے ذریعے عوام الناس کو بھی حقائق سے باخبر کررہے ہیں۔ چند ماہ پہلے ہمارے علم میں آیا کہ ہمارے چند ملازمین ایک ٹی وی چینل کے ساتھ مل کر اس کی ریٹنگ کو غیر قانونی انداز کے ذریعے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال میں لائے جارہے ہیں۔ جن گھروں میں ریٹنگ ڈیوائسز نصب کی گئی ہیں انہیں ایکسپریس نیوز اور ایکسپریس انٹرٹینمنٹ سے رشوت لے کر باقاعدہ ماہانہ رقم بھجوائی جارہی ہے ۔ ان اہل خانہ سے کہا جارہا ہے کہ وہ ایکسپریس نیوز اور ایکسپریس انٹرٹینمنٹ زیادہ دیکھیں۔ اسی بناءپر دنیا میں ایکسپریس چینلز کی ریٹنگ میں اضافہ دکھائی دیا۔ شکایات ملنے پر ہم نے اپنے ملازمین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا اور تھانہ گلبرگ لاہور میں ان کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر بھی درج کروائی۔ ہم نے قانونی کارروائی کا سہارا لیا اور مقدمہ ہائی پروفائل ہونے کی بناءپر تفتیش CIA لاہور کے پاس چلی گئی۔ اس گھناﺅنے کاروبار میں ہمارے جو ملازمین ملوث تھے انہوں نے اعتراف جرم کرلیا۔ شائستہ مشتاق نامی خاتون نے اعترافی بیان بھی دیا جس میں تسلیم کیا کہ اس نے ایکسپریس نیوز کے ویوور شپ بڑھانے کے لئے اس چینل والوں سے خطیر رقم حاصل کی اور ان گھروں میں بھی پہنچائی جہاں ڈیوائسز لگائی گئی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کی جانب سے تنویر احمد نامی شخص ہمارے ملازمین کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کرتا رہا۔ پولیس نے عدالت سے احکامات حاصل کرکے تنویر احمد کی بینک سٹیٹمنٹ نکلوائی جس میں انکشاف ہوا کہ تنویر احمد کے اکاﺅنٹ سے باقاعدگی کے ساتھ بھاری رقوم شائستہ مشتاق اور اس کی بہن نادیہ مشتاق کے اکاﺅنٹ میں جاتی رہی ہیں۔نا صرف یہ بلکہ ایکسپریس نیوز کے اکاﺅنٹ سے براہ راست رقوم بھی انہیں ملتی رہی ہیں۔ اس فنانشل ٹریل کے ذریعے ایکسپریس نیوز کی ریٹنگ کو جعلی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا۔ میں اس حوالے سے تمام دستاویزی ثبوت آپ کو پیش کررہاہوں اور یہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو قانونی راستہ اختیار کیا اس کی تمام تفصیلات بھی آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ شائستہ مشتاق نے دوران تفتیش پولیس سے کوئی تعاون نہیں کیا اور وہ آج تک CIAکے پاس پیش نہیں ہوئیں۔ اس نے 3 اگست 2015ءکو الٹا لاہور ہائیکورٹ میں ایک رٹ پٹیشن کے ذریعے اغوا برائے تاوان کا جھوٹا کیس کیا ۔یہ رٹ بے بنیاد ہونے کی بناءپر عدالت سے خارج ہوگئی کہ جن لوگوں کے اغوا کا ڈرامہ رچایا گیا تھا وہ عدالت میں ہی موجود تھے۔ ہماری طرف سے درج کروائے گئے مقدمے میں شائستہ مشتاق نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی۔ عدالت نے اسے 5ستمبر کو پولیس کے پاس شامل تفتیش ہونے کا آخری موقع دیا لیکن وہ پیش نہ ہوئی اور اپنے گھناﺅنے کاروبار سے پردہ ہٹنے کے خوف سے آج تک پولیس کا سامنا کرنے سے کترارہی ہے۔ ایکسپریس نیوز اس معاملے میں خود ہی شائستہ ملک کے ساتھ پارٹی بنا ہوا ہے جبکہ وہ ہماری کمپنی کی سابق ملازمہ ہے۔ اگر ہم خاتون کو بلیک میل کررہے ہیں تو ایکسپریس نیوز کون ہوتا ہے اس کی سپورٹ کرنے والا۔  ہم نے میڈیا لاجک کی جانب سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن میں بھی تمام معاملے کی شکایت کی ہے اور ثبوت بھی پیش کئے ہیں ایکسپریس نیوز کے سلطان لاکھانی صاحب خود پی بی اے کے سیکرٹری جنرل ہیں انہیں پی بی اے نے اس معاملے کے حوالے سے بلایا بھی ہے، انہوں نے آنے کا وعدہ بھی کیا لیکن ابھی تک اپنی تنظیم کے پاس پیش نہیں ہوئے۔ جہاں تک ایکسپریس نیوز کا تعلق ہے تو وہ عادی مجرم ہے اس سے پہلے بھی تین مرتبہ اسی قسم کی حرکات کرچکا ہے۔ اب پی بی اے انہیں اس حوالے سے شوکاز نوٹس بھی جاری کررہا ہے۔ ثبوت ملاحظہ کرنے کے بعد پی بی اے نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ قانونی کارروائی میں میڈیا لاجک کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے کیونکہ ایکسپریس چینل کے گھناﺅنے اقدام سے پی بی اے کے ممبرز کا اصل نقصان ہوا ہے۔ اس چینل نے جعلسازی سے 50 کروڑ روپے سے زائد کا ناجائز فائدہ حاصل کیا جو کہ دیگر چینلز کا حق تھا۔ پوری میڈیا انڈسٹری کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اگر اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا سلسلہ فوری طور پر نہ روکا گیا تو میڈیا فیئر طریقے سے اپنا روزگار کما نہیں پائے گا اور یوں میڈیا ہاﺅسز اپنے جائز حق سے محروم رہیں گے۔
آخر میں سلمان دانش نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سارے معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کروائیں اور اس بات کا ضرور جائزہ لیں کہ جو شخص نیب سے سزا یافتہ ہے اسے چینل کا لائسنس کیسے مل گیا ۔ان کا کہناتھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پی بی اے اس معاملے کی تمام پہلوﺅں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کروائے گا تاکہ لوگوں تک صحیح حقائق پہنچائیں جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں  وزیر اعظم کا بھارت کے سکھ یاتریوں کیلئے پاسپورٹ کی شرط ختم کرنے کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker