تازہ ترینکالم

فیری میڈوزکا سچ

rizwan khanمیں اور خرم دونوں ہی لکھاریوں کے لچھے دار فریب کا شکار تھے ۔ خرم کو پریوں کی تلاش اور مجھے تبدیلی کی خواہش نے شاہراہ قراقرم پر رائے کوٹ برج پر لا کھڑا کیا تھا۔ ہم دونوں ہی ادھر ادھر ہو نقوں کی طرح دیکھ رہے تھے کہ کب فری میڈوز پہنچیں اور زمین پر جنت کے مزے سے لطف اندوز ہوں۔ گائیڈ نے ایک طرف کھٹارہ جیپ کی جانب اشارہ کیا کہ اس میں سوار ہو جائیں ۔ مکینکل انجینئر ہونے کی حیثیت سے میں مشینوں کے بارے میں ذرا سا خبطی واقع ہوا ہوں۔ اسی علت کو پورا کرنے کے لئے میں نے جیپ کے گرد گھوم کر اس کا جائزہ لیا ۔ ٹویوٹا کمپنی اگر اپنی اتنی اولڈ پراڈکٹ کو آن روڈ دیکھ لے تو یقیناًہماری غربت پر داد دیئے بغیر نہ رہ پائے ۔ خستہ ہا ل کا لفظ شائد ایسی جیپوں کے بارے میں وجود میں آیا ہوگا ۔جیپ نے چلنا شروع کیا تو ساتھ ہی ہمارے جوڑ جوڑبھی کھلنا شروع ہوگئے ۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ خود کو سنبھالیں یا جیپ کی چوں چوں چٹاک کی طرف توجہ دیں۔ اس سب کے علاوہ جوں جوں جیپ چڑھائی چڑھ رہی تھی کھائی گہری ہو رہی تھی۔ میں نے اس لمحے خدا کا شکر ادا کیا کہ جس نے مجھے عقل دی جسے استعمال میں لا کر میں نے پہلے پہل اکیلے اس جگہ کی سیر کا ارادہ کیا ۔ میری خوشی کھائی سے بھی زیادہ گہری تھی کہ میں نے فیملی ساتھ نہ لاکر زندگی میں کی جانے والی ایک حماقت کو کم کردیا ۔ جیپ کا پٹھان ڈرائیور خاصا سمجھ دار اور تجربہ کار تھا ۔ دل کو خان صاحب کی انہی دو خوبیوں کا جھوٹاسہارا تھا ۔ ٹریک ٹوٹا پھوٹا پتھروں کے ریزوں سے بھرپور تھا ۔جو لوگ زندگی میں خدا کو بھولے ہوں انہیں ایک مرتبہ اس جیپ ٹریک کی سواری کروائی جائے مجھے یقین ہے کہ یہ جب بھی خدا کی یاد سے بے گانہ ہونگے توں ہی فیری میڈوز جیپ کا سفر انہیں دل سے خدا پر ایمان لانے میں اور واپس صراط مستقیم پر چلنے میں مدد دے گا۔ جیپ میں سوار ہر فرد خاموش اور دل میں دعا گو تھا ۔ نانگا پربت کی کبھی کبھار جھلک سی نظر آجاتی تو دل کو تسلی ہوجاتی کہ مشکل شاہراہیں خوبصورت مقامات تک جانے کا واحد ذریعہ ہوتی ہیں۔ خدا خدا کرکے ایک گھنٹے میں جیپ نے بارہ کلومیٹر کا جان لیوا سفر طے کیا ۔ اس دوران جیپ کے پٹے بھی کڑکڑ کرتے رہے اور ایک پٹا تو درمیان سفر ٹوٹ بھی گیا۔ ٹاٹو گاؤں کے پاس جیپ نے ہمیں آف لوڈ کردیا ۔اس کے آگے چار گھنٹے کی ٹریکنگ کا راستہ تھا ۔ میں نے گائیڈ سے دو مرتبہ پوچھا کہ ٹریک کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم چوڑائی کیا ہے جواب دیسی اور ٹی پیکل پاکستانیوں والا تھا ۔ چھوڑیں چوڑائی اور اترائی کو بچے عورتیں بوڑھے ٹریکنگ کر کے فیری میڈوز پہنچ جاتے ہیں آ پ تو پھر جوان ہیں ۔ فیری میڈوزتک خشک پہاڑ اور گرمی کے سوا کچھ نہ تھا ۔ اسی امید پر ہم بڑھتے چلے جارہے تھے کہ چند قدم اور پھر منزل کی آغوش ہوگی پریاں ہوں گی اور ہماری مستیاں ہوں گی ۔ لکھنے والوں نے جھوٹ سچ کی آمیزش سے ایسا ملغوبہ ہمارے اذہان میں تیار کیا تھا کہ جیپ کا جاں گسل سفر بھی ہمیں کچھ سبق نہ دے گا ۔ لوگ خواتین اور بچوں کے ساتھ پانچ کلو میٹر پہاڑی ٹریک چڑھ کر جانے پر تیار تھے ۔ ٹریک بالکل خشک اور اکثر جگہوں پر تو صرف اتنا بچا ہوا تھا کہ ایک پاؤں رکھنے کی ایک فٹ جگہ اور دوسری طرف کھائی جو نانگا پربت گلشیئر سے نکلنے والے چشمے تک جاکر ختم ہوتی ہے۔ ہر خطر ناک پوائنٹ پر پورٹراور گھوڑوں خچروں والے منتظر ہیں کہ کب ٹورسٹ کی ہمت جواب دے اور ان کی روزی کا راستہ کھلے۔ سمجھدار لوگ جوانی کو زیادہ آزمائش میں ڈالنے کی بجائے یا تو اپنا سامان پورٹرز کے حوالے کرکے سکھی ہوجاتے ہیں یا پھر خچر ہائر کرکے مزید پریشانی مول لے لیتے ہیں ۔ اپنے قدموں پر ہر انسان بھروسہ کر ہی لیتا ہے لیکن خچر کے قدموں پر بھروسہ کرنا ذرا نہیں خاصا مشکل کام ہے ۔ یہ پانچ کلومیٹر کا ٹریک گھوڑوں اور خچروں کی لدوں اور پیشاب کی smellسے بھرپور ہے ۔ کہیں کوئی جائے حاجت نہیں ہے اوپن ائیر میں ہی قدرتی پریشانیوں اور حاجات کا حل ڈھونڈنا پڑتا ہے ۔ نصف ٹریک گزر جانے کے بعد ایک چشمہ ہے اور وہیں ایک کینٹین بھی ہے جہاں بے حال ٹورسٹ انرجی لینے کے لئے رکتے ہیں ۔ اس کے بعد کا ٹریک کچھ سرسبز ہے ۔ اسی سرسبزی اور شادابی کی وجہ سے گھوڑوں اور خچروں کی آلودگی سے بھی کچھ حد تک جان چھوٹ جاتی ہے ۔ فیری میڈوز پہنچ کر بھی یہ آلودگی آپ کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ بلکہ اس میں وہاں کے لوکلز کی پالتو گائیں اور بکریاں خاصا اضافہ کردیتی ہیں۔ کوئی شک نہیں فیری میڈوز چراگاہ کے بیچ چند چشمے بھی رواں دواں ہیں ۔ جنگل زیادہ گھنا نہیں ہے لیکن مناسب ہے ۔یہاں نانگا پربت کھل کر آپ کے سامنے آن موجود ہوتا ہے۔ مہنگائی کا یہاں کوئی حساب موجود نہیں ۔ یہ نانگاپربت کی چوٹی سے گزر کر واقعی ہی آسمان کو چھوتی ہے ۔ چکن رائس کی پلیٹ سات سو روپے دال کی پلیٹ تین سو روپے مزید لکھنا اور بتانا بے فائدہ ہے ۔ فیری میڈوزسے نانگا پربت کا ٹریک بھی خاصا پر خطرہے البتہ جانوروں کے فضلہ کی آلودگی ٹریک پر نہ ہونے کے برابر ہے ۔ کئی صاحباناس ٹریکنگ کے دوران لڑھکتے لڑھکتے بچے۔ کوئی اپنے اس بچاؤ کو ماں کی دعاؤں کا اثر قرار دے رہا تھا تو کوئی والد کی دعاؤں کا ثمر قرار دے کر دل کو تسلی دے رہا تھا ۔ہم جیسوں نے خدائے واحد کا دل وجان سے شکراداکیا ۔ چھوڑوقسم کے لکھاریوں کو بددعائیں دینے کا ہمارے پاس وقت نہیں تھا ۔ پراپر گائیڈنس نہ ہونے کا نتیجہ تھا کہ ہمارے پاس بائیکنگ اسٹکس تک نہ تھیں۔ دوست نے چاقو لے کر لکڑیوں کو تراش خراش کر استعمال کے لےئے اسٹکس بنا دیں۔کسی زمانے میں فیری میڈوزتک جیپ چلتی تھی جسے لوکلز نے ٹریک کو توڑ کر بند کردیا ۔ جیپ ٹریک کی تو وقتا فوقتا مقامی لوگ مرمت کرتے رہتے ہیں ۔ پیدل ٹریک کی مرمت کرنا یوں بھی ضروری نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی لڑھک بھی گیا تو کون سا وہ ان کے مامے کا پتر ہوگا ۔ لا علمی کی وجہ سے ایک خاتون بے چاری پتلے سول والی چپل کی مدد سے اترائی اترتی نظر آئی تو دل سے دکھ ہوا۔ یہ سب پرابلمزلے کر جانے والی ٹورسٹ کمپنیز کے پراپر انفارمیشن نہ دینے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ لوکلز ٹریک کو پر خطر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ان کو سیاح بطور پورٹر ہائر کریں اور ان کے خچر اور گھوڑے ٹریک پر رواں دواں رہیں۔ ہمارے دو دن کے قیام کے دوران دن کو بلا کی گرمی رہتی اور رات کو معمولی سی خنکی ہوجاتی ہے۔ حکومت کا عمل دخل یہاں نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوکلز ہی یہاں کے ان داتا ہیں ۔ فیری میڈوز کی خوبصورتی کو انسانی ہاتھوں نے برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ انسان اگر قدرت کے ساتھ اپنا ورکنگ ریلیشن بنالیں تو یہ جگہ شائد پریوں کے اترنے کے قابل بن جائے ۔ فی الحال تو یہ حالت ہے کہ جانے والے افراد میں سے ہر کوئی توبہ تائب ہوکر اور دوبارہ نہ آنے کی قسم کھا کر لوٹتا ہے ۔ ڈیجیٹل کیمروں کا دور ہے تصویریں دھوکے میں مبتلا نہ کریں تو شائد لوگ کبھی جاپانی فوٹو گرافر fujita heroiki کے دیئے گئے طلسماتی نام کی حامل اس جگہ کو دیکھنے نہ جائیں ۔ قصہ مختصرواپسی اترائی کا سفر چڑھائی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جگہ کو بھلے ہی اپنی تحویل میں نہ لے مگر چیک اینڈ بیلنس تو ضرور رکھے ۔ اچھی حالت کی جیپیں اور ٹریک کی مرمت کی لوکلز کو ہدایت کرے۔ پر خطر جگہوں پر سپورٹس یا رسی لگا دی جائے تو خطرہ کافی کم ہوجائے۔ انسانی زندگی کی قیمت اتنی بھی کم نہیں کہ محض سیرو تفریح کی خاطر اسے وار دیا جائے۔ ٹورازم پر تو نجانے توجہ دینے کا حکومت کوکب خیال آئے گا کم از کم سیزن لگا کر لوٹ مار کرنے والوں کو حکومت آنے والے touristsکے لئے ضروری اقدامات حفاظتی ویو پوائنٹ سے کرنے کی ہدایت تو کر ہی سکتی ہے۔ رہے دن کو رات ثابت کرنے والے قلمی شعبدہ باز ان سے التماس ہے کہ ہاتھ ذرا ہولا رکھا کریں لفظوں کا بیوپار بھلے ہی کریں مگر مکمل تصویر کشی کیا کریں تاکہ لوگ ان کی تخیلاتی جادو نگریوں میں جاکر پریشان ہونے کی بجائے پہلے ہی سوچ کر عازم سفر ہوا کریں۔ جس قوم کو ہائیٹ فوبیا کا پتہ نہ ہواس قوم کو ہزاروں میٹر پر بنی ہوئی heavens کی اطلاع دنیا خودکشی کا درس دینے کے مترادف ہے. قدرت کو ایکسپوز کریں مگر جان کی قیمت پر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ساہیوال: پولیس کانسٹیبلان کی بھرتی ،حتمی لسٹ آویزاں ہونے سے قبل بڑے پیمانے پر کرپشن کا انکشاف

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker