فیصل اظفر علویکالم

بلا عنوان۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلمان دہشت گرد ہیں، پاکستان طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے، پاکستان میں طالبان کو تربیت دی جاتی ہے، پاکستانی طالبان نے امریکہ میں دہشت گردی کا منصوبہ بنا لیا، پاکستانی ایٹمی ہتھیار طالبان کے ہاتھ لگنے کا خطرہ، پاکستانی طالبان نے ہندوستان میں دہشت گردی کا منصوبہ بنا لیا، پاکستان دھڑا دھڑ ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، پاکستان پر جنگی جنون سوار ہے، سرزمین پاکستان پر رہنے والے تمام لوگ دہشت گرد ہیں، پاکستان بھارت اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے، پاکستان دہشت گرد ملک ہے، دنیا میں موجود تمام دہشت گردوں کا تعلق پاکستان سے ہے، اسلام دہشت گرد مذہب ہے، یہ وہ بے بنیاد الزامات ہیں جو اب تک امریکہ اور حقیقتاََ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ملک بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جاتے رہے اور لگائے جاتے رہیں گے، کیونکہ ہم نے امریکہ اور بھارت کے ان بے بنیاد الزامات کا منہ توڑ جواب اب تک نہیں دیا، میرا بھارتی حکومت سے ایک سوال ہے کہ اگر بھارتی الزامات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو کیا یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ خود بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سب سے بڑا دہشت گرد ہے؟ کیونکہ منموہن سنگھ کا گہرا تعلق سرزمین پاکستان سے رھا ہے، اگر بھارتی الزامات کو مان لیا جائے تو کیا خود بھارت نے اپنی بیٹی ثانیہ مرزا کی پاکستانی ’’دہشت گرد‘‘ شعیب ملک سے نہیں کی؟ سینکڑوں ہندوستانی لڑکیاں ایسی ہیں جنہوں نے پاکستانی مَردوں سے شادیاں کیں کیا وہ سب دہشت گرد ہیں؟ پاکستان کا ’’بد قسمتی‘‘ سے ہمسایہ ملک مہا بھارت، بھارتی میڈیا، بھارتی اعلٰی حکومتی و عسکری عہدیدار پاکستان کے خلاف بے بنیاد پرپیگنڈا لے کر پیدا ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، امریکی و بھارتی افواج اور خفیہ اداروں کی جانب سے لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کے پیچھے کون سے مذموم مقاصد عمل پیرا ہیں یہ سب جانتے ہیں، جنگی جنون اور پاگل پن کی آخری حد تک جانے والا خبطی ملک بھارت جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھی ہے نے آئے روز وطن عزیز پاکستان کے اداروں، پاکستان کے لوگوں کے خلاف نت نئے انداز میں پروپیگنڈہ کر رہا ہے جس کی کمانڈ بھارتی میڈیا ہاتھوں میں مگر افسوس پاکستانی میڈیا بھارت کی جانب سے روز بروز بڑھتے ہوئے پروپیگنڈے کو روکنے سے قاصر نظر آتا ہے، پاکستان کے چند بڑے نام نہاد اخبارات اور ٹی وی چینلز اپنے رویے سے پاکستانی نہیں بلکہ بھارتی لگتے ہیں اور بھارتی تنخواہ دار ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں، ہندوستانی میڈیا کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے جواب میں جو رد عمل سامنے آتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ہزاروں سالوں تک مسلمانوں کے غلام رہنے والے، ذات پات، اونچ نیچ میں بٹے ہوئے، مذہبی انتہا پسندی کی آخری حدوں کو چھو جانے والے، حقیقی معنوں میں دہشت گردوں کا کردار ادا کرنے والے، خطے کے امن کو نقصان پہنچانے والے، طاقت کے نشے میں فرعونی زبان بولنے والے، انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے، شیر کالباس پہن کر گھومنے والے گیدڑ آج مملکت خداداد پاکستان کو گیدڑ بھپکیاں دے رہے ہیں اور ہماری حکومت سو رہی ہے، بجلی کے نہ ہونے سے انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن ہماری حکومت سو رہی ہے، ننھے منے بچوں کے ارمان پانی میں بہہ رہے ہیں اور ہماری حکومت سو رہی ہے، غریب اور بے گناہ افراد مر رہے ہیں اور ہماری حکومت خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے، حکمران چیخ چیخ کر خدا کے قہر کو دعوت دے رہے ہیں، بحرانوں کی چکی میں پسی ہوئی قوم کی دل دہلا دینے والی آواز سن کر لطف اندوز ہو رہے ہیں، رہی سہی کسر حکمرانوں نے قوم کو ڈینگی مچھر کے حوالے کرکے پوری کر دی ہے، پوری قوم بجلی، گیس، آٹے، چینی، پانی، ڈیزل و پٹرول کے بحران سے مر رہی ہے مگر ذاتی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے حکمران اپنے ’’یاروں‘‘ کو رضامند کرنے میں دن رات مصروف ہیں، اب تو حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ صدر اور وزیر اعظم کے بیان دینے سے پہلے قوم کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ کیا بیان دینے والے ہیں، ’’ملکی سلامتی و خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ا مریکہ کو سرحدوں کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان اپنے علاقوں میں آپریشن خود کرے گا، لوڈشیڈنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے عوام کو ریلیف ملے گا ﴿خاک ریلیف ملا﴾، حکومت اِتنے کی سبسڈی سے رہی ہے، حکومت اُتنے کی سبسڈی دے رہی ہے، حکومت یہ کررہی ہے، حکومت وہ کر رہی ہے، ہمارے دور میں غربت میں نمایاں کمی آئی‘‘ جی ضرور! غربت میں کمی نہیں آئی بلکہ غریبوں میں کمی آئی ہے کیونکہ غریب ایک ایک کرکے جہان فانی سے رخصت ہو رہے ہیں، ملک میں آنے والے پے در پے عذاب کسی بڑے عذاب کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں کیونکہ قدرت کا اصول ہے کہ وہ کسی بڑے عذاب کو نازل کرنے سے پہلے وارننگ دیتی ہے، اب بھی وقت ہے کہ توبہ کر لی جائے ورنہ آنے والے عذاب سے نمٹنا بہت مشکل ہو جائے گا، یہ وقت پاکستانی قوم، پاکستانی نوجوانوں کے اُٹھ کھڑے ہونے کا ہے، اگر ہم نے وقت کی نزاکت کو نہ سمجھا تو امریکی و ہندوستانی پٹھو ہمیں اس نہج پر لا کر کھڑا کر دیں گے جہاں ہمارا دماغ سوچنے سے قاصر اور ہاتھ پائوں شل ہو جائیں گے اور ہم بت بنے کھڑے ہو کر اپنی موت کا تماشہ دیکھیں گے۔ یہ وقت ہے جاگنے کا، امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے، ملکی دشمنوںکو ناکوں چنے چبوانے کا] ]>