پاکستانتازہ ترین

فیصل آباد‘فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے ‘جسمانی اعضاکے نمونےغائب

faisalabadفیصل آباد(مانیٹرنگ سیل)فیصل آباد میں دو سال کے دوران قتل کیے گئے 110افراد کی موت کا تعین کرنے کے لیے فارنزک لیبارٹری کو بھجوائے جانے والے جسمانی اعضاء کے نمونے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ لواحقین کو انصاف اور ملزمان کو سزا ملناممکن نہ رہا۔ پنجاب فارنزک لیبارٹری نے پنجاب میڈیکل کالج کے پرنسپل کو مطلع کیا ہے کہ سال 2012ء سے اب تک قتل کے مقدمات میں موت کی وجہ جاننے کے لیے جو جسمانی اعضاء کے نمونے لیب کو بھجوائے گئے ہیں ان کا کوئی ریکارڈ نہیں مل رہا۔ اس انکشاف پر قانونی ماہرین نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قتل کے مقدمات میں سزا دینے کے عمل میں موت کی وجہ کا معلوم ہونا سب سے اہم محرک ہوتا ہے اگر اس کا تعین نہ ہو تو براہِ راست ملزمان کو فائدہ پہنچتا ہے اور انہیں سزا نہیں دی جا سکتی۔ قتل کے مقدمات میں تمام شواہد اکھٹے کرنا پولیس کا کام ہے۔ مقتول کے پوسٹ مارٹم کے بعد جسمانی اعضاء سے نمونے فارنزک لیبارٹری بھجوانا اور اس کی رپورٹ ایک ماہ کے اندر عدالت میں جمع کروانا بھی پولیس کی ذمے داری ہے۔ سی پی او فیصل آباد ڈاکٹرحیدر اشرف کا کہنا ہے بڑی تعداد میں قتل کے مقدمات میں فرانزک رپورٹ حاصل کر کے عدالتوں میں جمع نہ کروانے کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے، ذمے داروں کا احتساب ہو گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق قتل کے مقدمات میں چوبیس گھنٹے کے اندر پوسٹ مارٹم رپورٹ حاصل کرنا اور اگر وجہ موت کے تعین کے لیے جسمانی اعضاء فارنزک لیبارٹری کو بھجوائے جائیں تو ایک ماہ کے اندراندر اس کی رپورٹ عدالت میں جمع کرانا پولیس کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر سالوں مقتول کی موت کی وجہ کا تعین نہیں ہو پاتا اور مقتولین کے جسمانی اعضاء کے نمونے ہی نہیں مل پاتے تو عدالتوں میں زیر سماعت ایسے کیسوں میں سائلین کو انصاف ملنا سوالیہ نشان ہے؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button