تازہ ترینعلاقائی

ضلع چنیوٹ اور گردونواح میں عطائی ڈاکٹرز موت کے سوداگر بن گئے

چنیوٹ(بیورو رپورٹ) ضلع چنیوٹ اور گردونواح میں عطائی ڈاکٹرز موت کے سوداگر بن گئے ممنوعہ ادویات اورغیر معیاری ادویات شہریوں کی رگوں میں اتارا جانے لگا ۔حالیہ کئے جانے والے سروے میں معلوم ہوا ہے کہ چنیوٹ میں 425سے زائد عطائی کلینک اور800سے زائد غیر قانونی اور بلا لائسنس میڈیکل اسٹور کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جہاں پر ناقص اور غیر معیاری ادویات کی فروخت سرعام اور بڑے دھڑلے سے جاری ہے اور محکمہ صحت کا عملہ خواب خرگوش کی نیند سونے میں اور منتھلی لینے کے بعد بالکل بری الذمہ ہوجاتے ہیں اور ان موت کے سوداگروں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے شہر کے نواحی علاقوں میں موجود عطائیوں کی کاروائیاں بھی میڈیا پر رپورٹ ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی محکمہ صحت کا عملہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کررہا ہے یہ موت کے سوداگر حیوانی انجکشن انسانوں کو لگا کر زندگیوں کو داو پر لگا رہے ہیں عوامی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ عطائیوں سے نجات دلائی جائے اور انکے خلاف کاروائی کی جائے اب تک جتنے بھی عطائی ڈاکٹروں کے کلینک یا بلا لائسنس میڈیکل سٹور سیل ہوئے ہیں اس سلسلہ میں چنیوٹ کے سماجی کارکنوں نے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر منیر احمد ملک کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ عطائیوں کے خلاف مہم کو تیز کیاجائے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button