پاکستان

وزیراعظم کابینہ ٹیم کی بہتر ی کے لئے کھلاڑی آگے پیچھے کر سکتے ہیں،فردوس عاشق

لاہور﴿نامہ نگار﴾وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان کی 64سالہ تاریخ میں پہلی بار پیپلزپارٹی کی جمہوری حکومت اپنے 4سال مکمل کر کے 5ویں سال میں داخل ہو چکی ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، جس کا سہرا صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے سر ہے، جنہوں نے جمہوریت کی گاڑی کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیا، وزیراعظم کو کابینہ میں ردوبدل کا حق حاصل ہے، وہ ٹیم کی بہتر کے لئے کھلاڑی آگے پیچھے کر سکتے ہیں، وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف ایک ذہنی مریض ہیں، فائونٹین ہائوس کو ان کا شدت سے انتظار ہے، احتساب کا نعرہ لگانے والے اپنے احتساب کے وقت رات کی تاریخی میں معاہدہ کر کے ملک سے بھاگ گئے، مہران بنک سکینڈل سے پتہ چل گیا کہ علی بابا کون ہے اور 40 چور کون ہیں، یہ بات انہوں نے گزشتہ روز یہاں لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ آج کا دن اس بات سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ آج حلف اٹھاتے ہوئے جمہوری نظام کے جمہوری وزیراعظم نے اپنے چار سال پورے کرتے ہوئے پانچویں آئینی سال کی راہ پر گامزن ہوئے، جس پر تمام اتحادی جماعتوں، عوام اور میڈیا کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، اس جمہوری نظام کے تسلسل کا سہرا صدرآصف علی زرداری اور وزیراعظم کے سر ہے، جنہوں نے سادہ اکثریت رکھنی والی پیپلزپارٹی سے اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنائی، انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقعہ ہے کہ گزشتہ 64 سال میں یہ واحد جمہوری حکومت ہے جس نے چار سال پورے کیے ورنہ کبھی صدارتی نظام کبھی ڈکٹیٹر نے جمہوری حکومت کو اپنا آئینی وقت پورا نہیں کرنے دیا، میاں شہباز شریف کی جانب سے پیپلزپارٹی کے لئے علی بابا چالیس چور کے سال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مہران بنک سکینڈل کے تانے بانے سے پتہ چل جائے گا کون علی بابا ہے کون چالیس چور ہیں، 99ئ میں جب ان کی حکومت تھی تو وہ احتساب سے بچنے کے لئے رات کی تاریی میں معاہدہ کرکے ملک سے بھاگ گئے، ویسے بھی جس طرح وزیراعلیٰ بیانات دیتے ہیں وہ ذہنی مریض بن گئے ہیں، جن کے لئے فائونٹین ہائوس کو شدت سے ان کا انتظار ہے، جو لیپ ٹاپ وزیراعلیٰ پنجاب بچوں کو دے رہے ہیں اتنی ان کی قیمت نہیں جتنی لاگت وہ اس کی تشہیری مہم پر خرچ کررہے ہیں، اس کا سہرا وفاقی حکومت کے سر ہے کیونکہ اس ڈبے کو چلانے کے لئے برانڈ بنڈ سسٹم وفاقی حکومت نے دیا تھا اس کے بغیر لیپ ٹاپ ایک ڈبے کی مانند ہے، وزیراعظم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے جس طرح ججز پر عدم اعتماد کیا تھا ان کو عدلیہ کو ریلف دینا چاہیے تھا مگر ان کو ریلیف نہیں دیا جا رہا عدلیہ کو چاہیے کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کو مستقل کردے، نیٹو سپلائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی کے حوالے سے نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنی سفارشات کے بعد فائنل فیصلہ تمام جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا، کابینہ ردوبدل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ وزیراعظم کا استحقاق ہے کہ وہ اپنی ٹیم میں ردوبدل کرسکتے ہیں، لوڈشیڈنگ کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ ہمیں ورثے میں ملی اب 18ویں ترمیم کے بعد اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے صوبوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں  راولپنڈی :عید ڈاکے شروع، نقدی رقم اور گاڑیاں چوری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker