تازہ ترینکالممسز جمشد خاکوانی

فرہاد کا تیشہ

گیارہ مئی کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہونے والی ممکنہ ریلیوں پر حکومتی حلقوں سمیت پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان سمیت عوامی نیشنل پارٹی کے سخت زبانی حملے اس طرح جاری ہیں جیسے کوئی ان کی متاع عزیز چھیننے کی کوشش کرنے لگا ہے او ر ان سب کی تان اسی ایک بات پر ٹوٹ رہی ہے کہ یہ ایجی ٹیشن سب قبل از وقت ہیں اگر مولانا فضل الرحمان کو یاد دلاؤں کہ گیارہ مئی کے انتخابات کے بعد انہوں نے کے پی کے میں ہونے والی دھاندلی پر احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکیاں سب کے سامنے دی تھیں جبکہ انتخابات کو ابھی وو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے. تو وہ گھورنے لگیں گے ور اگر مسلم لیگ نواز کو یاد دلاؤں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اسے ہضم ہی نہ کر سکے جب 6 اکتوبر1993 کو ملک میں انتخابات ہوئے اور19 اکتوبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے کامیاب ہونے کے بعد بطور وزیر اعظم حلف اٹھایا تو صرف تین ماہ بعد آپ نے ملک بھر میں تحریک نجات کا اعلان کر دیاتھا جس نے چھ ماہ تک مسلسل کی جانے والی ہڑتالوں اور جلسے جلوسوں سے ملک کی معیشت کو اپاہج بنا کر رکھ دیا تھا اور14 سے زائد قیمتی جانیں علیحدہ ضائع ہوئیں.. آج اگرآپ کی طرح دوماہ بعد نہیں بلکہ پورے ایک سال قومی اسمبلی کے ایوان اور ملک بھر کی عدالتوں کے اندر دھکے کھانے کے بعد عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری خرد برد پر مبنی انتخابی عمل کے خلاف ریلی نکالنے کا اعلان کر دیں تو ان پر آپ کی جانب سے ملک کو ڈی ریل کرنے کے الزمات کی بارش یہ کہاں کا انصاف ہے ؟کیا حکمران نہیں چاہتے کہ اس ملک میں سچ اور انصاف کا بول بالا ہو ؟۔ کیا وہ نہیں چاہتے کہ اس ملک میں اصلی جمہوریت کا فروغ ہو؟ کیا وہ نہیں چاہتے کہ انصاف کے ترازو میں ڈنڈی مارے بغیر ہر کسی کو اس کا حق ملے؟ کیا وہ نہیں چاہتے کہ67 سال بعد ہی سہی یہ ملک اقوام عالم میں ایک مہذب اور جمہوریت پسند ملک کے طور پر جا نا جائے ؟ کیا وہ نہیں چاہتے کہ ہمارا ملک پاکستان بھی دنیا بھر میں سب سے سچی اور بہترین جمہوری ریاست کی حیثیت سے پہچانا جائے؟۔ پہاڑ وں کے اندر چھپی ہوئی سچائی کو باہر نکالنے کیلئے اگر ایک انسان اپنی پوری زندگی صرف کر نے کے بعد بھی مکمل کامیابی حاصل نہ کر سکے تو پھر بھی اس کے جنون کو فرہاد کے تیشے کی طرح ہمیشہ یاد رکھا جائے گا پہاڑ کا غرور اور ہٹ دھرمی تاریخ کی کسی کتاب میں نہیں بلکہ فرہاد کا تیشہ ہمیشہ یاد آتا رہے گا ار آزادی ہمیشہ جذبے اور جنون سے ہی ملتی ہے بے شک آزادی اور انصاف چھینی جاتی ہے خیرات میں کبھی بھی نہیں ملتی ۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بڑی حقارت سے کہا ہے کہ ان کے پاس عمران خان کی فضول گفتگو سننے کا وقت ہی نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ آفیسر کس طرح دھاندلی کر سکتے ہیں؟ اور بحیثیت چیف جسٹس وہ کس طرح ان ریٹرننگ افسران پر اثر انداز ہو سکتے تھے؟۔بات تو جناب افتخارچوہدری نے دل لگتی کہی ہے لیکن کیا کیا جائے کہ لوگ ابھی تک ان سمیت خواجہ شریف اور خلیل الرحمان رمدے کی ٹرائیکا پر ہی شک کا اظہار کیئے جا رہے ہیں… معروف صحافی اور کالم نگارمحترم نذیر ناجی نے اپنے ایک حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ آصف علی زرداری نے فون کرتے ہوئے انتخابات کے بعد عمران خان کو ان کے ساتھ کی جانے والی انتخابی دھاندلیوں سے باقاعدہ آگاہ کیا تھا سابق صدرآصف علی زرداری انتخابات کے بعد جب پہلی دفعہ لاہور بلاول ہاؤس تشریف لائے تو ا نہوں نے سیفما کے چند سینئر ترین لوگوں سے گیارہ مئی کے انتخابات کے بارے بھی بہت سی باتیں کی تھیں اس ملاقات میں جب ایک صحافی نے ان انتخابات کی شفافیت بارے ان سے سوال کیا تو انہوں نے کچھ باتیں تنگ دلی سے تو کچھ آف دی ریکارڈ کھلے دل اور اپنی روائتی کھلی ڈھلی زبان میں کہیں لیکن انہوں نے جو بات چہرے پر سنجیدہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہی وہ سب کو حیران کر گئی صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ہنستے ہوئے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا کہ ’’اس طرح کے ریٹرننگ افسران اگر مجھے مل جائیں تو میں اگلا صدارتی الیکشن آسانی سے جیت سکتا ہوں‘‘ ان کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ چند ہی منٹوں بعد ٹی وی کی سکرینوں اور اگلے دن ملک بھر کے اخبارات کی شہہ سرخیاں پوری قوم کو حیران کر رہی تھیں چاروں طرف چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ نگران حکومتوں کا ’’ گاڈ فادر ‘‘ کیا کہہ رہا ہے…زرداری صاحب کی زبان سے نکلے ہوئے ان الفاظ پر اپنے اپنے انداز میں رائے زنی شروع ہو ئی ہی تھی کہ دو دن بعد کالا شاہ کاکو انٹر چینج کے قریب پنجاب جوڈیشل اکیڈیمی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عمر عطا بندیال کا وہ خطاب سامنے آ گیا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ’’ مذموم عزائم رکھنے والے عنا صر کی ریٹرننگ افسران پر تنقید بلا جواز ہے ‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے انتخابات کرانے کیلئے عدلیہ سے بہترین افراد کا چنا ؤ کیا گیا اور ان ریٹرننگ افسران کی ذمہ داری چونکہ مجھ پر عائد ہوتی ہے اور میں یہ ذمہ داری قبول کرتا ہوں ان ریٹرننگ افسران نے محنت، لگن اور ذمہ داری سے کام کیا ہے…جناب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریٹرننگ افسران کے بارے میں کالا شاہ کاکو میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ بالکل درست ہے اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پنجاب کے ان ریٹرننگ افسران نے اپنا’’ کام‘‘ بڑی ہی محنت، لگن اور ذمہ داری سے نبھایا ہے جس کا اجر انہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت کے روز جزا اور سزا والے دن بھی ملنا ہے اور اس کارنامے کیلئے وہ ڈھیروں مبارکباد وں کے مستحق ہیں‘‘ ۔۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری کے ریٹرننگ افسران بارے ارشادات اپنی جگہ لیکن کا لا شاہ کا کو میں جو ڈیشل اکیڈیمی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سعید میں جناب چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا یہ کہنا کہ یٹرننگ افسران کے بارے میں الزامات لگانے والے اپنے اندر مذموم عزائم رکھتے ہیں ہمارے لیئے زیا دہ اہم ہیں رہی بات…. صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کی تو ان کے بارے میں تولوگوں کو پہلے ہی بہت سے تحفظات تھے …پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کو ہم اچھے انسان سمجھتے تھے لیکن اب وہ بھی زرداری صاحب کی طرح اچھے انسان نہیں رہے کیونکہ وہ بھی مذموم عزائم رکھنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے بھی انتخابات کیلئے ’’ذمہ داری‘‘ سے فرائض انجام دینے والے ریٹرننگ افسران پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کے ایک نہیں کئی کالم اور ٹی وی چینلز پر بار بار نشر ہونے والے پروگراموں میں وہ ریٹرننگ افسران کی جانبداری کو ہدف تنقید بنا تے رہے ہیں اب ان کا شمار بھی مذموم عزائم رکھنے والوں میں ہے تو ہم نے ان کے بارے بھی اپنے خیا لات کو بدل لیا ہے۔
اب تو ہمارا شمار بوڑھے اور ڈھلتی عمر رکھنے والوں میں ہو تا ہے اور مذموم عزائم رکھنے والے لوگ جو گیارہ مئی کو ’’ جمہوریت‘‘ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ان سے ہمارے جیسے شریف اور ڈر پوک قسم کے انسان تو دور کا واسطہ رکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور وہ بھی اس شدید گرمی میں…لیکن دور بیٹھ کر دیکھیں گے ضرور کہ فرہاد کا تیشہ اگر پہاڑ سے دودھ کی نہر نہیں نکال سکا تو کم از کم پہاڑ کے اندر دودھ کے کسی ایک چشمے تک بھی پہنچ پاتا ہے کہ نہیں؟

یہ بھی پڑھیں  چیف جسٹس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker