تازہ ترینکالممحمد فرحان عباسی

کاش ہمیں بھی ملیں ایسے حکمران

ہر فرد یہی چاہتا ہے کہ اسے گھر کے افراد ایسے ملیںکہ جو اپنے گھر کے ساتھ وفاداری کریں اس کی دیکھ بھال کریں ،گھر کے ہر فرد کے درد کو اپنا درد سمجھیں اور گھر میں بھائی چارے کے ساتھ رہیں ،اپنے گھر اور اس میں رہنے والوں چاہے وہ اس کے ماں باپ ہوں ،بہن بھائی ہوں یا اس کی اولاد یا کوئی اور رشتہ دار ہواس کے تحفظ کی خاطر انسان جا ن دائو پر لگا دیتا ہے ،اپنے گھر کو بچانے کے لئے گھر کے افراد ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ،اور ہر شخص اپنے گھر کے ساتھ وفاداری کو لازم و ملزوم سمجھتا ہے۔
اسی طرح جس محلے میں رہنے والوں کی یہ سوچ ہوتی ہے کہ ہمارے محلے میں آ کر بسنے والے لوگ ہمارے محلے اور علاقے کے ساتھ وفا کرنے والے ہوں ان کا ضمیر ایسا ہو کہ اپنے پڑوسی کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھیں ،اور دوسروں کی عزت کو اپنی عزت سمجھیں ،اور وقت آنے پر اپنے علاقے کی عزت و ناموس کی خاطر جان دینے سے بھی دریغ نا کریں ،
ہم جس ملک میں بس رہے ہیں یہ ہمارا گھر ہے ،اس کی عزت ناموس کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے ،ہم اس کے باسی ہیں ،اور اس میں بسنے والے ہرشخص کا ہمارے ساتھ ایک رشتہ ہے ،ایک تعلق ہے جس کا احساس شاید آج ہمارے دلوں سے نکل چکا ہے ،ہم نے اپنے اندر موجود امن بھائی چارے کے درس کو دفن کر دیا ہم نے عزت دار ہونے کا دعوی ضرور کیا ہے مگر انفرادی عزت ،ہم نے اجتماعی عزت کے تصور کو پس پشت ڈال دیا ہے ،اور ہم اس بات سے بھی عاری ہو چکے ہیں کہ ہمارا کوئی عزیز رشتہ دار ہمارے مقابلے میں آ جائے ہم نے اپنے اندر حسد اور بغض جیسے جراثیموں کو پروان چڑھانا شروع کر دیا ہے ،ہم ایک ایسی پستی کی طرف رواں ہو چکے ہیں کہ جس نے ہمیں جدت پسندی کاخواب دکھایا ہوا ہے ،اور اس پستی سے واپسی اب ناممکن ہی نظر آنے لگی ہے ،یہاں ہر شخص بھوکا نظر آتا ہے ،ہر ایک کی آنکھوں میں دولت کی کشش ہے ،انسان کی قدر کم اور دنیا کے حصول کی طرف رغبت زیادہ ہو چکی ہے ،ہم میں سے ہر ایک آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھا ہے ،کانوں کے ہوتے ہوئے بھی بہرا اور زبان کے ہوتے ہوئے بھی گونگا ہے،اس لئے کہ یہاں ہماری آنکھوں کے سامنے کسی کی عزت لٹ رہی ہوتی ہے تو ہم اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں ہم اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیتے ہیں ،اس ظالم دنیا میں ہماری آنکھوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے بچے بھوک کی وجہ سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں ،غریب اپنی اولادوں کو ذبح کر دیتے ،ہیں اور کچھ تو اپنی اولادوں کو دھندے پر لگا دیتے ہیں ،مگر ہم اپنی مستی میں مست رہتے ہیں ہم کسی کی عزت کو اپنی عزت تصور کرنے سے ڈرتے ہیں ہم ظالم کا ہاتھ اس لئیت نہیں روک پاتے کہ ہمارے گھر ان سے محفوظ ہوتے ہیں ہم ظلم کا ساتھ اس لئے دیتے رہتے ہیں کہ ہم اس سے اپنے فائدے کے کام نکلواتے ہیں ہم ان کے سامنے اس لئے نہیں بول سکتے کہ ہم نے ان کا نمک کھایا ہوتا ہے ،اور ہم تو کانوں کے ہوتے ہوئے بھی بہرے ہیں کہ ہمارے آس پاس سے مظلوم ہمیں فریاد کرتے ہیں ،بھوکے روٹی مانگتے ہیں ،مگر ہم سن کر بھی ان سنی کر دیتے ہیں ،ہمارے منہ میں تو زبان کے ہوتے ہوئے بھی ہم گونگے ہیں ،کیونکہ ہمارے سامنے غریب کی عزت تار تار کی جارہی ہوتی ہے مگر ہم خاموش رہتے ہیں ،اور وہ قوم بھلا کسی کے حق میں کیا بولے گی جو اپنا حق لینا نہیں جانتی ،اور اسی سب کے سبب ہمارے اوپر حکمران بھی ایسے ہی مسلط کئے ہوئے ہیں ہم ظالم ہیں تو ہمارے اوپرظالم حکمران حکومت کر رہے ہیں وگرنہ ہمارے حکمران بھی شمس الدین التمش جیسے ہوتے ،کہ جنہوں نے ساری زندگی میں ایک نماز قضائ نہیں کی ،اور اپنے آپ کو اس دنیا میں ظاہر ہونے سے بھی بچا کے رکھا اگر آج کے دور کے حکمران ہوتے تو پہلے میڈیا پر آ کر اپنی تصویریں بنواتے اور پھر کسی اور کا گلہ کاٹتے ،خواجہ بختاور کاکی رحمہ اللہ کی نماز جنازہ تیار تھی ،کہ ان کے ایک خادم نے انکی وصیت سامنے رکھتے ہوئے سنائی جس میں حضرت نے لکھا تھا کہ میری نمازجنازہ پڑھانے کا حقدار وہ شخص ہو گا کہ جس میں چار صفات پائی جاتی ہوں اور وہ صفات یہ تھیں ۔
ایک ۔جس شخص نے اپنی زندگی میں کھبی کوئی نماز قضائ نا کی ہو ،
دو۔ عصر سے پہلے کی سنتیں نا چھوڑی ہوں ،
تین۔ تہجد کی نماز نا چھوڑی ہو ،
چار۔جس کی نگاہ نے کھبی کسی غیر محرم کو دیکھنے کی جسارت نا کی ہو ،
ہر طرف مجمع ہی مجمع تھا تا حد نگاہ عوام کا جم غفیر دکھائی دے رہا تھا ،عالم وفاضل اس وقت گھبراتے ہوئے دکھائی دئیے بادشاہ اس وقت شرمندی نظر آئے ،یہاں تک کہ پورا دن گزر گیا شام ڈھنے کو تھی کہ اچانک ایک شخص مجمعے میں سے اٹھا اور اور چلتا ہوا جنازہ پڑھانے کے لئے آگے آ گیا اس شخص نے نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی آنکھوں سے آنسئوں کا سیلاب بہنے لگا ،اور وہ کہنے لگا کہ جانے والا تو چلا گیا ،اور دوسروں کا راز فاش کر گیا ،اور وہ شخص ہندوستان کا بادشاہ شمس الدین التمش تھا ،کاش کہ ہمارے اعمال بھی اچھے ہوں اور ہمارے حکمران بھی ایسی ہی صفات کے حامل ہوں

یہ بھی پڑھیں  آئینِ پاکستان اور نظریۂ ضرورت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker