پاکستانتازہ ترین

فیصل صالح حیات کیلئے عدالتی قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا

اسلام آباد﴿بیورو رپورٹ﴾ سپریم کورٹ سے شکایت کی گئی ہے کہ ایک وفاقی وزیر  کیلئے عدالت کے قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے نیشنل پاور پلانٹس کیخلاف عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست میں کہا گیا کہ ہائوسنگ اور تعمیرات کے وزیر مخدوم سید فیصل صالح حیات تحفظ جان کے بنیادی حق کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع نہیں کرسکتے بلکہ وفاقی کابینہ کے رکن کی حیثیت سے کسی بھی شخص کی جان کا تحفظ  ان کی آئینی ذمہ داری ہے درخواست میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت اپنے قواعد وضوابط کے تحت کسی بنیادی حق کے نفاذ کیلئے ازخود نوٹس نہیں لے سکتی اور فیصل صالح حیات نے نہ تو کوئی درخواست دی اور نہ ہی عدالت کی فیس ادا کی درخواست گزار صحافی شاہد اورکزئی نے کہا کہ متعلقہ  وزیر نے تحفظ  جان کے بنیادی  حق کے ضمن میں عمومی اہمیت کا کوئی قانونی سوال نہیں اٹھایا اور اس نوعیت کے قانونی سوال کے بغیر سپریم کورٹ بنیادی حق کے نفاذ کیلئے کسی کارروائی کی مجاز نہیں ہے درخواست گزار نے کہا کہ بجلی کے نرخوں کا تحفظ  جان کے حق سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے اور عدجالتی فیصلہ اس ضمن میں آرٹیکل 9 کی کوئی وضاحت نہیں کرتا درخواست گزار نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں تحفظ جان کے علاوہ شہریوں کے حق تحفظ مال کا بھی ذکر کیا گیا ہے حالانکہ آئین جان اور مال کا تحفظ فقط شہری کو نہیں ہر اس شخص کو دیتا ہے  جو فی الوقت پاکستان میں موجود ہو مال کے ضمن میں  تو دراصل رینٹل پاور کمپنیاں  سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں کیونکہ وہ اپنا مال بصورت مشینری درآمد کرکے لائی ہیں  اور حکومت سے ان کے معاہدوں سے کسی شہری کا کوئی مالی نقصان نہیں ہوا ہے درخواست گزار نے خبردار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہونے والی مالی نقصان کی تلافی کیلئے متاثرہ کمپنیاں بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرینگی اور زر تلافی بالاآخر پاکستانی صارفین سے بھی وصول کیا جائے گا درخواست گزار نے عدالت کی توجہ آئین کے آرٹیکل 81پر مبذول کی جس کے تحت وفاق پاکستان کیخلاف کسی بھی عدالت کے فیصلے کے تحت زر تلافی وفاقی بجٹ سے بلابحث  ومباحثہ  ادا کیا جائے گا درخواست گزار نے کہا کہ  دو ججوں نے فیصلہ دیتے وقت اربوں کے اخراجات  کا کوئی تخمینہ لگانے کی زحمت نہیں کی کرائے کے بجلی گھروں کے تمام معاہدوں کو پلک جنبش قلم کالعدم قرار دینا انصاف نہیں ہے  اور عدالت کو فی الفور اپنے فیصلے پر عملدرآمد  روک دینا چاہیے تجارتی معاہدوں میں شفافیت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے  اور اس کے لیے  بیرونی کمپنیوں  کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں جبکہ عدالت سے اس کے لیے دونوں طرفین کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا ہے لہذا عدالت وزارت پانی و بجلی سے تمام تجارتی معاہدوں کے بارے میں الگ الگ موقف معلوم کرے اور جس کسی کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی اسے عدالتی فیصلے سے مستثنیٰ قرار دیاجائے ۔

یہ بھی پڑھیں  یورپ میں کرپشن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker