پاکستانتازہ ترین

رینٹل پاورکیس کےتفتیشی آفیسرکی موت معمہ بن گئی،موت خودکشی کےباعث ہوئی،پوسٹمارٹم رپورٹ

fasial kamranاسلام آباد (بیورو رپورٹ)رینٹل پاور کیس کے سابق تفتیشی آفیسر کی موت معمہ بن کر رہ گئی،پولی کلینک کے سینئر ڈاکٹر ز پرمشتمل 6رکنی میڈیکل بورڈ نے پوسٹمارٹم رپورٹ میں واقعہ کو خودکشی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کامران فیصل کے جسم پر تشدد کے نشانات یا چوٹ نہیں تھی اور موت گلہ دبنے و سانس رکنے کے باعث واقع ہوائی ہے۔پولیس نے مرحوم کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کر کے فرانزرک ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری بھجوا دیا ہے جہاں فرانزرک ماہرین اس کا جائزہ لے کر انپی رپورٹ مرتب کریں گے جبکہ مرحوم کے والد اور لواحقین نے پوسٹمار ٹم رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کامران فیصل کو قتل کیا گیا کیونکہ ان کے جسم پر غسل دینے کے دوران تشدد وکے نشانات واضح تھے ،اس کا لیپ ٹاپ بھی غائب ہے ۔ادھر وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے واقعہ کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی عدالتی (مجسٹریل )کمیٹی نے مرحوم کے سٹاف،ہا سٹل کے عملے اور نیب کے دیگر حکام کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کر دیئے ہیں۔18جنوری جمعہ کی دوپہر کامران شاہد کی موت ابھی تک معمہ بنی ہو ئی ہے ۔پولیس کے بعد میڈیکل بورڈ نے بھی موت کو خودکشی قرار دیا ہے جبکہ لواحقین نے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کے مطالبے پر ڈٹے نظر آ رہے ہیں۔ہفتہ کو پولی کلینک ہسپتال کے 6 رکنی ڈاکٹرز پینل نے نیب آفیسرز فیصل کامران کی پراسرار موت کو پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خود کشی قرار دے رہا ہے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق پر اسرار طور پر جاں بحق ہونے والے نیب آفیسر فیصل کامران ،پوسٹ مارٹم پولی کلینک ہسپتال کے 6 رکنی ڈاکٹرز پینل نے ساڑھے تین گھنٹے میں مکمل کیا۔چھ رکنی ڈاکٹرز کی ٹیم میں ڈاکٹر آئی یو بیگ سرجن،ڈاکٹر جاوید سینئر سرجن،ڈاکٹر احسان،ڈاکٹر امتیاز حسن پیتھیالوجسٹ،ڈاکٹر تنویر میڈیکو لیگل سرجن و دیگر شامل تھے۔میڈیکل بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کی موت خود کشی کے باعث ہوئی ہے ۔دو ایکسروں سے ظاہر ہوا ہے کہ ان کی گردن دو جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے جس سے ان کی زبان باہر آگئی تھی ان کے جسم پر کسی قسم کا کوئی شدد کا نشان نہیں ہے ۔لاش ہسپتال پہنچنے اور پوسٹ مارٹم ہونے تک جسم پر کوئی خراش نہیں آئی ۔بظاہر لگتا ہے کہ ان کی موت گلہ دبنے کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ابتدائی رپورٹ پولیس کے حوالے کر دی گئی ہے جبکہ رپورٹ کے لئے خون کے نمونے فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوا دیئے گئے جن کا رزلٹ آنے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے ۔رپورٹ سے معلوم ہوگا کہ وہ کوئی دوا تو استعمال تو نہیں کرتے تھے ۔ادھر ترجمان پولی کلینک ہسپتال ڈاکٹر شریف استوری نے کہا ہے کہ کامران فیصل کے جسم پر کوئی تشدد نہیں ملا نہ ہی کوئی خراش آئی ہے۔پولیس کو پوسٹ مارٹم رپورٹ بھجوا دی ہے جبکہ خون کے نمونے بھی فرانزک لیبارٹری بھجوا دیئے ہیں ۔دوسری طرف پولیس نے کامران فیصل کا کمپیوٹر اپنے قبضے میں لے لیا جبکہ لیپ ٹاپ غائب ہونے بارے نیب حکام سے جواب مانگ لیا ہے۔ادھر وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے واقعہ کے حقائق جاننے کے لئے بنائی گئی مجسٹریل انکوائری کمیٹی کے لئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عامر علی احمد نے اسٹنٹ کمشنر نعمان یوسف کو انکوائری آفیسر کے طور پر نامزد کیا ہے جنکی سربراہی میں کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔کامران فیصل جمعہ کی صبح اسلام آباد کے فیڈرل لاجز میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے اور ان کی لاش کمرے میں پنکھے سے لٹکی ملی تھی۔کامران کی میت کو تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے میاں چنوں لے جایا گیا ہے جہاں انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔کامران کے ماموں اقبال نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نعش کو غسل دیتے ہوئے انہوں نے کامران کی دائیں ہاتھ کی کلائی،بازو،سینے اور کمر پر ایسے نشانات دیکھے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔کامران فیصل کے لاش کی پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے جسم کے نمونے فورنزک ٹیسٹ کے لیے لاہور میں واقع لیبارٹری میں بھیج دیے گئے ہیں اور پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ دو دن میں ملنے کا امکان ہے۔میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے کامران فیصل نیب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے اور وہ فیڈرل لاجز میں رہائش پذیر تھے۔بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کامران فیصل کے ایک ساتھی افسر کا کہنا ہے کہ وہ رینٹل پاور کیس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے جبکہ ان کے ایک پڑوسی نے بھی اس موقف کی تصدیق کی۔ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ دن پہلے ہی میری ان سے ملاقات ہوئی تھی وہ یہیں واک کررہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اسی کیس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طریقے سے ان کی اس کیس سے جان چھوٹ جائے۔ نہ تو ان (نیب) کے افسران انہیں اس کیس سے الگ کررہے تھے نہ چیف جسٹس صاحب ان کو ریلیو کررہے تھے۔کامران فیصل رینٹل پاور کیس کے ان تفتیشی افسران میں سے تھے جن کی تیار کردہ تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر پندرہ جنوری کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔اسی رپورٹ کو نیب کے چیئرمین نے سترہ جنوری کو ناقص قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف اس معاملے میں ریفرنس ٹھوس ثبوت کے بغیر بنائے گئے ہیں۔تاہم سپریم کورٹ نے یہ بات نوٹس میں لائے جانے کے بعد انہیں بحال کر دیا تھا اور چیئرمین نیب کو اس معاملے میں توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  ٹوبہ ،مو ٹر سائیکل سوار شخص گر کر جاں بحق

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker