تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

فصلیں اورفصیلیں

بڑے بھائی نے انتھک محنت سے جو گندم کاشت کی تھی ابھی اس کی کٹائی میں کچھ وقت باقی تھالیکن اس دوران منجھلے بھائی نے زبردستی کھیت میں ہل چلادیا اور قیمتی فصل اجاڑ نے کے بعداس نے زمین میں پھر سے بیجوں کاچھڑکاؤکردیا،ان بیجوں نے زمین کاسینہ چیرتے ہوئے ہواؤں کے ساتھ جھومنااور لہلہاناشروع کیا تودوماہ بعد اُن کاچھوٹا بھائی اپنے ٹریکٹر اور دوسرے زرعی سازو سامان کے ساتھ وہاں آ پہنچا، اب منجھلے بھائی کی فصل اس کے رحم وکرم پرتھی لہٰذاء اس بار بھی فصل کو پوری طرح تیاری اورکٹائی کی مہلت نہیں ملی اورچند گھنٹوں میں کھیت ہموارہوگیا۔چھوٹا بھائی اپنے ہاتھوں سے بیج بونے کے بعد واپس گھر پہنچا تواسے اپنے بڑے بھائی کے کھیت کی طرف جانے کی اطلاع ملی،بڑے نے بھی جاتے ساتھ فصل کو مسل دیا۔عداوت اور”انا” کے مارے تینوں بھائیوں نے باری باری ایک دوسرے کی قیمتی فصل "فنا”کردی۔تینوں بھائیوں کی ہٹ دھرمی نے چندماہ میں تین” فصلیں "برباد جبکہ اپنے خاندانوں کے درمیان اونچی” فصیلیں "تعمیرکردیں اوران کے” خالی” ہاتھوں میں ” بدحالی” کے سوا کچھ نہیں آیا۔ان کے ضعیف ماں باپ بھوک کی شدت سے خود موت اورمٹی کا رزق بن گئے جبکہ تینوں گھر وں میں ایک ساتھ صف ماتم بچھ گئی۔اگرکسی کی” نسل” آوارہ اورناکارہ ہو تواس کے ہاتھوں کئی بار اپنے باپ دادا کی قیمتی "فصل "بربادہوجاتی ہے۔یہ کہانی میں نے سمجھانے کیلئے لکھی ہے، اگرہم سمجھناچاہیں توہماری راہیں ہموارہوسکتی ہیں۔ ہمارے ہاں کسی بھی منتخب حکومت کواطمینان بخش،پراعتماداورباوقار انداز سے آئینی مدت پوری کرنے کی مہلت نہیں ملی کیونکہ ووٹ سے صرف چہرے تبدیل ہوتے ہیں نظام نہیں بدلتا۔نوازشریف اور بینظیر بھٹو محض اقتدار کیلئے کئی برسوں تک ایک دوسرے کیخلاف سرگرم اورسرگرداں رہے اورپھر ایک دوسرے کوسکیورٹی رسک قراردینے والے پرویزی آمریت کے دوران میثاق جمہوریت پرمتفق ہوگئے جبکہ عمران خان نے نوازشریف کیخلاف دھرنادیا،آج عمران خان کو اپنی چہیتی تبدیلی سرکار کیخلاف متحدہ اپوزیشن کی سیاسی یلغار کاسامنا ہے،کپتان نے اپنے ہاتھوں سے جوبویاآج وہ کاٹ جبکہ کئی سیاستدان اپناتھوکاچاٹ رہے ہیں۔پاکستان میں سیاستدان طبقہ ہرروز سیاست کی آبروریزی کرتاہے،یہ لوگ اپنی بدترین منافقت کومفاہمت کانام دیتے ہیں۔عمران خان 24برسوں میں سیاستدان نہیں بنے لیکن مہربانوں کے آشیرباد سے وزیراعظم بن گئے،وہ اپنے خطابات میں بلاول اورمریم کے بارے میں باتوں سے ان کوبڑا جبکہ خودکوچھوٹاکررہے ہیں۔عمران خان وزیراعظم ہیں لیکن انہیں وزیراطلاعات کی طرح سیاسی بیانات دینے کا بہت شوق ہے،وہ تخت اسلام آباد پربیٹھ کربھی حکومت کی بجائے سیاست کررہے ہیں،راقم نے کئی بار کپتان کوحکومت کرنے اورسیاست کامحاذ اپنے وزیروں اورمشیروں کے سپردکرنے کامشورہ دیا لیکن وہ اپنی اناکے اسیر ہیں۔جس طرح عمران خان اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت بنانے میں انتہائی عجلت اورمصلحت سے کام لیا اب پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن)کی قیادت بھی تبدیلی سرکارکوگرانے کیلئے بیقرار ہے تاہم جس طرح اناڑی کپتان کے پاس نظام کی تبدیلی کا کوئی منظم پروگرام نہیں تھا،عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے تومعلوم ہواوہ کنٹینر کی چھت پرصرف ڈینگیں مارتے رہے اس طرح اب بہتان گروپ کے پاس بھی نظام کی تبدیلی کیلئے کوئی قابل اعتماد قومی ایجنڈا نہیں ہے۔عوام کوتبدیلی سرکار کیخلاف اپوزیشن کی بلیم گیم سے کوئی سرکار نہیں لہٰذاء اگر نیب زدگان میں دم ہے تووہ پاکستانیوں کومہنگائی اوربیروزگاری بحران سے نجات کاروڈمیپ اورٹائم فریم دیں۔
جس طرح عورت کوعورت کی دشمن کہا جاتا ہے اس طرح سیاستدان ایک دوسرے کے بیری اور بدخواہ ہیں۔ضیائی آمریت سے نجات کے بعد پرویزی آمریت کی سیاہ رات12اکتوبر1999ء کے روز شروع ہوئی اور9برس بعد اس سے بھی جان چھوٹ گئی لیکن 1988ء سے 2018ء تک کون ایک دوسرے کیخلاف اتحادبناتااورایک دوسرے کو توہین آمیزالقابات سے نوازتااور منتخب حکومت گراتارہا۔انہیں ایک دوسرے کاوجودبرداشت نہیں،ان میں سے جوکوئی اقتدارمیں آجائے دوسرے اس کیخلاف سازشوں کاجال بننا شروع کردیتے ہیں۔میں 1985ء سے مادروطن کی نام نہاد جمہوری قوتوں کوایک دوسرے کیخلاف منظم انداز سے مہم جوئی اورایک دوسرے کامیڈیاٹرائل کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، ان میں سے ہرایک دوسرے کیخلاف اداروں سے مدد مانگتا اورپھرمطلب براری کے بعد اداروں کیخلاف زہراگلتا ہے۔ ہمارے سیاستدان خود ایک دوسرے کی کمزوریاں اورچوریاں بے نقاب کرتے ہیں۔ راقم کے نزدیک ریاست کیلئے جمہوریت ایک ناسورجبکہ جمہوری نظام ریاست سے انتقام کادوسرانام ہے۔بینظیر بھٹو نے کہا تھا جمہوریت بہترین انتقام ہے،جی ہاں جمہوریت درحقیقت جمہورسے انتقام ہے کیونکہ جمہوریت کسی فوجی آمر کوسزانہیں دے سکتی۔موروثیت کی نحوست بھی جمہوریت کی کوکھ سے پیداہوئی۔پاکستان صرف صدارتی نظام کے ساتھ ٹیک آف کرے گاجونظام خلافت سے کافی حدتک مشابہت اورمطابقت رکھتا ہے۔نوازشریف کوایک ساتھ آمریت اورجمہوریت کی گھٹی دی گئی اوراس کے نتیجہ میں ریاست اورمعیشت کادم گھٹ گیا۔آج جو لوگ ووٹ کوعزت دوکانعرہ لگارہے ہیں،ان کاشمار پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ اورچھانگا مانگا کلچر کے بانیان میں ہوتا ہے۔یہ عدالت عظمیٰ پرحملے کے بھی ماسٹرمائنڈ ہیں۔ماضی میں منتخب ارکان کے ضمیر کی بولیاں لگانیوالے آج قومی ضمیر کوگمراہ نہیں کرسکتے۔ جمہوریت اشرافیہ کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی اور ہماری ریاست کو درپیش بحرانوں کی روٹ کاز ہے، اس مغربی نظام سے نجات تک ہماری ریاست کا مستقبل اور نحیف معیشت کاچہرہ روشن نہیں ہوسکتا۔
پاکستان میں ہر منتخب حکومت اور فوجی آمریت کیخلاف اتحاد بنے اورزورداراحتجاجی تحریک چلی لیکن نظریہ ضرورت کے تحت جوبھی اتحادبناوہ حکومت سے نجات کے بعداپنی موت آپ مرگیا۔ہمارے ہاں جوبھی انتخابات میں ہارا اس نے دھاندلی اور جوبھی چورنیب کے ریڈارپرآیا اس نے سیاسی انتقام کاشورمچایا۔آج پی ڈی ایم وفاق میں آئینی تبدیلی کیلئے جبکہ تبدیلی سرکارمتحدہ اپوزیشن کومردہ اپوزیشن بنانے کیلئے متحرک ہے جبکہ بیچارے عوام ریاستی نظام اوراپنے احساس محرومی کاماتم کررہے ہیں۔ذوالفقارعلی بھٹو کیخلاف بھی ایم آرڈی کی شکل میں ایک بھرپور سیاسی اتحادبناتھااور نفاذِنظام مصطفی رسول اللہ خاتم النببین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کے نام سے زوردارتحریک چلی تھی،اس تحریک کے نتیجہ میں اسلامی نظام تو”رائج” نہ ہوالیکن ضیاء الحق کی صورت میں ایک منافق آمر نے بندوق کی نوک پر اپنا خودساختہ "راج” قائم کرلیا۔جس وقت پاکستان میں ضیائی آمریت کاسورج سوانیزے پرتھا اس وقت ذوالفقارعلی بھٹوکوتخت سے اٹھاکر تختہ دارپرلٹکادیا گیا۔ضیائی آمریت کی آغوش میں نوازشریف اورالطاف حسین کی پرورش ہوئی اور کئی دہائیوں بعدان دونوں نے باری باری ریاستی اداروں کامیڈیاٹرائل کیا اوردونوں بھارتی میڈیا کی آنکھوں کاتارابنے۔نوازشریف یقیناتنہا بینظیربھٹو کامقابلہ نہیں کرسکتا تھا لہٰذاء اس نے ایوان اقتدارتک رسائی کیلئے آئی جی آئی کاسہارالیا پھر ایک وقت آیاجب بابائے جمہوریت نوابزادہ نصرا للہ خان کی قیادت میں نوازشریف اوربینظیر بھٹو کو اے آرڈی کے پرچم تلے فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کیخلاف ایک ساتھ سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔پاکستان میں آج تک جوبھی اتحاد بنااس کاہدف اقتدار تھا۔ اپوزیشن سمیت تبدیلی سرکار کومثبت اقدار سے کوئی سروکار نہیں۔آج تک پاکستان میں عوام کی حالت زاریانظام تبدیل کرنے کیلئے کوئی اتحادنہیں بنا،ان سیاسی اتحادوں کاایجنڈا صرف ” جھنڈا” جبکہ ہدف ہمیشہ اقتدار رہاہے۔ایم آرڈی،آئی جے آئی،ایم ایم اے اوراے آرڈی کی طرح پی ڈی ایم بھی نظریاتی اورفطری اتحاد نہیں لہٰذاء یہ بھی عنقریب قصہ پارینہ بن جائے گا۔پاکستان کے عوام اسلام پرجان چھڑکتے ہیں لیکن کسی اسلامی جماعت کو اقتدار نہیں دیتے کیونکہ سیاسی قیادت کی طرح مذہبی قیادت بھی کردار سے محروم ہے۔
اپوزیشن کابیانیہ” معقول” نہیں لہٰذا ء عوام میں "مقبول” نہیں ہوسکتا۔چوروں کی تحریک زوروں پر ہے لیکن اس میں عام آدمی شریک نہیں۔راقم نے دس بارہ روز قبل ڈنمارک میں مقیم اوورسیزپاکستانیوں اورپاکستانیوں کے درمیان پل جبکہ ہم وطنوں کی سچائی تک رسائی کیلئے کلیدی کرداراداکرنیوالے راجاغفورافضل کے ساتھ ان کے نجی ریڈیوپرگفتگوکرتے ہوئے عرض کیا تھا چینی کے ہوشربا نرخوں پر سیاست چمکانے والے اپوزیشن کے وہ قائدین جوخودبھی شوگرملزمالکان ہیں وہ بھی عوام سے زیادہ دام وصول کررہے ہیں،وہ چینی پچاس روپے میں کلوفروخت کیوں نہیں کرتے۔ قومی وسائل میں نقب لگانے اوربیرون ملک محلات بنانیوالے پاکستانیوں کے مسیحااور نجات دہندہ نہیں ہوسکتے۔جونوازشریف آج بیروزگاری کے معاملے پرمگر مچھ کے آنسوبہاررہاہے اس نے خودساختہ جلاوطنی کے دوران اپنی نجی سٹیل ملزمیں دانستہ اوورسیزپاکستانیوں کونظراندازکرتے ہوئے بھارتی اوربنگالی شہریوں کوملازمتیں دی تھیں۔پاکستان میں خدائی مخلوق اورخلائی مخلوق کے درمیان کوئی دراڑ نہیں ہے، متحدہ اپوزیشن کے چند بونوں نے ایڑی چوٹی کازورلگا لیا لیکن پاکستان کے عوام جانتے ہیں ان کی موج پاک فوج سے ہے۔پاکستان کاہرسچاشہری پاک فوج کیخلاف ہر منفی سوچ والے کواس کی گردن سے دبوچ لے گا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت ڈکٹیٹر ضیاء الحق اورمسلم لیگ (ن) کی لیڈرشپ آمر پرویزمشرف کی زیادتیوں کاانتقام پاک فوج سے نہیں لے سکتی۔جس طرح بلندترین کھمبا کسی شجرسایہ دارکامتبادل نہیں ہوسکتا اس طرح کوئی بھی اپنے نام کے ساتھ بھٹو لگانے سے ذوالفقارعلی بھٹو نہیں بن سکتا۔اس وقت شہبازشریف زندان میں ہے جبکہ متحدہ اپوزیشن کی ڈوریاں فضل الرحمن اورمریم نوازکے ہاتھوں میں ہیں اوران دونوں کاکچھ بھی داؤپرنہیں لگااسلئے ان کاطرز سیاست عاقبت نااندیشانہ اورانتہاپسندانہ ہے۔نوازشریف کے داماد نے مزارقائدؒ پرجوکیا اس کادفاع نہیں جاسکتا توپھر اس کی چند گھنٹوں کیلئے گرفتاری پر ہمارامخصوص میڈیاماتم کیوں کررہا ہے۔ پاکستان عدم استحکام کامتحمل نہیں ہوسکتا،ہماری ریاست،سیاست اورصحافت "کر داروں "کی بجائے "اداروں ” کواہمیت وعزت دے اورہرسطح پر”رواداری”کے فروغ کیلئے "بردباری” کامظاہرہ کرے۔

یہ بھی پڑھیں  میاں صاحب ۔۔۔آزمائش کا سفر

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker