تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

ایف آئی آر

ایک مشہور کہاوت ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے لیکن پاکستان میں کچھ محکمے ایسے بھی ہیں جنکو دیکھ کہ لگتا ہے کہ یہ کہاوت غلط ہے۔انکی اخلاقی بدحالی،کام چوری،سینہ زوری اور رشوت خوری کو دیکھ کہ مجبورا کہنا پڑتا ہے کہ فقط چند مچھلیوں کے سوا سارا تالاب ہی گندہ ہے۔اب پولیس کی ہی مثال لے لیں۔لوگوں کے جان و مال کے محافظوں کی فرض شناسی اور اخلاقی اقداروں کا یہ حال ہے کہ تھانہ کچہری کا نام سنتے ہی کسی شریف آدمی کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہر محکمے میں ہوتے ہیں اور بلا شبہ ملک و ملت اور فرض کی ادائیگی کیلیئے ہزاروں ماؤں کے جگر گوشے اپنی صداقت،فرض شناسی اور جراٗت و بہادری کی داستانیں اپنے خون سے لکھ چکے ہیں لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بڑے پیمانے پر اس محکمے کے سخت احتساب اور اصلاح کی ضرورت ہے۔کوئی شخص تھانے سے باہر آئے تو بغیر پوچھے ہی تشریح کر رہا ہوتا ہے کہ وہ کس لیے گیا تھا اسکی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی شریف النفس تھانے جانے بلکہ اسکی چاردیواری کے قریب جانے کو بھی انتہائی غلط تصور کرتا ہے۔حالانکہ شرفاء کے لیے تو تھانہ دارالآمان تصور کیا جاتا تھا۔ہونا یہ چاہیے کہ اپنے محافظوں کو دیکھ کر اطمینان ہونا چاہیے لیکن یہا ں گنگا الٹی بہتی ہے ۔تھانے یا پولیس چوکی کے قریب سے گزرتے وقت خوف و ہراس مزید بڑھ جاتا ہے۔
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر ) جو کسی لڑائی جھگڑے ،چوری ڈکیتی،قتل و غارت یا کسی چیز کی گمشدگی کی صورت میں ایک شہری کا حق ہے اس کے لیے تھانے کے کئی چکر لگانے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے نوٹ بھی لگانے پڑتے ہیں۔بہت سے لوگ کسی راہزن سے لٹنے کے بعد فقط اس لیے تھانے کا رخ نہیں کرتے کہ ایف آئی آر کے لیے بھی انہیں مزید رقم کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کے بغیر تھانے میں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔اور ایف آئی آر کے انتظار میں گھنٹوں بیٹھنے سے ہونے والی ذہنی کوفت کا سامنا الگ سے کرنا پڑتا ہے۔کوئی غریب شخص قتل ہو جائے تو کئی ہفتہ تک اسکی ایف آئی آر ہی نہیں لکھی جاتی یا تو اسکے پاس رقم کم ہوتی ہے یا پھر مخالفین کا زیادہ اثر و رسوخ اور پیسہ آڑے آ جاتا ہے۔
بڑے شہروں میں ہر روز لوگوں کو لوٹا جاتا ہے یہ الگ بات کہ پولیس کا گشت بھی جاری رہتا ہے۔پولیس کے منہ پہ کتنا بڑا تمانچہ ہے کہ بعض راستوں پہ لوگ شام کو اس لیے نہیں جاتے کہ وہاں ڈکیتی ہوتی ہے۔دن کے اجالے اوررات کے اندھیروں میں لٹنے والوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا کیونکہ انکی ایف آئی آر ہی نہیں لکھی جاتی سوائے چند لوگوں کے جو پولیس کو چائے پانی (رشوت) دیتے ہیں۔نادرا کا کارڈ مفت میں بن رہا ہے لیکن گم ہونے کی صورت میں تھانہ میں ایف آئی آر کے لیے پانچ سو دینا پڑ تا ہے۔
رقم کے علاوہ اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ تھانے کے ایس ایچ او صاحب اپنی اچھی ریپوٹیشن برقرار رکھنا چاہتے ہیں کہ انکی حدود میں بہت کم جرائم اور ناپسندیدہ واقعات رونما ہوتے ہیں۔اپنی بہتریں کارکردگی دکھانے کے لیے انہیں یہ کام زیادہ آسان لگتا ہے کہ چوروں کو پکڑنے کی بجائے چوری کا ریکارڈ ہی نہ رکھا جائے۔کوئی شخص کسی بس کے نیچے کچلا جائے تو بھی ایف آئی آر نہیں کٹتی اور تھانیدار صاحب تھانے کے باہر ہی معاملات کو سلجھانے کے چکر میں ہوتے ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹرز سے ہر ماہ وصولی کی جاتی ہے جسے یہ منتھلی (monthly ) کہتے ہیں۔کسی کی گاڑی یا موٹر سائیکل چوری ہو جائے تو الٹا اس پہ برس پڑتے ہیں کہ فلاں جگہ تو چوروں کا گڑھ ہے آپ وہاں گئے ہی کیوں تھے۔ہاں ایک موقع پر بہت نرمی دکھاتے ہیں ۔وہ یہ کہ گاڑی کے کاغذات نہ ہوں تو سو پچاس میں بھی چھوڑ دیتے ہیں انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ شاید یہ چوری کی ہی ہو۔
وزیر داخلہ صاحب نے تھانوں کو انٹر لنک اور کمپیوٹرائزڈ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تا حال ایسا نظر نہیں آ رہا۔چند تھانوں میں اگرچہ کسی حد تک یہ کام مکمل ہوا ہے لیکن اس پورے محکمے کی صفائی بھی انکے ذمہ ہے۔کیونکہ تمام داخلی امور کو بہتر رکھنے کے لیے سب سے اہم پولیس ہے۔پاکستان میں موسم سرد ہو یا گرم پولیس ہمیشہ جیبیں گرم کرنے میں لگی رہتی ہے۔جتنی خوش اسلوبی سے یہ رشوت لیتے ہیں اتنی خوش اسلوبی اور جانفشانی سے اگر کام کریں تو عوام کے آدھے مسائل حل ہو جائیں۔انکی سکریننگ بہت ضروری ہے اور ساتھ ساتھ انکی مذہبی اور اخلاقی تربیت کے لیے درس و تدریس کی اشد ضرورت ہے۔جس سے ان میں جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی کا جذبہ اجاگر ہو اور یہ رشوت کی لعنت سے بچ سکیں ۔عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ اس میں بہت حد تک وہ بھی قصوروار ہے۔وزیر داخلہ صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت میں اس کام کا بیڑا اٹھائیں۔اپنے فرائض سے غافل اور رشوت خور افسران و اہلکار کے خلاف سخت قانین کے نفاذ کو عملی جامہ پہنائیں اور انہیں معطل کرنے کی بجائے انہیں نوکری سے فارغ کریں کیونکہ یہ رشوت کی بیماری کینسر کی طرح انکی رگ و پے میں پھیل گئی ہے اور یہ ہر گز نہیں بھولنا چاہیے کہ کینسر سے متاثرہ حصوں کو کاٹنے سے جان بچنے کے امکان بحر حال باقی ہوتے ہیں

note

یہ بھی پڑھیے :

2 Comments

  1. sahi likha ha sir ap nay pichlay dino aik dost ki bike chori ho gayi to us ki F.I.R bohat mushkil say haftay bad darj hoi thi wo b jab phone karwaya to nai to darj hi nai kar rahay thay

  2. sahi likha ha sir ap nay pichlay dino aik dost ki bike chori ho gayi to us ki F.I.R bohat mushkil say haftay bad darj hoi thi wo b jab phone karwaya to nai to darj hi nai kar rahay thay

Back to top button