پاکستانتازہ ترین

فائرفائٹرزکاعالمی دن،پاکستان میں آگ بجھانے والےجدید آلات،وردیوں سےمحروم

کراچی (نامہ نگار) آج فائر فائٹرز کا عالمی دن منايا جارہا ہے۔ پاکستان اور بالخصوص کراچی ميں فائر فائٹرز کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔  آگ کہیں بھی لگے مدد کو پہنچتے ہیں فائرفائٹرز۔ کام تو ان کا انتہائی خطرناک ہے لیکن ان کے پاس سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صرف کراچی میں اب تک دو درجن سے زائد فائر فائٹرز فرائض کی ادائيگی ميں جان تک گنوا چکے ہيں۔ خدا خدا کر کے فائر فائٹرز کو پانچ سال بعد وردياں تو ملیں مگر غير معياری ۔ عالمی قوانين کے تحت دو لاکھ آبادی کے لئے ايک فائراسٹيشن ضروری ہے ليکن کراچی میں آٹھ لاکھ افراد کے لیے ایک فائراسٹيشن ہے۔ حکام کو مسائل کا علم تو ہے ليکن وہی بے کسی کا رونا۔ سونے پہ سہاگہ ملک ميں فائر اينڈ سيفٹی قوانين ہی موجود نہيں۔ لوگ عمارتوں ميں آگ بجھانے کے انتظامات ہی نہيں کرتے۔ نتيجتاً بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ آگ سے کھيل کر لوگوں کی جان بچانے پر مامور فائر فائٹرز کو بہتر سہوليات فراہم کی جائيں تو يہ مزيد تندہی سے اپنے فرائض انجام دے سکتے ہيں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button