تازہ ترینعلاقائی

جھنگ:محکمہ ماہی پروری کے ٹھیکیدارنے غیرقانونی طورپر مچھلی پکڑنا شروع کردی

fishجھنگ (بیورو رپورٹ)محکمہ ماہی پروری جھنگ کے ٹھیکیدار نے غیرقانونی طورپر لاکھوں روپے کی مچھلی پکڑنا شروع کر رکھی ہے اور 50لاکھ روپے کاٹھیکہ حاصل کرکے 5روز کے اندر پوری رقم جمع کروانے کی بجائے صرف 13لاکھ روپے جمع کروا کر اندھیر مچا دیاہے جبکہ محکمانہ مداخلت پر مختلف ہتھکنڈے شروع کردیئے ہیں اور غیر قانونی شکار سے روکنے پر محکمہ فشریز کے افسران کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنانے کا بھی انکشاف ہواہے نیز محکمہ کے بعض کرپٹ اہلکار بھی ٹھیکیدار کے ہم نوالہ بن گئے ہیں جس پر عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے صورتحال کافوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے ۔ تفصیلات کے مطابق معلوم ہواہے کہ محکمہ ماہی پروری جھنگ نے 21 اگست 2013 ء کو دریائے چناب کی تحصیل احمد پورسیال اور شور کوٹ کی حدود میں مچھلیاں پکڑنے کاٹھیکہ اوپن نیلام عام کے ذریعے 50لاکھ روپے میں زوار حسین ولد چوہدری محمد طفیل قوم جھبیل نامی شخص کو الاٹ کیاتھا جس سے زرضمانت 7لاکھ روپے وصول کئے گئے اور محکمانہ شرائط و قواعد و ضوابط کے مطابق ٹھیکیدار نے باقی ماندہ 43 لاکھ روپے کی رقم ٹھیکہ الاٹ ہونے کے 5روز کے اندر اندر ادا کرنا تھی مگر اس نے مقررہ وقت کے اندر رقم ادا نہ کی اس طرح ڈیفالٹر ہونے کے باعث وہ دریائے چناب کے متعلقہ ایریاسے مچھلی پکڑنے کا مجاز نہ رہامگر اس نے اپنے ساتھیوں سمیت 24 گھنٹے جال لگا کر مچھلی پکڑنے کا سلسلہ جاری رکھا اور روزانہ منوں کے حساب سے مچھلی پکڑی جانے لگی اس دوران 3ستمبرکی رات محکمہ ماہی پروری جھنگ کے افسران نے اچانک ریڈ کے دوران غیر قانونی طور پر مچھلیاں پکڑنے کیلئے لگائے گئے جال اور دیگر سامان اپنی تحویل میں لے لیا مگر اسی اثناء میں مبینہ طور پر ٹھیکیدار کے مسلح ساتھی وہاں آ گئے اور انہوں نے نہ صرف 4گھنٹے تک محکمہ فشریز کے افسران و اہلکاران کو یرغمال بنائے رکھا بلکہ تحویل میں لیاگیا سامان اور کئی من مچھلی بھی چھین لی ۔ بعدازاں صورتحال اعلیٰ حکام کے علم میں آنے پر ٹھیکیدار موصوف نے مزید 6لاکھ روپے کی رقم جمع کروائی مگر 37 لاکھ روپے کی رقم پھر بھی جمع نہیں کروائی گئی اس طرح جہاں ایک طرف محکمہ فشریز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہوئے محکمانہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے وہیں روزانہ غیر قانونی طور پر منوں کے حساب سے مچھلی پکڑنے کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ٹھیکیدار زوار حسین ولد چوہدری محمد طفیل نے خودساختہ کہانی بناتے ہوئے مقامی سول عدالت میں دعویٰ استقرار حق دائر کردیا ہے جس میں مؤقف اختیارکیاگیا ہے کہ اس نے حسب ضابطہ ایک سالہ مدت کیلئے 31 اگست 2014تک 50لاکھ روپے میں دریائے چناب کی تحصیل احمد پور سیال و شور کوٹ سے مچھلی پکڑنے کاٹھیکہ حاصل کیاہے اور وہ 13 لاکھ روپے کی رقم جمع کروا چکاہے مگر محکمہ کے افسران اسے ٹھیکہ منسوخ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس کامقصد کسی من پسند ٹھیکیدار کو یہ ٹھیکہ فراہم کرناہے مگر موصوف نے یہ امر مخفی رکھا کہ اس نے 21 اگست کو ٹھیکہ حاصل کرنے کے 5روز کے اندر اندر 50لاکھ روپے کی پوری رقم جمع کروانا تھی۔جب اس سلسلہ میں محکمہ کے حکام سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے بتایاکہ وہ آئندہ تاریخ پیشی پر اپنا جواب داخل کروائیں گے اور عدالت کو تمام حقائق سے آگاہ کیاجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ قانونی و اصولی طور پر ٹھیکیدار پوری رقم ادا کئے بغیر مچھلی پکڑنے کا مجاز نہ ہے مگر وہ پھر بھی اڑھائی ماہ سے روزانہ غیر قانونی طور پر منوں کے حساب سے مچھلی پکڑ رہاہے جس سے محکمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جارہاہے۔ دریں اثناء یہ بھی معلوم ہواہے کہ مذکورہ ٹھیکیدارکو محکمہ کے بعض افسران کی پشت پناہی بھی حاصل ہے لہٰذا عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button