تازہ ترینکالم

فو کل پر سن

sohail warsiکا میا بی کے اصو ل ہو تے ہیں ، نا کا میا ں وجو ہا ت کی بنا سر چڑ ھتی ہیں ، آ گے وہی بڑ ھتے ہیں جو اصولوں سے منہ نہیں مو ڑتے اور خا میوں کو مٹا تے ہیں ، یہاں تعر یفیں ہی سب کو اچھی لگتی ہیں مگر ،،،،،،،
آ ہینہ دیکھا یا تو برا مان گے
حکومت پر ریا ستی فرا یض ، حق ، حقو ق ہو تے ہیں، عہد بھی یہی لیا جا تا ہے اور سر عام کہا بھی جا تا ہے کہ رشوت لینے والا اور دینے والادونوں جہنمی ، شا ہد اس پر اس لیے عمل نہیں ہو تا کیو نکہ جنت وہ دنیا میں بنانا چا ہتے اور جہنم کا معا ملہ اگلے جہاں پر چھو ڑ دیتے ہیں ۔ رشوت صرف پیسہ ، مال دولت کی نہیں ، بلکے آ ج کل کچھ اور رستے استعما ل کیے جا رہے ہیں ، رستے کو ن سے پہلے بات وا ضع کرتا چلوں ، الیکشن ہو تے ہیں کہ عوام کو حق اور اختیا رات دیے جا ئیں کہ وہ اس بند ے کو قو می لیو ل کا اختیا ر اس کو ووٹ کے ذریعے دیں جو ملک قوم کے لیے اچھے ٖفیصلے کر سکے ، الیکشن کا پر وسس کتنا مشکل اور کتنا مہنگا ہو تا یہ ہم عوام بھی جا نتے اور عوام خد مت گا ر بہتر سے جا نتے ہیں ، مگر دیکھنے میں کچھ اور ہی آ تا ہے ، ہما رے ہاں جو پسند کا بند ہ کسی بنا پر الیکشن میں کا میا ب نہیں ہوتا تو اس کو کسی اور طر ح کہ ایسے اختیا رات سو نپ دیے جا تے ہیں جس میں کسی قو می یا صو با ئی اسمبلی کی سیٹ درکا ر نہیں ہو تی، اختیا رات اس کو دیے جا ئیں جس کو عوام فیل کر ئے پھر ان اختیا رات کا استعمال کیے ملک قو م کے لیے کا میا ب ہو سکتا،میں اکثر اس سو چ میں رہتا کہ تر قیا تی پر و جیکٹ جو آ ج کل یا اس سے پہلے شروع کیے گے ان میں کو تا ئیاں کہاں ہو تی ہیں کہ وقت بتا تا کہ فلاں سڑک ، پل ، پر وجیکٹ میں اور تو اور پا نی کی نکا سی ہی خرابی پیدا کر رہی اور پو رے کا پورا محلہ ، علا قہ ، ٹا ون وینس بن جا تا ہے ، آ خر ایسا کیوں، یہ سو چ ان دنوں ذہن میں زیا دہ گر دش کر رہی تھی کیو نکہ پچھلے دنوں پا کستان کے مختلف علا قوں میں با رش ہو ئی تو سیو ریج کا نظا م جیسے ہما رے ٹھکیدار جا نتے ہی نہیں ہیں ، چلیں مان لیتے ہیں با رشیں زیا دہ ہو ئی ہیں ، ریکا رڈ لیول دیکھا گیا تو اتنی شد ید بارشیں نہیں ہو ئیں ، بر طا نیہ جیسے ملک میں ہر دو گھنٹے بعد شا ور بار ش لگی ہی رہتی ہے زیا دہ تر یہاں پر تو سیو ریج نظا م ایسا کہ بارش ہو تے ہو ئے پا نی کے قطر ے آ سمان سے گر تے نظر آ تے ہیں اور پھر پانی زمین ، سڑک پر اتنا نظر آ تا کہ صرف سڑک گیلی ہی نظر آ تی ، پھر یہاں کیوں بارش کا پا نی پو رے علا قے کو ڈبو نہیں لیتا ، ٹر یفک جام نہیں ہو تی ، سکول کالج بند نہیں ہو تے ، سیو ریج کے نظام کو ٹھیک طر یقے سے اپلا ئی کر تے ہیں ۔
ہما رے ہاں کو ئی بھی اس طر ح کا تر قیا تی کام شر وع کیا جا تا تو فنڈ ز رکھتے کو ئی کنجو سی کا مظا ہرہ نہیں کیا جا تا ، لا زمی با ت ہے سیو ریج سسٹم کے لیے بھی رقم رکھی جا تی ہے ، پھر لا ہو ر جیسے پو رے علا قے میں با رش کا پا نی پا نی ہی نظر آ تا ، کیا وجو ہا ت ہیں جن کو نظر انداز کیا جا رہا ، سوال یہ کہ کیو ں نظر انداز کیا جا رہا ہے ، اگر نہیں کیا جا رہا پھرہر با رش کے بعد پا نی ہی کیو ں نظر آ تا ہے ، چلیں کسی ایک علا قے ، یا چند سڑکوں پر پا نی باہر نظر آ ئے یہاں پو رے پو رے شہر زیر آ ب نظر آ تے ہیں ، تما م شہر عا شق مزا ج نہیں کہ ان کو تا لاب جیسا علا قہ بنا کر دے دیا جا ئے تا کہ وہ ما حو ل کے مطا بق شا عر ی کر تے رہیں ۔
تر قی یا فتہ ملک کے با رے ایک اچھی مثا ل سن رکھی ہے ، حقیقت نہ بھی ہو ، پھر بھی اس سے سبق لیا جا ئے یا ایسی مثا ل ضرور قا یم کیے جا ئے ، ہما رے ملک میں ایسا ہو نا بہت ضروری ہے ، مثا ل یہ کہ تر قی یا فتہ ملک میں ایک پل تعمیر کیا گیا جو کچھ ٹا ئم بعد زمیں بو س ہو ا اور مالی نقصان کے ساتھ جا نی نقصان بھی ہو ا ، ایک میٹنگ بلا ئی گئی اس میں پل کی تعمیر میں شا مل تما م ٹیم کو مد عو کیا گیا، وجو ہا ت جا ننے کے بعد تما م ٹیم کو مو ت کے گھا ت اتا را گیا ، اب یہ کہا جا تا ہے کہ اس میٹنگ کے بعد نہ کو ئی پل زمین بو س ہوا اور نہ جا نی ما لی نقصان اس طر ح کے پر وجیکٹ میں ہوا ، ایسی میٹنگ ہما رے ملک میں بھی درکا ر ہے ،
اب بات کر تے ہیں جو اوپر لکھا کہ رستے مختلف اپنا ئے جا رہے ہیں ، سو شل میڈ یا پر ایک پو سٹ پڑ ھی ساتھ تصو یر دیکھی ، خبر کس کی طر ف سے تھی ، ایک ایم این اے جو پہلے کبھی (ن) لیگ بارہ اکتو بر کے بعد مشر ف اور ق کا ساتھی رہا اب پھر (ن) میں ، اس کے قر یبی عز یز ،تعلقات راقم کے بھی مگر قلم کے استعما ل میں ذاتی معا ملہ نہیں رکا وٹ بنے گا ۔ اس نے لکھا تصو یر سا تھ ثبو ت بھی ، صرف خبر پڑ ھتا تو اتنا غو ر نہ کر تا اور نہ ہی اس پر تحر یر لکھتا ، پہلے خبر پھر تصو یر ، علا قے میں سو ئی گیس کے پا ئپ بچھا ئے گے ، اب میٹر وہاں لگا ئے جا نے ہیں ، ایم این اے کے قر یبی دوست نے کہا کہ ایم این اے صا حب کو کچھ شکا یت ملی ہیں علا قے والوں کی طر ف سے لحا ظہ اب ایم این اے صا حب کے فو کل پر سن میٹر لگا نے کے معا ملے کو خو د دیکھیں گے اور جو خرا بی پیدا کر رہا اس کو نو ٹ کیا جا ئے گا ، بہت اچھی بات کہ جو منصو بے شروع ان پر مکمل کا م کیا جا ئے اچھی نگرا نی کیساتھ ، مگر نگرا نی کون کر رہا اب تصو یر ، پچیس ، تیس سال کا نو جوان ، جو نہ کو ئی سر کا ری ملا زم ، صر ف تعلقات کی بنا پر فو کل پر سن بنا اور کسی سر کا ری دفتر میں فا ئل چیک کر رہا ، فا ئل ظا ہر ی سی بات چپراسی تو دیکھا نہیں رہے ہو ں گے ، کو ئی آ فیسر ہی ہو گا ، آ فیسر کی کیا اوقا تَ ؟،ایسا ٖفو کل پر سن ہو پھر علا قے کی مشکلا ت کن بنا پر حل ہو ں گئیں ، کیا ذاتی مفا د دیکھے جا تے ہو ں ، جو ان فو کل پر سن کے مخا لف ہو ں گے ان بے چا روں کی عز ت نفس کے ساتھ کیا تما شہ لگا یا جا تا ہو گا یہ ہم سب پا کستا نی بہتر سے جا نتے ہیں ، کہیں خرا بی نظر آ ئے اس کو ختم کر نا ہو تا یہ نہیں دیکھا جا تا کہ خرا بی تو چھو ٹی سی ، اگر خرا بی چھو ٹی سی اور ہر شہر گا وں محلے میں ہو تو اثر بڑا پڑئے گا ، پھر خرا بی چھو ٹی تو نہ ہو ئی ، سر کا ری ادارے کس لیے ، وہاں پڑ ھے لکھے آ فیسر صرف تنخواہ لینے کے لیے نہیں ان کو ایم این اے صا حب کی طرف سے ہدا یت ہو نی چا ہیے کہ شکا یا ت کو جلد ختم کیا جا ئے ، آ خر کب تک یہ جھو ٹا پروٹو کول ، جھو ٹی انا ، جھو ٹا ڈرامہ ، فو کل پرسن ، کب ہما ری عوا م اس سے نکل پا ئے گی ، بر طا نیہ میں قو می اسملی کا رکن خو د اپنے دفتر میں شکا یا ت کی کا لز سنتا ہے ، اس کا کائی فو کل پرسن نہیں ہوتا ، ڈکھ کہ بات جو فو کل پرسن کا امیج سو شل میڈ یا پر بنا رہے وہ خو د بر طا نیہ جیسے ملک میں کا میا ب بز نس مین ہیں ، مگر پھر ہما رے ملک میں ایسی خرا بی ، ایسی بیما ری خو دہی پھیلا رہے ہیں ، کا میا بی کے اصو ل ہو تے ہیں ، نا کا میا ں وجو ہا ت کی بنا سر چڑ ھتی ہیں ، آ گے وہی بڑ ھتے ہیں جو اصولوں سے منہ نہیں مو ڑتے اور خا میوں کو مٹا تے ہیں ، یہاں تعر یفیں ہی سب کو اچھی لگتی ہیں مگر ،،،،،،،
آ ہینہ دیکھا یا تو برا مان گے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button