تازہ ترینکالم

فارن فنڈڈ ،این جی او مافیا

جرائم پیشہ مافیا کی طرح فارن فنڈڈ این جی اوز کے مافیا کا اپنا ایک نیٹ ورک ہے۔ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ جرائم کی یہ ایک انڈر ورلڈ ہے۔ ڈرگز ٹریفکنگ میں ملوث مافیا کی طرح یہ مافیا بھی بے پناہ وسائل،اسلحہ، اسباب، سرمایہ،نیٹ ورک اور ذرائع رکھنے کے ساتھ ساتھ انتہائی حساس، جدید اور خفیہ مواصلاتی نظام بھی رکھتا ہے۔ دیدہ دلیری، سینہ زوری اور منہ زوری کے باب میں بین الاقوامی شہرت کے حامل ڈالروں میں بھاری بھاری کم اعزازیئے وصول کرنیوالے یہ خواتین و حضرات اپنی مشکوک سرگرمیوں کیلئے جانے کیوں خفیہ تشہیری مہم ہی سے اکثر کام لیتے ہیں۔این جی او مافیا زیر زمیں تشہیری مہم میں گوئبلز کا بھی استاد ہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ رازداری کے تمام ترفول پروف انتظامات کے باوجود خبر لیک ہوجاتی ہے۔ درحقیقت یہ خواتین و حضرات بدترین قسم کے احساسِ کمتری میں مبتلا ہیں۔ 4 خواہشات کی شدید بھوک نے انہیں عدم توازن میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ امریکی و مغربی آقائوں کی خوشنودی، غیر ملکی کرنسی، غیر ملکی شہریت اورسستی شہرت کے بھوکے ہیں۔
ہر بڑے شہر کے پوش  علاقوں میں واقع فارن فنڈڈ این جی اوز کے دفاترمیں دکھائی دینے والے ’’ہائرڈ‘‘ خواتین و حضرات کا طبی معائنہ اور نفسیاتی تجزیہ و تحلیل کیا جائے تو رپورٹس ثابت کریں گی کہ انکی اکثریت فرسٹریٹڈ،  ڈیپریسڈ، ڈرگز ایڈکٹڈاور الکحلک ہے۔ راز ہائے درونِ خانہ سے آگاہ جملہ رندانِ شہر جانتے ہیں کہ اکثر این جی اوز کے دفاتر دینی اور مشرقی اقدار سے باغی حضرات و خواتین کیلئے جولانگاہِ عیش اور شبستان ِعشرت کا مقام رکھتے ہیں۔درحقیقت یہ پلانٹڈ باغی ہیں۔ فارن فنڈڈ این جی اوز کے ان دفاتر میں فکری طورپر بہکے، ذہنی طور پر کھسکے، نظری طور پر بھٹکے اور عقلی طور پر بدکے ہوئے حضرات و خواتین نے اپنی چنڈال چوکڑیاں سجا رکھی ہیں۔ یہاںحیائ، اخلاق، اقدار، ایمان اور شرافت سے بغاوت کا درس دیا جاتا ہے۔ یہاں اسلام اور پاکستان سے نفرت کے الائو روشن کئے جاتے ہیں۔ ان الائوں کو روشن کرنے، رکھنے ،بھڑکانے، دہکانے اور اجالنے کیلئے غیر ملکی ڈونر ایجنسیاں انہیں سالانہ ملین ڈالرز،یوروز، پائونڈز، لیراز، فرانکس اوربھارتی کرنسی کی شکل میں خطیر سرمایہ ایندھن کے طور پر فراہم کرتی ہیں۔ عوام، پارلیمنٹ اور میڈیا کو بتایا جانا چاہیے کہ1984ء سے اب تک ان این جی اوز نے ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور ان گنت فارن ڈونر ایجنسیوں سے کتنے ارب ڈالر بٹورے ہیں۔ نواز دور میں ایک مرتبہ لاہور سے تعلق رکھنے والی این جی او مارکہ خاتون نے چودہ اگست کو واہگہ بارڈر پر بھارتی خفیہ تنظیم را کے ایجنٹوں کیساتھ رتجگے کا پروگرام انائونس کیاتھا۔ان دنوں لاہور کو پاکستان کا نظریاتی دارالحکومت قرار دینے والے سیاستدان اور بولڈ پارلیمنٹیرین خواجہ سعد رفیق نے انتباہ کیا تھاکہ اگر این جی او کا کوئی عہدیدار واہگہ بارڈر پر صحافیوں ،دانشوروں اور فنکاروں کے لبادوں میں ملبوس را کے ایجنٹوں کے ساتھ رت جگے کے نام پر شباب وشراب کی محفل سجانے کیلئے پہنچا تو مسلم لیگ یوتھ ونگ کے نوجوان انکی تواضع اور سواگت اس انداز میں کریں  کرینگے کہ انہیں چھٹی کا دودھ یاد آجائیگا۔ ادھریہ خبر شائع ہوئی اور ادھر مذکورہ خاتون اورانکے دامن برداروںکو سانپ سونگھ گیا۔  14اگست کی شام کے عنابی سائے اوجھل ہو چکے تھے۔ برسرعام ’’دلیرانہ‘‘ اور’’جگردارانہ‘‘ انداز میں مردانہ وار سگار نوشی ، سگریٹ نوشی اور دیگر واہیات ’’ملفوف نوشیوں‘‘ کو روشن خیالی، ترقی پسندی اورکشادہ روی کی علامت گرداننے والی فارن فنڈڈ اور فارن سپانسرڈ این جی اوز کی بعض عہدیداران نے مشرف دورمیں انتظامیہ سے اجازت لئے بغیر اپنے طور پر مخلوط میراتھن ریس کا اہتمام کیا۔انتظامیہ نے حسب قانون اس کا نوٹس لیا اور حسب روایت اسے روکنے کی کوشش کی۔ ہتھی سے اکھڑی اور پٹڑی سے اتری ’’آزادیٔ نسواں‘‘ کی علمبردار این جی اوز کی عہدیداران پولیس کے افسران و اہلکاران کو کبھی خاطر میں نہیں لاتیں۔وہ جب چاہتی ہیں اورجس کے خلاف چاہتی ہیں،جلسہ کرتیں، دھرنا دیتیں، سیمینار کا انعقاد کرتیں،ڈرامہ سٹیج کرتیں، واک کرتیں اور جلوس نکالتی ہیں۔ بس وہ اتنا ہی چاہتی ہیں۔ بیچاریوں کو اپنی نوکری پکی کرنے اور رکھنے کیلئے جانے کیا کیا جتن کرنا پڑتے ہیں۔ پرانی تنخواہ پر کام کرتے کرتے جب یہ تھک جاتی ہیں تو اس میں اضافہ کروانے کیلئے کوئی نیا ناٹک رچاتی ہیں۔ مشرف دور میںمخلوط میراتھن ریس ان کے نزدیک ’’آزادیٔ نسواں‘‘ کا سب سے بڑا استعارہ تھا۔ میراتھن ریس تو محض ایک بہانہ تھا۔ گیم اصل میں کچھ اور تھی۔ ان خواتین کو مخلوط ریس میں شامل ہونے کا اتنا ہی شوق ہوتا تو یہ شام کے اوقات میں جیل روڈ پر واقع ریس کورس کے جوگنگ ٹریک پر اس کی تکمیل اور تسکین کر سکتی تھیں۔ ان کے ہر ’’شو‘‘ اور ’’ایونٹ ‘‘کا مقصد محض نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کیلئے ایک فوٹو سیشن کروا نا ہوتا ہے۔ عام مشاہدہ تو یہی ہے کہ پاکستان مخالف اور اسلام دشمن ممالک ، اداروں اور ایجنسیوں سے لاکھوں ڈالرز وصول کرنے کے بعد وہ اسلام، پاکستان کے ایٹمی پروگرام، اسکے بانی اور معمار ڈاکٹر عبد القدیر خان، پاک افواج، جہاد،  کالاباغ ڈیم ،کشمیری عوام کی جد وجہد آزادی اوردنیا کی سب سے بڑی حقیقی این جی اوزدینی مدارس کیخلاف ڈس انفار میشن پھیلانے میں جت جاتی ہیں۔ بس یہی ان کامحبوب ترین مشغلہ ہے۔پاکستانی عوام کی اکثریت جانتی ہے کہ معدودے چنداین جی اوزسے تعلق رکھنے والے یہ حضرات و خواتین کس طبقے، مکتبہ فکر اور کلاس کی نمائندگی کرتے ہیں۔وہ ان حضرات و خواتین کے حدود اربعہ ، تاریخ، جغرافیہ اور شجرہ ہائے نسب سے بھی بخوبی واقف ہیں۔پہلے یہ رشین روبلز کی جھنکار پر انقلاب کا کتھک ڈانس پیش کیا کرتے تھے اب ڈالروں کی تھاپ پر روشن خیالی کے ’ راک اینڈ رول ‘اور ’’ہپ ہاپ‘‘ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ایک چہرے پر کئی چہرے سجالیتے ہیں لوگ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button