تازہ ترینکالمنسیم الحق زیدی

”فوج کے بغیر ریاستوں کا وجود ممکن نہیں“

تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناطے ”فوج“کی اہمیت کے حوالے سے ”منگول“قبیلے سے بے حد متاثر ہوں اس لیے اپنے اکثر وبیش تر مضامین میں ”منگولوں“کا ذکر کرتا رہتا ہوں ایک نہایت اجڈ اور وحشی قبیلے نے اپنی ”فوج“کی طاقت کی وجہ سے کس طرح ایک فاتح کی حیثیت سے ہر جگہ اپنی دھاگ بیٹھائی کہ دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں اور حکمران ہمہ وقت ان سے خوفزدہ رہتے اور ان سے ٹکرانے کا سوچتے بھی نہیں تھے۔ان لوگوں کو پڑھنے لکھنے میں بالکل بھی دلچسپی نہیں تھی ان کے نزدیک ایک مرد کے لیے جنگ وجدل ہی صرف ضروری کام تھا یہی وجہ ہے کہ منگولوں میں ہمیں کوئی مورخ نہیں ملتا ان کو سب سے زیادہ دلچسپی اپنی فوج اور ااس کی طاقت سے تھی۔دنیا میں کوئی مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی حکمران نے ”فوج“کے بغیر اپنی حاکمیت قائم رکھی یا کوئی حاکم اپنی رعایا کا تحفظ کرسکا ہوں۔کوئی ریاست فوج کے بغیر قائم رہ ہی نہیں سکتی کیونکہ فوج کسی بھی ملک کا سب سے اہم اور لازمی حصہ ہوتا ہے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے جس کے بغیر ملک کا وجود متوازن اور قائم نہیں رہ سکتا یہ بیک وقت اندرونی اوربیرونی خطرات سے نبرد آزما رہتی ہے۔دنیا میں وہ ممالک بدترین شکست سے دورچار ہوئے جنہوں نے اپنی ”فوجی قوت“پر دھیان نہ دیا قوموں کی طاقت ”فوج“ہواکرتی ہے اور جس ملک کی فوج کمزور ہو تی ہے وہ قوم بھی کمزور ہوتی ہے اور اس طرح اگر کوئی قوم کمزور ہو تو طاقتور ملک اس پر چڑھ دوڑتے ہیں۔قوموں اور ملکوں کی سلامتی اور دفاع کے لیے ایک مظبوط،بہادر،منظم فوج کا وجود لازم ہے۔آپ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں عراق،شام،لیبیا،صومالیہ،فلسطین اور افغانستان میں جو کچھ ہوا ہے یا ہو رہا ہے وہ اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ان ممالک پر صرف اس لیے مصیبت آئی کہ ان کے پاس دفاع کے لیے مضبوط ”افواج“نہ تھیں۔عراق ایک کمزور ملک تھا تیل کی دولت کی وجہ سے عراقی خوشخال ضرور تھے مگر انکی دفاعی صلاحیت برائے نام تھی 41برس پہلے اسرائیل نے عراق کے ”اوسیراق“جوہری ری ایکٹرکو آٹھ ایف 16لڑاکا طیاروں کی مدد سے تباہ کیا تھا۔اگر عراق کے پاس ”مضبوط فوج“اور ایٹمی قوت ہوتی تو اسرائیل کبھی اس پر حملہ آور نہ ہوتا اور نہ ہی امریکہ اور اس کے اتحادی عراق کو تباہ وبرباد کرنے کی جرأت وجسارت کرتے اور نہ ہی ایک عظیم لیڈر صدر صدام حسین کو پھانسی ہوتی۔لیبیا مغربی افریقہ میں واقع وہاں کا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے اور دنیا بھر میں 16نمبر پر آتا ہے وہاں 97فیصد سے زائد مسلمان ہیں لیبیا کا شمار دنیا کے ان دس ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں،کرنل قذافی کے دور میں لیبیا نے اقتصادی،معاشی،تعلیمی اور معاشی سطح پر بے پناہ ترقی کی تھی،عوام کو ہر طرح کی سہولیات حاصل تھی 25ایسی سہولیات میسر تھیں جو اب کبھی ممکن نہیں بنائی جاسکیں گی۔کرنل قذافی نے عالمی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کردیا تو آج قذافی اور لیبیا کہاں ہے؟؟؟اگر لیبیا کے پاس مضبوط عسکری قوت ہوتی تو حالات یکسر مختلف ہوتے۔وہاں جنگ کے دوران ہزاروں افراد مصر تیونس نقل مکانی کرچکے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں لیبیا کے شہری ناگزیر حالات کے باوجود بحیرہ روم پارکرکے یورپی ممالک کارخ کررہے ہیں جہاں وہ غلاموں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،شام کے بعد سب سے زیادہ ہجرت کرنے والوں کی تعداد لیبیائی عوام کی ہے۔امریکہ اور یورپ نے ملکر افغانستان جیسے کمزو ر ملک کو بھی تباہ کردیا۔افغانستان کے پاس کون سے ایٹمی ہتھیار تھے؟جن کی وجہ سے وہاں کی نہتی عوام پر قیامت آئی اصل میں امریکہ اور یورپ افغانستان میں عسکری قوت نہ ہونے کے بارے میں جانتے تھے۔دنیا میں یہی اصول رائج ہے کہ ہر طاقتور ہر قسم کے حقوق کا مالک ہوتا ہے اور وہ جو بھی کرتا ہے سب ٹھیک ہوتا ہے۔جن ملکوں کے پاس مضبوط فوجی دفاعی نظام نہیں ہوتے وہاں کیا حال ہوتا ہے؟یہ بات عراق،شام،لیبیا،صومالیہ،فلسطین،افغانستان کی عوا م سے جاکر پوچھیں۔افغانستان کی جنگ اصل میں امریکہ اور یورپ اور اس کے اتحادیوں کا پاکستان پر حملہ کرنا تھا براستہ افغانستان اور اس کی نشان دہی سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل ؒ بار بار ان الفاظ میں کیا کرتے تھے 9/11بہانہ افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ۔امریکہ جانتا تھا کہ افغانی مزاحمت کی پوزیشن میں نہیں سو افغانستان میں جنگ اور وہاں پر قبضہ کرنے کا مقصد پورے خطے پر نظر رکھنا اور بالخصوص پاکستان دوست ملک ”چین“کو آگے بڑھنے سے روکنا تھا۔پاکستان ایک مضبوط،بہادر اور منظم فوج اور ایٹمی قوت کا مالک ملک ہے اس بات کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بخوبی علم ہے دوسری بات یہ چین جیسے مضبوط دفاعی قوت رکھنے والے ملک سے بھی جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہ تھے اور اس سارے حالات میں سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوا اور اس بات میں بھی کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات،سانحات میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہوئی ہے۔افواج پاک دنیا کی بہترین فوج ہے اس نے نہایت کم وقت میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور یہی وجہ ہے کہ آج الحمدللہ!ہمارے دشمنوں پر ہماری فوج کا رعب ودبدبہ اس قدر غالب ہے کہ وہ پاکستان سے کسی فوجی مہم جوئی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ان تاریخی حقائق اور مثالوں سے یہ ثابت ہواکہ اگر دنیا میں عزت وقار اور آزادی سے جینا ہے تو آپ پاس ایک مضبوط ”عسکری قوت‘کا ہونا لازم ہے جو آپ کو اندرونی وبیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔آج چند مفاد پرست سیاستدانوں اور ان کے حواریوں نے اس سیاست دانوں کے دلفریب نعروں،وعدوں،دعوؤں میں آکر اپنی ہی افواج کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔پاک فوج کے خلاف جس قسم کا زہریلا اور پر فتن پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور جس طرح فتنہ خیز زبان استعمال کی جارہی ہے وہ ہر محب وطن کے لیے اذیت اور تکلیف کا باعث ہے۔افسوس کہ وطن عزیز کو قائد اعظم ؒ کے بعد کوئی مخلص اور بے لوث،محب وطن قیادت نصیب نہ ہوسکی جو ملک وقوم کا مفاد سوچتی ہمارے ہاں ہر سیاسی جماعت نے ملک وقوم کو ہمیشہ اپنا یرغمال ہی بنایا اور ہمیشہ اپنے مفادات،ترجیحات کی خاطر ملک وقوم کی عزت وآبرو کو گروی رکھا اور پھر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ہمیشہ اپنی عوام کے اندر اپنی ہی فوج کے کردار کو مشکوک بنایا ہے۔کیونکہ یہ مفاد پرست سیاست دان یہ جانتے ہیں کہ کسی بھی قوم پر کاری ضرب لگانے کا پہلا طریقہ ہے کہ اس ملک کی فوج کو اس قوم کی نظروں میں اتنا مشکوک بنادو کہ وہ اپنے ہی محافظوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔وطن عزیز میں قدرتی آفات سے لیکر دشمنوں کی گولیوں کے سامنے جو سینہ سپر ہوتی ہے وہ ”افواج پاک“ہے اگر سیلاب،طوفان،زلزلہ آجائے تو سب سے پہلے جو مدد کے لیے میدان عمل میں ہوتی ہے وہ ”افواج پاک“ہے۔سرحدوں کی نگہبان یہ فوج سرحدوں کے اندر دہشت گرد ی کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل یہ فوج ملک میں دنگاوفساد کا خطرہ ہو تو بحالی امن کے لیے یہ فوج،کرونا وباء میں سب سے اہم اور کلیدی کردار افواج پاک کا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ کہ افواج پاک نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی بلکہ نظریاتی سرحدوں کی بھی محافظ ہے۔خطے میں قیام امن کے لیے افواج پاک نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑی ہے بلاشبہ وہ خطے کی سب سے بڑی جنگ تھی جس میں دھرتی کے ان سپوتوں نے اپنی جانوں کے نذرانے بھی دئیے ہیں۔اس وقت جو وطن میں امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے جواستحکام پیدا ہوا ہے اس کا سہرا ہماری مسلح افواج کے سر ہے یہ بات تو پاکستان کا ہر فرد جانتا ہے کہ پاکستان عزت،جان ومال ہر قسم کی قربانیاں دیکر حاصل کیا گیا ہے لیکن بقائے پاکستان کے لیے ہماری افواج بے مثال اور مثبت کردار نبھارہی ہے۔دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جو اپنی افواج پر سالانہ اربوں،کھربوں ڈالر ز خرچ کرتے ہیں اور ایسے ممالک بھی ہیں جس کی فوجی تاریخ صدیوں پر محیط ہے مگر بات جب جذبے اور معیار کی ہوتو توسرفہرست افواج پاک کانام آتا ہے جسے ابھی معروض وجود میں آئے صرف 75سال ہوئے ہیں۔محدود وسائل کے باوجود بھی ہماری فوج کاشمار ہر لحاظ سے صف اول کی افواج میں ہوتا ہے بعض ایسے اعزازات بھی ہیں جو دنیا کی تاریخ میں صرف پاکستانی فوج کے پاس ہیں۔اقوام متحدہ سے سب سے زیادہ میڈلز پاکستانی فوج نے حاصل کیے ہیں اس پاک فوج نے عالمی امن میں بھی اپنا کردار خوب نبھایا ہے۔امن مشن میں دستے فراہم کرنے والی افواج میں پاکستانی فوج دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر جبکہ افرادی قوت کے لحاظ سے دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے آج اس وقت ملک ایسی نازک صورت حال سے گزر رہا ہے۔وہاں پر چند اپنے ہی افواج پاک کے خلاف سازشوں کا حصہ بن کردشمنوں کے آلہ کار ہونے کاکام سرانجام دے رہے ہیں جوکہ سراسر غداری کے زمرے میں آتا ہے۔باعث شرم بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے محسنوں کی قربانیوں کو فراموش کرکے اپنی آنے والی نسلوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں کہ ہم ”اپنے مفادات کے لیے اپنا ضمیر بھی فروخت کردیتے ہیں اور اپنے محافظوں کو غدار بھی کہہ دیتے ہیں“اس وقت ضرورت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کو یکسر فراموش کرکے ملکی وقومی سا لمیت کے لیے ایک گنبد خضری کے مقدس رنگ والے سبزہلالی پرچم تلے اکھٹے ہوجائیں اور اس دھرتی کے سپاہی بن کر 1965کی جنگ والا جذبہ بیدار کرکے ملک دشمن قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔یاد رکھیے گا کہ ملک ہے تو ہم ہیں اور ”فوج“ہے تو یہ ملک ہے آئیے آج ہر طرح سے اپنی افواج کاساتھ اور افواج پاک کے خلاف بولنے والوں کو منہ توڑ جواب دیں۔پاکستان زندہ باد۔۔پاک فوج پائندہ باد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!