تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

فوجی عدالتوں کا قیام – ایک مُستحسن قدم

imran farooqپارلیمانی پارٹیوں کے طویل اجلاس کے دوران دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے مرتب کیجانے والی سفارشات اور مزید اقدامات پر غور و خوض کیا گیا ۔ چیف آف آرمی سٹاف  جنرل راحیل شریف اور ڈی ۔جی آئی ۔ ایس۔ آئی میجر جنرل رضوان اختر نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر ایم کیو ایم ۔ پی پی پی اور اے این پی نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ۔ بعد ازاں تمام پارٹیوں نے متفقہ طور پر فوجی عدالتوں کے قیام پر اپنی اپنی رضامندی ظاہر کر دی ۔ یہ ایک مستحسن قدم ہے ۔ دہشت گردی میں ملوث مجرموں کے کیسز (Cases) عرصۂ دراز سے مختلف وجوہات کی بناء پر عدالتوں میں التوا کا شکار ہیں ۔ اب فوجی عدالتوں میں سپیڈی ٹرائلز (Speedy Trials) کے ذریعہ اُنہیں کیفرِ کردار تک پُہنچا یا جا سکے گا ۔  فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے مدت کا عرصہ دو سال ہے ۔ جبکہ دہشت گردی کا عنصرئیت ہم پچھلے ستائیس سالوں سے پال رہے ہیں ۔ کیا فوجی عدالتیں دو سال کے قلیل عرصہ میں اس صورتحال پر قابو پالیں گئیں ؟ پا کستان کے طول و عرض میں سانحۂ پشاور کی وجہ سے فضا ء سوگوار ہے ۔ ہر کوئی دہشت گردی کے خاتمہ کا متمنی ہے ۔ لہذا اِ ن فوجی عدالتوں کو دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی جائے ۔ دوسری طرف اِن عدالتوں کے قیام سے ہمارے موجودہ جوڈیشل سسٹم (Judicial System) کی ساکھ کے بارے میں بھی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں ۔ ہمارا موجودہ عدالتی نظام عام آدمی کو انصاف دینے میں یکسر ناکام ہو چکا ہے ۔ مقتدر افراد کا گروہ دھن اور دھونس کی بنیاد پر فیصلے حاصل کر لیتا ہے ۔ حکومت کو صحتمند معاشرہ کے قیام کے لیے اِس سلسلہ میں فوری اور ضروری اقداما ت اُٹھانے پڑیں گے ۔ ورنہ موجودہ عدالتی نظام اپنا اعتماد کھو دیگا ۔
فوجی عدالتوں کے قیام سے ایک اور سوال پیدا ہو تا ہے کہ ایسے رجسٹرڈ مقدمات جن میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں اُن کا مستقبل کیا ہو گا ؟ سانحۂ ماڈل ٹاؤن جیسے مقدما ت کیا گُل کھلائیں گے ؟ برسوں پر محیط دہشت گردی نے ہمارے معاشرہ میں ایک مائنڈ سیٹ (Mind Set) کو جنم دیا ہے ۔ اِس مائنڈ سیٹ کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں ۔ مختلف دینی جماعتیں اور مخصوص مکتبۂ فکر کے لوگ اِسکی ترویج میں ممدّ و معاون ثابت ہوئے ہیں ۔ صرف فوجی عدالتیں ہی ریلیف (Relief) فراہم نہیں کر سکتیں بلکہ اس مائنڈ سیٹ کے خاتمہ کے لیے فکری محاذ پر پوری تندہی سے اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کی خواہش ہے کہ پاکستانی فوج کو افغانستان کے اندر اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے ۔ ہمیں ہوش مندی سے کام لیتے ہوئے اپنے دامن کو مزید داغدار نہیں ہونے دینا چاہیئے۔ مرحوم ضیا ء الحق صاحب کے دور کا فلسفہ ہے کہ روس پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی چاہتا ہے ، اپنی موت آپ مر چکا ہے ۔ آج روس کی شکست کو چوبیس سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے روس یا آزاد مسلم ریاستوں نے کبھی بھی ہماری بندر گاہوں (Ports) کو استعما ل کرنے کا عندیہ نہیں دیا ۔ حالانکہ آجکل روس سے ہمارے باہمی تعلقات خوشگوار ہیں ۔ روس ہمیں فوجی ہیلی کاپٹر ز دے رہا ہے ۔ اور سٹیل مِل کراچی کی اَپ گریڈنگ (Upgrading) میں مدد دینے کے لیے تیار ہے ۔ موجودہ صورتحال میں ہمیں اپنے مفادات کا تحفظ ضرور کرنا چاہیئے لیکن افغانستان کے اندرونی معاملات سے عملی طور پر دور رہنا چاہیئے ۔ تاکہ دہشت گردی کوجنم دینے والے عوامل کی بیخ کنی ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں  قومی ہاکی ٹیم ورلڈ کپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کیلئے لندن روانہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker