رپورٹسسائنس و آئی ٹی

غیر قانونی سمز کی فروخت : فرنچائز مالکان نے ملبہ کمپنیوں پر ڈال دیا

جعلی اور غیر قانونی سمز کی فروخت کے بارےمیں اکثر خبریں آتی رہتی ہیں اوراب تو حد ہی ہوگئی ، ایک شخص نے وزیر داخلہ رحمان ملک کے نام پر سم نکلوا لی۔

میڈیا کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ، وزیر داخلہ کی ذاتی معلومات فراہم کرنے اور سم کا اجراء کرنے پر نادرا، سی ایل پی سی اور فرنچائز سٹاف سمیت 2 درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ رحمان ملک کے پاس تو یہ تمام ذراع موجود ہیں کہ وہ اس کام میں ملوث تمام افراد کو الٹا لٹکا دیں مگر جب ایک عام پاکستانی کے ساتھ یہی ماجرا پیش آتا ہے تو وہ انصاف کے لیے کہاں جائے؟

یہ بھی پڑھیں  بچہ پیدائش سے قبل ہی بچہ آپ کے ہاتھوں میں

اطلاعات کے مطابق مختلف فرنچائز مالکان کی جانب سےاعلی حکومتی عہدہداران کو ایک کھلا خط لکھا گیا ہے جس میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ غیر قانونی سمز کی فروخت میں ملوث ہیں مگر اسکی تمام تر ذمہ داری کمپنی مالکان پر ہے جو ان پر سیلز ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں جسکی وجہ سے مجبوراً انہیں یہ غیر قانونی کام کرنا پڑتا ہے ۔ فرنچائز مالکان کے مطابق اگر وہ یہ کام نہ کریں تو انکا کمیشن ضبط کر لیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان میں بچوں کی ابتدائی نشوو نما کے لیے ہالینڈکا منفرد اقدام

ہم اس حوالے سے آپ لوگو ں کو اس خط کی کاپی دکھا رہے ہیں ، لیکن اس سے متعلق چند سوالات ذہن میں اٹھتے ہیں:

  1. ایسے معاملات پرکیوں صرف تب ہی توجہ کی جاتی ہے جب یہ معاملہ کسی اہم شخصیت کے ساتھ پیش آتا ہے۔
  2. اگر فرنچائز مالکان کی جانب سے لگائے گئے الزامات درست ہیں تو وہ اتنے سال خاموش کیوں رہے اور رحمان ملک والا واقعہ ہونے کے بعد ہی کیوں بولے۔
  3. اگر یہ الزامات درست ہیں تو پی ٹی اے کو انکا علم کیونکر نہ ہوا ، اور اگر انہیں اسکا علم تھا تو انہوں نے چپ کیوں سادھ رکھی۔
فرنچائز مالکان کی جانب سے بھیجے جانے والے خط کا عکس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker