تازہ ترینکالم

جنرل کیانی کی باتیں کی کےلیے وارنگ ؟

میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے۔۔۔جنرل جہانگیر آرمی کے چیف تھے۔۔۔انہوں نے کالج میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔۔۔اورکہا’’ نظام جمہوریت پر چیک انیڈ بیلنس ہونا چاہئے اور اسکے لیے قومی سلامتی کونسل کا قیام ضروری ہے۔۔۔جنرل جہاگیر کرامت کو لینے کے دینے پڑ گے۔۔۔نتیجہ ان کے استعفی کی صورت میں برآمد ہوا۔۔۔آج ایک بار پھر آرمی چیف نے جی ایچ کیو کے اڈیٹوریم ہال میںؓ فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ کسی فرد یا ادارے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملکی مفاد کا حتمی تعین کر سکے اداروں کو کمزور کرنا، آئین سے تجاوز اور ہمیں صحیح راستے سے ہٹا دیگا۔ ملکی مفاد کا تعین اتفاق رائے سے ممکن ہے۔۔۔افواہوں کی بنیاد پر سازشوں کے تانے بانے بننا قبول نہیں ۔ لہذ ا بہتر ہوگا ہم اپنے فیصلے قانون پر چھوڑ دیں‘‘ آرمی چیف جنرل پرویز کیانی نے مذید کہا ’’ فوجی قیادت اور سپاہ میں رشتے کو تقسیم کرنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔۔۔ کسی شخص کو مجرم قرار دے کر ادارے کو الزام دینا درست نہیں ، ہمیں یہ حق نہیں کہ اپنے طور پر کسی کو بھی چاہئے وہ سویلین ہو یا فوجی مجرم ٹھہرا دیں ‘‘ جنرل کیانی کے اس واضح پیغام پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔۔۔خود کو عقل کل خیال کرنے والے کالم نگار اور تجزیہ نگار اپنا اپنا زور قلم دکھا رہے ہیں اور جوہر بھی۔۔۔ اورثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ آرمی چیف کے خطاب کا مرکز و محور کو ن صاحب یا ادارہ تھا۔۔۔؟کوئی لکھ رہا تھا کہ جنرل کیانی کا شارہ میڈیا کی طرف تھا کوئی اس کے تانے بانے ایوان صدر سے جوڑ نے کی کوشش میں ہے۔۔۔آرمی چیف کے خطاب کو سمجھنے کے لیے ان کے خطاب سے ایک گھنٹہ قبل چیف جسٹس کے خطاب کو دیکھ لیا جائے اور آرمی چیف کے خطاب کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے بھی ذہن میں رکھا جائے تو ’’آرمی چیف کے مرکز و محور کو تلاش کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔اور ایبٹ آباد اپریشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے ریمارکس ’’کوئی غلط فہمی میں نہ رہے،عدلیہ کمزور نہیں ہے۔ہماری پوزیشن واضح ہے سپریم کورٹ فیصلے کرنے کا حتمی ادارہ ہے۔معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں،کل دیکھ لیا فوج عدلیہ کا کتنا احترام کرتی ہے ‘‘نے اگر کسی کو شک و شبہ تھا تو وہ بھی دور ہو گیا ہے کہ آرمی چیف کے خطاب کا مرکز و محور کون تھا ۔۔۔نیویارک ٹائمز نے آرمی چیف اور چیف جسٹس افتخار محمد چودہری کے بیانات کے بارے میں لکھا ’’آرمی چیف اور چیف جسٹس کے یکے بعد دیگرے انتہائی سخت بیانات دینے کے بعد پاکستان میں دو طاقتور اداروں عدلیہ اور فوج کے درمیان تناؤ عوامی سطح پر سامنے آگیا ہے فوج اور عدلیہ کے درمیان یہ تناؤ پاکستان میں سول و فوجی قیادت کے مقابلے میں حیر روائتی ہے۔‘‘ اخبار نیویارک کے مطابق آرمی چیف کے بیان کے کئی نکات بظاہر سپریم کورٹ پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔کیونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں عوامی معاملات میں فوجی مداخلت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے‘‘ کہا جا رہا ہے ۔افواج پاکستان اور سپریم کورٹ کے مابین کافی عرصہ سے سرد جنگ جا ری تھی اور فوجی حلقوں میں سوچ بچار زیر بحث تھا اور سپریم کورٹ کے طرز عمل پر تشویش پائی جا رہی تھی جو بالاآخر جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زبان پر آ ہی گئی۔۔۔قصہ مختصر ’’جتنے منہ اتنی باتیں ‘‘ جبکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو نہ آرمی چیف آئین کے خلاف جانے کی بات کر رہے ہیں اور نہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کا سوچ رہے ہیں۔۔۔اگر انہوں نے ایسا کرنا ہوتا تو ماضی میں بہت سے ’’ سازگار حالات کے ساتھ ‘‘ مواقع انہیں دستیاب تھے مگر انہوں نے آئین کی پاسداری اور پیروی کرنے کو ہی ترجیح دینا مناسب سمجھا ہے ۔۔۔اس حوالے سے آرمی چیف کے بیان سے ’’ جمہوریت پر کسی شب خون مارنے‘‘ کی سازش سے تعبیر کرنا کسی طور بھی درست نہ ہے۔۔۔اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ کی گنجائش موجود نہیں ہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ تین چار سالوں میں بڑے تلخ فیصلے دئیے ہیں ان فیصلوں کی زدمیں قومی سلامتی جیسے حساس معاملات بھی آئے ۔ لیکن اس ساری پریکٹس میں سپریم کورٹ کی ایسی خوائش اور تمنا کبھی بھی نہیں رہی کہ وہ کسی ادارے پر اپنی دھونس بٹھائے ،سپریم کورٹ بھی ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کی خواہاں ہے۔۔۔اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ عدلیہ نے بعض حساس معاملات میں فوج کے نقطہ نظر کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی وہ لائق تھی بلکہ بعض اوقات ایسے ایسے ریمارکس دئیے گے کہ مجھ سمیت بڑوں بڑوں کو حیرانی ہوئی۔۔۔جس کا شائد افواج کو رنج ضرور ہو گا۔یہ حورت حال کافی عرصہ سے افواج کے اندر چل رہی تھی۔۔۔ عدلیہ آزادی کے بعد خود کو اس ملک کی بالا دست قوت بننے کے لیے آگے بڑھتی گئی ۔۔۔شائد انہیں افواج پاکستان کی جانب سے ایسے کسی رد عمل کی توقع ہی نہیں تھی۔۔۔برحال دونوں خود کو عقل کل سمجھنے والے تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں نے اپنے تئیں یہ کوشش ضرور کی کہ ادفواج پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان جیسے دو اداروں کو آپس میں لڑا دیا جائے۔۔۔جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان آئین سے متجاوز ہوگی اور نہ ہی افواج پاکستان جمہوری نظام کی بساط کو لپیٹنے کی ’’سوچ ‘‘پر عمل پیرا ہوگی اور یہ جمہوری نظام یو نہی چلتا رہے گا۔۔۔مجھے ان دونوں اداروں کے خلاف آئین جانے کا خدشہ اس لیے نہیں ہے کہ جن ممالک میں جمہوریت اور جمہوری ادارے مضبوطی سے ہمکنار ہوئے ہیں وہاں بھی شروع شروع ایسی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔۔۔بر حال عوام عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان کے نقطہ نظر سے منتفق ہے اور قومی سلامتی کے استحکام اور ملک مفاد کے تعین کے سلسلے میں ان کے نقطہ نظر سے اختلاف رائے رکھتے ہیں کیونکہ اس حوالے سے آرمی چیف کے نقطہ نظرکو عوام حقائق کے زیادہ قریب تصور کرتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کی نظریں برازیل اور سری لنکا میں چیف جسٹس صاحبان کے مواخذہ پر بھی لگی ہوئی ہیں۔۔۔ امید ہے کہ پاکستان میں انتشار دیکھنے کے خوائشمندوں کو اس سلسلے میں ناکامی سے دوچار ہونا پڑے گا اسکی وجہ یہ ہے کہ افواج پاکستان اور سپریم کورٹ میں بات اس قدر نہیں بڑھے گی کہ جنگ جدل کا سما ں بندھ جائے۔۔۔لوگ اتنا ضرور سوچیں گے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودہری کو موجودہ صورت حال میں ٹینکوں اور مزائل کی بات کو ملکی استحکام حوالے سے کرنے کی کیا ضرورت درپیش آن پڑی تھی ؟۔۔۔ بقول نیویارک ٹائمز تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستان میں فوری طور پر فوج کی بغاوت کا کوئی امکان نہیں ہے ،البتہ آئندہ انتخابات کے قریب یہ تناؤ پاکستان میں ’’طاقت کے مرکز‘‘ سمجھے جانے والے اداروں کے ایک نئی سمت کا جانب پیشرفت ضرور سمجھا جا سکتا ہے‘‘۔۔

یہ بھی پڑھیں  معروف موسیقاراوراداکارہ شبنم کے شوہر روبن گھوش انتقال کر گئے

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1.  kahani achchi hi aor  facts  per mubni hi …….Humarey tma chief sahiban ( Armi chief, Chief Justice of Pakistan aor president of Islamic Republic  democratic Pakistan ) ko souch samjh ker actions leiney chahiyen

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker